Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کا ہمنشین فرشتہ بولا یہ ہے جو میرے پاس حاضر ہے۔ حکم ہوگا تم دونوں  جہنم میں  ڈال دو ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو۔ جو بھلائی سے بہت روکنے والا حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا۔ جس نے اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ٹھہرایا تم دونوں  اسے سخت عذاب میں  ڈالو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس کاساتھی فرشتہ کہے گا:یہ ہے جو میرے پاس تیار موجود ہے۔(حکم ہوگا) تم دونوں  ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کوجہنم میں  ڈال دو۔ جو بھلائی سے بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، شک کرنے والاہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ٹھہرایا تم دونوں  اسے سخت عذاب میں  ڈال دو۔

{وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ: اور اس کاساتھی فرشتہ کہے گا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ کافر کا ساتھی فرشتہ جو اس کے اعمال لکھنے والا اور اس پر گواہی دینے والا ہے، کہے گا:یہ اس کا اعمال نامہ ہے جو میرے پاس تیار موجود ہے۔ (اس اعمال نامے کے مطابق) اللہ تعالیٰ دو فرشتوں  کوحکم فرمائے گا:تم دونوں  ہر اس شخص کو جہنم میں  ڈال دوجو بڑا ناشکرا، ہٹ دھرم، بھلائی سے بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا اور دین میں شک کرنے والاہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ٹھہرایا،تو تم دونوں  اسے سخت عذاب میں  ڈال دو۔( خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۲۳-۲۶ ،  ۴ / ۱۷۷ ،  مدارک ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۲۳-۲۶ ،  ص۱۱۶۲ ،  ملتقطاً)

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ(۲۷)          قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ(۲۸)مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اس کے ساتھی شیطان نے کہا ہمارے رب میں  نے اُسے سرکش نہ کیا ہاں  یہ آپ ہی دُور کی گمراہی میں  تھا۔فرمائے گا میرے پاس نہ جھگڑو میں  تمہیں  پہلے ہی عذاب کا ڈر سنا چکا تھا۔ میرے یہاں  بات بدلتی نہیں  اور نہ میں  بندوں  پر ظلم کروں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس کا ساتھی شیطان کہے گا: اے ہمارے رب! میں  نے اسے سرکش نہیں  بنایا تھا،ہاں  یہ خود ہی دور کی گمراہی میں  تھا۔ اللہ فرمائے گا: میرے پاس نہ جھگڑو ،میں  پہلے ہی تمہاری طرف عذاب کی وعید بھیج چکا تھا۔ میرے ہاں  بات بدلتی نہیں  اور نہ میں  بندوں  پر ظلم کرنے والا ہوں ۔

{قَالَ قَرِیْنُهٗ: اس کے ساتھی شیطان نے کہا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت کے دن کافرکوجہنم میں  ڈالنے کا حکم دیا جائے گاتو اس وقت وہ کہے گا: اے ہمارے رب !مجھے اس شیطان نے وَرْغَلایا اور کبھی بھی راہِ راست پرچلنے نہ دیا ،ا س لئے میں  بے قصور ہوں ۔اس پروہ شیطان جو دنیا میں  اس پر مُسلَّط تھا، کہے گا: اے ہمارے رب!میں  نے اسے کبھی بھی سر کشی پر مجبورنہیں  کیاتھا بلکہ میں  تواسے فقط مشورہ دیتااوریہ اس پرعمل کرتا رہا اور گمراہی کی عمیق وادیوں  میں  جاگرا،لہٰذا میں  اس سے بَری ہوں  ۔ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: میرے پاس نہ جھگڑو کیونکہ جزا کے مقام اور حساب کی جگہ میں  جھگڑا کچھ نفع نہیں  دے گا اورمیں  نے پہلے ہی اپنی کتابوں  میں  اور اپنے رسولوں  کی زبان سے یہ وعید بھیج دی تھی کہ جو سرکشی کرے گا اسے میں  عذاب دوں  گا اور ا س وعید کے بعد میں  نے تمہارے لئے کوئی حجت باقی نہیں  چھوڑی اور یاد رکھو کہ میرے ہاں  بات بدلتی نہیں  اس لئے تم یہ طمع نہ کرو کہ میں  نے کافروں  کو جہنم میں  داخل کرنے کی جو وعید سنائی تھی اسے میں  بدل دوں  گااور نہ ہی میری یہ شان ہے کہ میں  کسی کو جرم کے بغیر سزا دے کراس پر ظلم کروں ۔( خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۲۷-۲۹ ،  ۴ / ۱۷۷ ،  مدارک ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۲۷-۲۹ ،  ص۱۱۶۲-۱۱۶۳ ،  ملتقطاً)

{مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ: میرے ہاں  بات بدلتی نہیں ۔} یاد رہے کہ دعا اور نیک کام سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقدیرِ مُبْرَم حقیقی نہیں  بدلتی بلکہ وہ تبدیلی ہمارے علم کے لحاظ سے ہوتی ہے، لہٰذا اس آیت میں اور حدیث میں  کہ دعا سے قضا بدل جاتی ہے، تعارُض نہیں  ۔

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: جس دن ہم جہنم سے فرمائیں  گے کیا تو بھر گئی وہ عرض کرے گی کچھ اَور زیادہ ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن ہم جہنم سے فرمائیں  گے: کیا تو بھر گئی؟ وہ عرض کرے گی: کیاکچھ اور زیادہ ہے؟

{یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ: جس دن ہم جہنم سے فرمائیں  گے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم کے سامنے اس دن کا ذکر فرمائیں  جس دن ہم جہنم سے فرمائیں  گے: کیا تو ان لوگوں  سے بھر گئی جنہیں  تجھ میں  ڈالا گیا ہے ؟ وہ بڑے ادب سے عرض کرے گی: ابھی نہیں  بھری بلکہ مجھ میں  اور بھی گنجائش ہے۔آیت کے آخری حصے کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں  کہ اب مجھ میں  گنجائش باقی نہیں  بلکہ میں  بھر چکی ہوں ،نیزیاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہنم سے وعدہ فرمایا ہے کہ اسے جنوں  اور انسانوں  سے بھردے گا، اس وعدہ کی تحقیق کے لئے جہنم سے یہ سوال فرمایا جائے گا۔( روح البیان ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۹ / ۱۲۶-۱۲۷ ،  مدارک ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ص۱۱۶۳)

            یہاں  جہنم کے بھرنے سے متعلق ایک حدیث ِپاک ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جہنم میں  مسلسل (جنّوں  اور انسانوں  کو) ڈالا جائے گا اور جہنم عرض کرے گی :کیا کچھ اور ہیں  ؟حتّٰی کہ ربُّ الْعِزَّت اس میں  (اپنی شان کے لائق) اپنا قدم رکھ دے گا،پھر جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے سے مل جائے گا اور وہ عرض کرے گی:بس بس،تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم!اور جنت میں  مسلسل جگہ زیادہ رہے گی ،پھر اللہ تعالیٰ ایک مخلوق پیدا فرمائے گا جسے جنت کے اضافی حصے میں  رکھے گا۔( مسلم ،  کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا ،  باب النّار یدخلہا الجبّارون... الخ ،  ص۱۵۲۵ ،  الحدیث: ۳۸(۲۸۴۸))

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور پاس لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں  کے کہ ان سے دُور نہ ہوگی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جنت پرہیزگاروں  کے قریب لائی جائے گی ، ان سے دور نہ ہوگی۔

{وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ: اور جنت پرہیزگاروں  کے قریب لائی جائے گی ، ان سے دور نہ ہوگی۔} کافروں  کاحال بیان کرنے کے بعد اب مؤمنین کاحال بیان کیا



Total Pages: 250

Go To