Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

انتقال کے بعد اولیاءِکرام کی زندگی کے5    واقعات:

            علامہ جلا ل الدین سیوطی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے شرح الصُّدُور میں  انتقال کے بعد اولیائے کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِمْ  کے بارے میں  چند مُستَنَد رِوایات لکھی ہیں  اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے انہیں  فتاویٰ رضویہ میں  بھی نقل فرمایا ہے ،ان میں  سے5روایات درج ذیل ہیں :

(1)…مشہور ولی حضرت ابو سعید خراز رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :میں  مکہ مُعَظَّمَہ میں  تھا، بابِ بنی شیبہ پر ایک جوان مردہ پڑا پایا، جب میں  نے اس کی طرف نظر کی تو مجھے دیکھ مسکرایا اورکہا: اے ابو سعید!کیاتم نہیں  جانتے کہ اللہ  تعالیٰ کے پیارے زندہ ہیں  اگر چہ مرجائیں ، وہ تو یہی ایک گھر سے دوسرے گھر میں  منتقل کئے جاتے ہیں ۔( شرح الصدور ،  باب زیارۃ القبور وعلم الموتی بزوارہم... الخ ،  تنبیہ ،  ص۲۰۷)

(2)…حضرت سیدی ابو علی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں  نے ایک فقیر کو قبر میں  اتارا، جب کفن کھولا توان کا سرخاک پر رکھ دیا کہ اللہ  تعالیٰ ان کی غُربَت پر رحم کرے۔ فقیر نے آنکھیں  کھول دیں  اور مجھ سے فرمایا:اے ابو علی!تم مجھے اس کے سامنے ذلیل کرتے ہو جو میرے ناز اٹھا تا ہے۔میں  نے عرض کی:اے میرے سردار!کیا موت کے بعد زندگی ہے؟ آپ نے فرمایا :میں  زندہ ہوں ، اور خدا کا ہر پیارا زندہ ہے، بیشک وہ وجاہت وعزت جو مجھے قیامت کے دن ملے گی اس سے میں  تیری مدد کروں  گا۔( شرح الصدور ،  باب زیارۃ القبور وعلم الموتی بزوارہم... الخ ،  تنبیہ ،  ص۲۰۸، ملتقطاً)

(3)… حضرت ابراہیم بن شیبان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :میرا ایک جوان مرید فوت ہوگیاتو مجھے سخت صدمہ ہوا، جب میں  اسے غسل دینے کے لئے بیٹھاتوگھبراہٹ میں  بائیں  طرف سے ابتداء کی،اس جوان مرید نے وہ کروٹ ہٹا کر اپنی دائیں  کروٹ میری طرف کر دی۔ میں  نے کہا:اے بیٹے!تو سچا ہے، مجھ سے غلطی ہوئی۔( شرح الصدور ،  باب زیارۃ القبور وعلم الموتی بزوارہم... الخ ،  تنبیہ ،  ص۲۰۸)

(4)… حضرت ابو یعقو ب سوسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :میں  نے ایک مرید کو نہلانے کے لیے تختے پر لِٹایا تو اس نے میرا انگوٹھا پکڑلیا۔ میں  نے اس سے کہا:اے بیٹے!میرا ہاتھ چھوڑ دے ،بے شک میں  جانتا ہوں  کہ تو مردہ نہیں ، یہ تو صرف مکان بدلنا ہے،اس لئے میرا ہاتھ چھوڑدے ۔( شرح الصدور ،  باب زیارۃ القبور وعلم الموتی بزوارہم... الخ ،  تنبیہ ،  ص۲۰۸)

(5)… حضرت ابو یعقو ب سوسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :مکہ مُعَظَّمَہ میں  ایک مرید نے مجھ سے کہا:اے میرے پیر ومرشد!میں  کل ظہر کے وقت مرجاؤں  گا، حضرت ،ایک اشرفی لیں ، آدھی میں  میرا دفن اور آدھی میں  میرا کفن کریں ۔ جب دوسرا دن ہوا اور ظہر کا وقت آیا تو ،مذکورہ مرید نے آ کر طواف کیا، پھر کعبے سے ہٹ کر لیٹا اور انتقال کر گیا،جب میں  نے اسے قبر میں  اتارا تو ا س نے آنکھیں  کھول دیں ۔ میں  نے کہا:کیا موت کے بعدزندگی ہے ؟ اس نے کہا:میں  زندہ ہوں  اور اللہ تعالیٰ کا ہر دوست زندہ ہے۔( شرح الصدور ،  باب زیارۃ القبور وعلم الموتی بزوارہم... الخ ،  تنبیہ ،  ص۲۰۸ ،  ملتقطاً)

لوحِ محفوظ اللہ تعالیٰ کے علم کے لئے نہیں :

            آیت نمبر3کے آخر میں  بیان ہو اکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے،اس کتاب سے لوحِ محفوظ مراد ہے اور یاد رہے کہ لوحِ محفوظ اللہ تعالیٰ کے علم کے لئے نہیں  ہے کیونکہ لوحِ محفوظ میں  تو سب کچھ خود اللہ کے علم سے ہے لہٰذا لوحِ محفوظ خاص بندوں  کو علم دینے کے لئے ہے، لہٰذاجن فرشتوں  کے پاس یا جن انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیائِ عظام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِمْ کے علم میں  وہ کتاب ہے انہیں  ان سب باتوں  کی خبر ہے ۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ انہوں  نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک مضطرب بے ثبات بات میں  ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ انہوں  نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک ایسی بات میں  ہیں  جسے قرار نہیں ۔

{بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ: بلکہ انہوں  نے حق کو جھٹلایا۔} اس آیت میں  حق سے مراد نبوت ہے جس کے ساتھ روشن معجزات ہیں  یا اس سے مراد قرآنِ مجیدہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ نے صرف تعجب ہی نہیں  کیابلکہ ا س سے کہیں  زیادہ خطرناک کام بھی کیا کہ جب ان کے پاس حق آیا تو انہوں  نے سوچے سمجھے بغیر اسے جھٹلا دیا اور وہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور قرآنِ مجید سے متعلق ایک ایسی بات میں  پڑے ہوئے ہیں  جسے قرار نہیں  اور وہ یہ ہے کہ کبھی نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شاعر ،کبھی جادو گر اور کبھی کاہِن کہتے ہیں  ،اسی طرح قرآنِ پاک کو کبھی شعر،کبھی جادو اور کبھی کہانَت کہتے ہیں  ،کسی ایک بات پر قائم نہیں  رہتے۔( روح البیان ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۹ / ۱۰۵-۱۰۶ ،  مدارک ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ص۱۱۶۰ ،  جلالین ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ص۴۲۹ ،  ملتقطاً)

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا انہوں  نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ہم نے اُسے کیسا بنایا اور سنوارا اور اس میں  کہیں  رخنہ نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا انہوں  نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ہم نے اسے کیسے بنایا اور سجایا اور اس میں  کہیں  کوئی شگاف نہیں ۔

{اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ: تو کیا انہوں  نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا۔} اس آیت سے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کے بارے میں  دلائل دئیے جا رہے ہیں  ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کافروں  نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کیا اُ س وقت کیا انہوں  نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا جس کی تخلیق میں  ہماری قدرت کے آثار نمایاں  ہیں  تاکہ وہ اس بات میں  غور کرتے کہ ہم نے اسے کیسے اونچا اور بڑا بنایا اورستونوں  کے بغیر بلند کیااوراسے روشن ستاروں  سے سجایا اور اس میں  کہیں  کوئی شگاف نہیں ،کہیں  کوئی عیب اور کمی نہیں  (تو جو رب تعالیٰ اتنے بڑے آسمان کو بنا سکتا ہے اور ظاہری اسباب کے بغیر اسے بلند کر سکتا اوراس میں  ستاروں  کو روشن کر سکتا ہے اور اتنے طویل و عریض آسمان کو کسی



Total Pages: 250

Go To