Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

’’ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ‘‘(واقعہ:۶۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم نے تم میں  موت مقرر کردی۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

’’كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِ- ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ‘‘(عنکبوت:۵۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہر جان کو موت کا مز ہ چکھنا ہے پھر ہماری ہی طرف تم پھیرے جاؤگے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

’’ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ‘‘(النساء:۷۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم جہاں  کہیں  بھی ہو گے موت تمہیں  ضرور پکڑ لے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں  میں  ہو۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

’’وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةًؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ‘‘(انعام:۶۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی اپنے بندوں  پرغالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں  تک کہ جب تم میں  کسی کو موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں  کرتے۔

اور ارشاد فرماتا ہے:

’’قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‘‘(جمعہ:۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: بیشک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور تمہیں  ملنے والی ہے پھر تم اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو ہر غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں  تمہارے اعمال بتادے گا۔

            جب اللہ تعالیٰ نے ہم میں  موت مقرر کر دی اور ہر جان نے موت کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے اور بندہ چاہے مضبوط ترین مکانات میں  چلا جائے وہاں  بھی موت اسے ضرور پکڑ لے گی اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے روح قبض کرنے میں  کوئی کوتاہی نہیں  کرتے تو پھر موت سے غافل رہنا،نزع کی حالت میں  طاری ہونے والی سختیوں  کی فکر نہ کرنا اور موت کے بعد برزخ اور حشر کی زندگی کے لئے کوئی تیاری نہ کرنا انتہائی نادانی ہے،اے انسان!

یاد رکھ ہر آن آخر موت ہے               بن تو مت انجان آخر موت ہے

ملکِ فانی میں  فنا ہر شے کو ہے                سن لگا کر کان آخر موت ہے

بارہا علمی تجھے سمجھا چکے                      مان یا مت مان، آخر موت ہے

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ(۲۰)وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآىٕقٌ وَّ شَهِیْدٌ(۲۱)لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور صُور پھونکا گیایہ ہے وعدۂ عذاب کا دن۔اور ہر جان یوں  حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ۔بیشک تو اس سے غفلت میں  تھا تو ہم نے تجھ پر سے پردہ اُٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور صُور میں  پھونک ماری جائے گی ،یہ عذاب کی وعید کادن ہے۔ اور ہر جان یوں  حاضر ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا۔ بیشک تو اس سے غفلت میں  تھا تو ہم نے تجھ سے تیراپردہ اٹھادیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔

{وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ: اور صُور میں  پھونک ماری جائے گی۔} موت کا ذکر کرنے کے بعد اب یہاں  سے قیامت واقع ہونے کا ذکر کیا جا رہا ہے ،چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن دوسری بار صور میں  پھونک ماری جائے گی تاکہ مرجانے والے دوبارہ زندہ ہو جائیں  (اور اس وقت فرمایا جائے گا) یہ وہ دن ہے جس میں  کافروں  کو عذاب دینے کا اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا۔( خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۴ / ۱۷۶)

{وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ: اور ہر جان حاضر ہوگی۔} یہاں  سے قیامت کے ہَولناک واقعات اور حالات بیان کئے جا رہے ہیں  ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر جان یوں  حاضر ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ چَلانے والا ہوگا جواسے میدانِ محشر کی طرف ہانکے گا اور ایک گواہ ہوگا جو اس کے عملوں کی گواہی دے گا۔

            یہاں  آیت میں  ہانکنے والے اور گواہ سے مراد کون ہے ،اس کے بارے میں  حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  : ہانکنے والا فرشتہ ہوگا اور گواہ خود اس کا اپنا نفس ہو گا۔امام ضحاک کا قول ہے کہ ہانکنے والا فرشتہ ہے اور گواہ اپنے بدن کے اَعضاء ہاتھ پاؤں  وغیرہ ہوں  گے ۔ حضرتِ عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے برسرِ منبر فرمایا کہ ’’ہانکنے والا بھی فرشتہ ہے اور گواہ بھی فرشتہ ہے۔( خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۴ / ۱۷۶ ،  جمل ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۷ / ۲۶۵ ،  ملتقطاً)

{لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا: بیشک تو اس سے غفلت میں  تھا۔} یعنی قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا:بیشک تو دنیا میں  اس قیامت کا منکر تھا تو آج ہم نے تجھ سے وہ پردہ اٹھادیا جو تیرے دل ، کانوں  اور آنکھوں  پر پڑا ہواتھا اور اس کی وجہ سے آج تیری نگاہ تیز ہے کہ تو ان چیزوں  کو دیکھ رہا ہے جن کا دنیا میں  انکار کرتا تھا۔( خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۴ / ۱۷۷)

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ(۲۳) اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ(۲۴) مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙﹰ(۲۵)الَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ(۲۶)

 



Total Pages: 250

Go To