Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

قدرت اور علم کا حال بیان فرما کر ان کے خلاف دلائل قائم فرمائے اور اب یہاں  سے انہیں  بتایا جاتا ہے کہ وہ جس چیز کا انکار کرتے ہیں  وہ عنقریب اُن کی موت اور قیامت کے وقت پیش آنے والی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ موت کی سختی حق کے ساتھ آگئی جس کی شدت انسان پر غشی طاری کر دیتی اور ا س کی عقل پر غالب آ جاتی ہے اور سکرات کی حالت میں  مرنے والے سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ موت ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔

          نوٹ:یہاں  آیت میں  موت کی سختی آنے کو ماضی کے صیغہ کے ساتھ بیان فرما کر اس کا قریب ہونا ظاہر کیا گیا ہے اورحق سے مراد حقیقی طور پرموت آنا ہے یااس سے مراد آخرت کا معاملہ ہے جس کا انسان خود معائنہ کرتا ہے ،یااس سے مراد انجامِ کار سعادت اور شقاوت ہے۔( ابو سعود ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۵ / ۶۲۱ ،  خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۴ / ۱۷۶ ،  ملتقطاً)

          نوٹ:یہاں  اگرچہ بطورِ خاص مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والوں  کا رد ہے البتہ عمومی طور پر اس میں  ہر مسلمان کے لئے بھی نصیحت ہے کیونکہ اسے بھی موت ضرور آنی ہے اوراسے بھی نزع کی سختیوں  کا سامنا ہو گا، لہٰذا اسے چاہئے کہ اپنی موت اور اس وقت کے حالات کو سامنے رکھے اور اپنی آخرت کو بہتر سے بہتر بنانے کی خوب کوشش کرے اور کسی حال میں  بھی اپنی موت سے غافل نہ ہو۔

نزع کی تکلیف کا حال:

            یہاں  آیت میں  موت کی سختی کا ذکر ہوا ،اس کے بارے میں  امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں: نزع اس تکلیف کا نام ہے جو صرف روح پر اترتی ہے اور تمام اَعضاء کو گھیرلیتی ہے حتّٰی کہ بدن میں  روح کے جتنے اَجزاء ہیں  ان سب کو درد محسوس ہوتا ہے۔اگر کسی شخص کو کانٹا چبھ جائے تو اس سے پہنچنے والا درد رُوح کے صرف اس جز کو پہنچتا ہے جو اس عُضْوْ سے ملا ہوا ہے جس میں  کانٹا چبھتا ہے اور (اس کے مقابلے میں ) جلنے کا اثر زیادہ ہوتا ہے کیونکہ آگ کے اجزاء بدن کے تمام اَجزاء میں  سَرایَت کر جاتے ہیں  جس کی وجہ سے جلنے والے عُضْوْ کا کوئی ظاہری اور باطنی جز آگ سے محفوظ نہیں  رہتا،اس لئے گوشت کے تمام اَجزا ء میں  پھیلے ہوئے روح کے اجزاء جلنے کی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں  جبکہ زخم صرف اسی جگہ کو پہنچتا ہے جس تک (کانٹا اور تلوار وغیرہ کا) لوہا پہنچا اس لئے جلنے کی تکلیف زیادہ اور زخم کی تکلیف کم ہوتی ہے اورنزع کی تکلیف نفسِ روح پر حملہ آور ہوتی اور تمام اَعضاء کو گھیر لیتی ہے کیونکہ ہر رگ ، ہر پٹھے، بدن کے ہر حصے، ہر چوٹ ،ہر بال کی جڑ اور کھال کے نیچے سے حتّٰی کہ سر کی چوٹی سے قدم تک ہر جگہ سے روح کو نکالا جاتا ہے، اس لئے تم اس کے کَرب اور تکلیف کا حال نہ پوچھو، حتّٰی کہ بزرگوں  نے فرمایا :موت، تلوار کی مار، آرے کے چیرنے اور قینچی کی کاٹ سے زیادہ سخت ہے کیونکہ بدن کو تلوار سے کاٹا جائے تو صرف اس لیے تکلیف ہوتی ہے کہ بدن کا روح سے تعلق ہے تو جب صرف روح ہی کو صدمہ پہنچے تو کس قدر تکلیف ہوگی۔

            نیزجب کسی شخص کو مارا جاتا ہے تو وہ مدد بھی مانگ سکتا ہے اور چیخ بھی سکتا ہے کیونکہ اس کے دل اور زبان میں  طاقت موجود ہوتی ہے لیکن مرنے والے کی آواز اور چیخ و پکار سخت تکلیف کی وجہ سے ختم ہوجاتی ہے کیونکہ روح نکلنے کی بے انتہاء تکلیف ہوتی ہے اور یہ دل پر سوار ہوکر پوری قوت کو ختم کردیتی ہے، مرنے والے کے اعضاء کمزور پڑجاتے اوراس میں  مدد مانگنے کی طاقت باقی نہیں  رہتی۔ یہ تکلیف عقل کو بھی ڈھانپ لیتی ،اوسان خطا کردیتی اور زبان کوبولنے سے روک دیتی ہے۔ موت کے وقت انسان چاہتا ہے کہ روئے، چلائے اور مدد مانگے، لیکن وہ ایسا نہیں  کرسکتا اور اگر کچھ قوت باقی رہتی بھی ہے تو روح نکلنے کے وقت اس کے حلق اور سینے سے غَرغَرہ کی آواز سنائی دیتی ہے، اس کا رنگ بدل کر مٹیالا ہوجاتا ہے گویا اس سے وہی مٹی ظاہر ہوئی جس سے وہ بنا تھا اور جو اس کی اصل فطرت ہے، اس کی رگیں  کھینچ لی جاتی ہیں  حتّٰی کہ آنکھوں  کے ڈھیلے پلکوں  کی طرف اٹھ جاتے ہیں ، ہونٹ سکڑ جاتے ہیں  ، زبان اپنی جڑ کی طرف کھنچ جاتی ہے اور انگلیاں  سبز ہوجاتی (اور ٹھنڈی پڑجاتی) ہیں  تو ایسے بدن کا حال نہ پوچھو جس کی ہر رگ کھینچ لی گئی ہو (ذرا غور کرو کہ) ایک رگ کھینچی جانے سے سخت تکلیف ہوتی ہے تواس وقت کیا حال ہوگا جب درد میں  مبتلا روح کو بھی کھینچ لیا جائے اور کسی ایک رگ سے نہیں  بلکہ تمام رگوں  سے اسے کھینچا جاتا ہے،پھر ایک ایک کر کے ہر عضو میں  موت واقع ہوتی ہے ، پہلے اس کے قدم ٹھنڈے پڑتے ہیں  پھر پنڈلیاں  اور پھر رانیں  ٹھنڈی پڑ جاتی ہیں  اور ہر عضو میں  نئی سختی اور شدت پیدا ہوتی ہے حتّٰی کہ گلے تک نوبت پہنچتی ہے اوراس وقت اس کی نظر دنیا اور دنیا والوں  سے پھر جاتی ہے ، اس پر توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور اسے حسرت و ندامت گھیرلیتی ہے۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ ،  الباب الثالث ،  ۵ / ۲۰۷-۲۰۸)

یاالہٰی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو           جب پڑے مشکل شہِ مشکل کُشا کا ساتھ ہو

یاالہٰی بھول جاؤں  نزع کی تکلیف کو        شادءِدیدارِ حسنِ مصطفٰیٰ کا ساتھ ہو

            درج ذیل اَشعار میں  بھی موت سے غافل ہر انسان کے لئے بڑی عبرت ہے،چنانچہ ایک شاعر لکھتے ہیں :

اَجل نے نہ کِسریٰ ہی چھوڑا نہ دارا          اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا

ہر اک لے کے کیا کیا نہ حسرت سدھارا   پڑا رہ گیا سب یونہی ٹھاٹھ سارا

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں  ہے              یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں  ہے

وہ ہے عیش و عشرت کا کوئی محل بھی       جہاں  تاک میں  ہر گھڑی ہو اجل بھی

بس اب اپنے اس جہل سے تو نکل بھی     یہ جینے کا انداز اپنا بدل بھی

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں  ہے              یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں  ہے

موت سے فرار ممکن نہیں :

            زیرِ تفسیر آیت کے آخری حصے سے معلوم ہو اکہ موت سے فرار ممکن نہیں  بلکہ یہ بہر صورت آ کر ہی رہے گی۔ موت کے بارے میں  ایک اورمقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

 



Total Pages: 250

Go To