Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(1)…غیبت جس طرح زبان سے ہوتی ہے (اسی طرح) فعل سے بھی ہوتی ہے، صراحت کے ساتھ برائی کی جائے یا تعریض و کنایہ کے ساتھ ہو سب صورتیں  حرام ہیں ، برائی کو جس نَوعِیَّت سے سمجھا ئے گا سب غیبت میں  داخل ہے۔ تعریض کی یہ صورت ہے کہ کسی کے ذکر کرتے وقت یہ کہا کہ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہ میں  ایسا نہیں ‘‘ جس کا یہ مطلب ہوا کہ وہ ایسا ہے۔ کسی کی برائی لکھ دی یہ بھی غیبت ہے ،سر وغیرہ کی حرکت بھی غیبت ہوسکتی ہے، مثلاً کسی کی خوبیوں  کا تذکرہ تھا اس نے سر کے اشارہ سے یہ بتانا چاہا کہ اس میں  جو کچھ برائیاں  ہیں  ان سے تم واقف نہیں ، ہونٹوں  اور آنکھوں  اور بھوؤں  اور زبان یا ہاتھ کے اشارہ سے بھی غیبت ہوسکتی ہے۔

(2)…ایک صورت غیبت کی نقل ہے مثلاً کسی لنگڑے کی نقل کرے اور لنگڑا کر چلے، یا جس چال سے کوئی چلتا ہے اس کی نقل اتاری جائے یہ بھی غیبت ہے، بلکہ زبان سے کہہ دینے سے یہ زیادہ برا ہے کیونکہ نقل کرنے میں  پوری تصویر کشی اور بات کو سمجھانا پایا جاتا ہے (جب) کہ کہنے میں  وہ بات نہیں  ہوتی۔( بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ۳ / ۵۳۶)

(3)…جس طرح زندہ آدمی کی غیبت ہوسکتی ہے مرے ہوئے مسلمان کو برائی کے ساتھ یاد کرنا بھی غیبت ہے، جبکہ وہ صورتیں  نہ ہوں  جن میں  عیوب کا بیان کرنا غیبت میں  داخل نہیں ۔ مسلم کی غیبت جس طرح حرام ہے کافر ذمی کی بھی ناجائز ہے کہ ان کے حقوق بھی مسلم کی طرح ہیں  (جبکہ) کافر حربی کی برائی کرنا غیبت نہیں ۔

(4)…کسی کی برائی اس کے سامنے کرنا اگر غیبت میں  داخل نہ بھی ہو جبکہ غیبت میں  پیٹھ پیچھے برائی کرنا معتبر ہو مگر یہ اس سے بڑھ کر حرام ہے کیونکہ غیبت میں  جو وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ایذاء ِمسلم ہے وہ یہاں  بدرجہ اَولی پائی جاتی ہے غیبت میں  تو یہ اِحتمال ہے کہ اسے اطلاع ملے یا نہ ملے اگر اسے اطلاع نہ ہوئی تو ایذا بھی نہ ہوئی، مگر احتمالِ ایذا کو یہاں  ایذا قرار دے کر شرعِ مُطَہَّر نے حرام کیا اور مونھ پر اس کی مذمت کرنا تو حقیقۃً ایذا ہے پھر یہ کیوں  حرام نہ ہو۔

            صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :بعض لوگوں  سے جب کہا جاتا ہے کہ تم فلاں  کی غیبت کیوں  کرتے ہو، وہ نہایت دلیری کے ساتھ یہ کہتے ہیں  مجھے اس کا ڈر اپڑا ہے چلو میں  اس کے مونھ پر یہ باتیں  کہہ دوں  گا، ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا غیبت و حرام ہے اور مونھ پر کہو گے تو یہ دوسرا حرام ہوگا، اگر تم اس کے سامنے کہنے کی جرأت رکھتے ہو تو اس کی وجہ سے غیبت حلال نہیں  ہوگی۔

(5)…جس کے سامنے کسی کی غیبت کی جائے اسے لازم ہے کہ زبان سے انکار کردے مثلاً کہدے کہ میرے سامنے اس کی برائی نہ کرو۔ اگر زبان سے انکار کرنے میں  اس کو خوف و اندیشہ ہے تو دل سے اسے برا جانے اور اگر ممکن ہو تو یہ شخص جس کے سامنے برائی کی جارہی ہے وہاں  سے اٹھ جائے یا اس بات کو کاٹ کر کوئی دوسری بات شروع کردے ایسا نہ کرنے میں  سننے والا بھی گناہ گار ہوگا، غیبت کا سننے والا بھی غیبت کرنے والے کے حکم میں  ہے۔( بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ۳ / ۵۳۷-۵۳۸)

غیبت سے توبہ اورمعافی سے متعلق5شرعی مسائل:

            یہاں  غیبت سے توبہ اور معافی سے متعلق 5شرعی مسائل بھی ملاحظہ ہوں

(1)…جس کی غیبت کی اگر اس کو اس کی خبر ہوگئی تو اس سے معافی مانگنی ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے سامنے یہ کہے کہ میں  نے تمھاری اس اس طرح غیبت یا برائی کی تم معاف کردو، اس سے معاف کرائے اور توبہ کرے تب اس سے بریٔ الذمہ ہوگا اور اگر اس کو خبر نہ ہوئی ہو تو توبہ اور ندامت کافی ہے۔

(2)…جس کی غیبت کی ہے اسے خبر نہ ہوئی اور اس نے توبہ کرلی اس کے بعد اسے خبر ملی کہ فلاں  نے میری غیبت کی ہے آیا اس کی توبہ صحیح ہے یا نہیں ؟ اس میں  علما کے دوقول ہیں  ایک قول یہ ہے کہ وہ توبہ صحیح ہے اللہ تعالیٰ دونوں  کی مغفرت فرمادے گا، جس نے غیبت کی اس کی مغفرت توبہ سے ہوئی اور جس کی غیبت کی گئی اس کو جو تکلیف پہنچی اور اس نے درگزر کیا، اس وجہ سے اس کی مغفرت ہوجائے گی۔

            اور بعض علما یہ فرماتے ہیں  کہ اس کی توبہ مُعَلَّق رہے گی اگر وہ شخص جس کی غیبت ہوئی خبر پہنچنے سے پہلے ہی مرگیا تو توبہ صحیح ہے اور توبہ کے بعد اسے خبر پہنچ گئی تو صحیح نہیں ، جب تک اس سے معاف نہ کرائے۔ بہتان کی صورت میں  توبہ کرنا اور معافی مانگنا ضروری ہے بلکہ جن کے سامنے بہتان باندھا ہے ان کے پاس جا کر یہ کہنا ضرور ہے کہ میں  نے جھوٹ کہا تھا جو فلاں  پر میں  نے بہتان باندھا تھا۔

(3)…معافی مانگنے میں  یہ ضرور ہے کہ غیبت کے مقابل میں  اس کی ثنائِ حسن (اچھی تعریف) کرے اور اس کے ساتھ اظہارِ محبت کرے کہ اس کے دل سے یہ بات جاتی رہے اور فرض کرو اس نے زبان سے معاف کردیا مگر اس کا دل اس سے خوش نہ ہوا تو اس کا معافی مانگنا اور اظہارِ محبت کرنا غیبت کی برائی کے مقابل ہوجائے گا اور آخرت میں  مؤاخَذہ نہ ہوگا۔

(4)…اس نے معافی مانگی اور اس نے معاف کردیا مگر اس نے سچائی اور خلوصِ دل سے معافی نہیں  مانگی تھی محض ظاہری اور نمائشی یہ معافی تھی، تو ہوسکتا ہے کہ آخرت میں  مُؤاخذہ ہو، کیونکہ اس نے یہ سمجھ کر معاف کیا تھا کہ یہ خلوص کے ساتھ معافی مانگ رہا ہے۔

(5)…امام غزالی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ یہ فرماتے ہیں ، کہ جس کی غیبت کی وہ مرگیا یا کہیں  غائب ہوگیا اس سے کیونکر معافی مانگے یہ معاملہ بہت دشوار ہوگیا، اس کو چاہیے کہ نیک کام کی کثرت کرے تاکہ اگر اس کی نیکیاں  غیبت کے بدلے میں  اسے دے دی جائیں ، جب بھی اس کے پاس نیکیاں  باقی رہ جائیں ۔( بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ۳ / ۵۳۸-۵۳۹)

          نوٹ:غیبت سے متعلق مزید شرعی مسائل جاننے کیلئے،بہار شریعت جلد3ص532تا539کا مطالعہ فرمائیں ۔([1])

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگو! ہم نے تمہیں  ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں  شاخیں  اور قبیلے کیا کہ آپس میں  پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں  تم میں  زیادہ عزت والا وہ جو تم میں  زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔

 



[1] ۔۔۔ غیبت سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب ’’غیبت کی تباہ کاریاں‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ بہت مفید ہے۔



Total Pages: 250

Go To