Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

انہیں  توبہ کی ہدایت دے کر ان پر مہربانی فرمانے والا ہے۔( خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۴ / ۱۷۳ ،  مدارک ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ص۱۱۵۷ ،  ملتقطاً)

            یہاں  آیت کی مناسبت سے دو باتیں  یاد رہیں ، ایک یہ کہ محض زبانی اقرار جس کے ساتھ قلبی تصدیق نہ ہو معتبر نہیں  اوراس سے آدمی مومن نہیں  ہوتا۔ دوسری یہ کہ اطاعت و فرمانبرداری ،اسلام کے لغوی معنی ہیں  اور شرعی معنی میں  اسلام اور ایمان ایک ہیں ،ان میں  کوئی فرق نہیں ۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: ایمان والے تو وہی ہیں  جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک نہ کیا اور اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں  جہاد کیا وہی سچے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ایمان والے تو وہی ہیں  جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں  نے شک نہ کیا اور اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں  جہاد کیا وہی سچے ہیں ۔

{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ: ایمان والے تو وہی ہیں  جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔} ایمان کا دعویٰ کرنے والے دیہاتیوں  سے فرمایا گیا : اگر تم ایمان لانا چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ ایمان والے تو وہی ہیں  جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے ،پھر انہوں  نے اپنے دین و ایمان میں شک نہ کیا اور اپنی جان اور مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں  جہاد کیا اوریہی لوگ ایمان کے دعوے میں  سچے ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۱۰ / ۱۱۷ ،  خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۴ / ۱۷۴ ،  ملتقطاً)

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کیا تم اللہ کو اپنا دین بتاتے ہو اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں  میں  اور جو کچھ زمین میں  ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: کیا تم اللہ کو اپنا دین بتاتے ہوحالانکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں  میں  اور جو کچھ زمین میں  ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

{قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ: تم فرماؤ: کیا تم اللہ کو اپنا دین بتاتے ہو۔} شانِ نزول: جب ا س سے پہلے کی دونوں  آیتیں  نازل ہوئیں  تو دیہاتیوں  نے قَسمیں  کھا کر کہا کہ ہم مخلص مومن ہیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خطاب فرمایا گیا:اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں : کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی خبر دے رہے ہوحالانکہ جو کچھ آسمانوں  اور زمینوں  میں  موجود ہے اسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں  ہے اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے،مومن کا ایمان بھی اسے معلوم ہے اور منافق کا نفاق بھی اس کے علم میں  ہے،تمہارے بتانے اور خبر دینے کی حاجت نہیں ۔( خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۴ / ۱۷۴ ،  مدارک ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ص۱۱۵۸ ،  ملتقطاً)

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْاؕ-قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْۚ-بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب وہ تم پر احسان جتاتے ہیں  کہ مسلمان ہوگئے تم فرماؤ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ  تم پر احسان رکھتا ہے کہ اُس نے تمہیں  اسلام کی ہدایت کی اگر تم سچے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے محبوب! وہ تم پر احسان جتاتے ہیں  کہ وہ مسلمان ہوگئے۔ تم فرماؤ: اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ  تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں  اسلام کی ہدایت دی اگر تم سچے ہو۔

{یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا: اے محبوب! وہ تم پر احسان جتاتے ہیں  کہ وہ مسلمان ہوگئے۔} ارشاد فرمایاکہ اے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! یہ لوگ آپ پراحسان جتاتے ہیں  کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں  توآپ ان کی یہ غلط فہمی دورکردیں اورانہیں  بتادیں کہ تم نے اسلام لاکرمجھ پرکوئی احسان نہیں  کیابلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پراحسان کیاکہ تم کو ایمان کی دولت دیدی ورنہ کافرمرتے توجہنم میں  جاتے اورہمیشہ کے لیے عذاب کے حقدارٹھہرتے ۔

 مخلوق میں  سے کسی کا حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر احسان نہیں :

            اس سے معلوم ہوا کہ کسی مخلوق کا حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر احسان نہیں  بلکہ سب پر حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا احسان ہے کہ ہمیں  جو نعمتیں  ملیں  وہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے طفیل ہی ملیں  ،اگر تمام جہان کافر ہو جائے تو حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کچھ نہیں  بگڑتا اور اگر تمام دنیا مومن و مُتَّقی ہو جائے تو حضورِ اَنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کچھ احسان نہیں ،اگر ہم سورج سے نورلے لیں توہمارااحسان سورج پر نہیں  بلکہ اس کا ہم پر احسان ہے ۔

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اللہ جانتا ہے آسمانوں  اور زمین کے سب غیب اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ آسمانوں  اور زمین کے سب غیب جانتا ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

{اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: بیشک اللہ آسمانوں  اور زمین کے سب غیب جانتا ہے۔} یعنی جو علیم و خبیر تمام آسمانو ں  کے غُیوب جانتا ہے اس پر تمہارے دل کے حالات کیسے چھپ سکتے ہیں  اس کی بارگاہ میں  اپنا ایمان ظاہر کر نا عَبَث ہے۔یاد رہے کہ ہم گنہگار وں  کا یہ عرض کرنا کہ اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، ہم گنہگار ہیں  یا اے مولیٰ !ہم تیرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے ،یہ اللہ تعالیٰ پر ظاہر کرنے کے لئے نہیں  بلکہ اس سے بھیک مانگنے کے لئے ہے لہٰذا یہ آیت ان آیتوں  کے خلاف نہیں  جن میں  اس کے اظہار کا ذکرہے ۔

سورۂ قٓ

سورۂ قٓ کا تعارف

 



Total Pages: 250

Go To