Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اسی لئے دین ِاسلام نے ان تما م اَفعال سے بچنے کا حکم دیا ہے جن سے کسی انسان کی عزت و حرمت پامال ہوتی ہو،ان افعال میں  سے ایک فعل کسی کے عیب تلاش کرنا اور اسے دوسروں  کے سامنے بیان کر دینا ہے جس کا انسانوں  کی عزت و حرمت ختم کرنے میں  بہت بڑ اکردار ہے ،اس وجہ سے جہاں  اس شخص کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا عیب لوگوں  کے سامنے ظاہر ہو جائے وہیں  وہ شخص بھی لوگوں  کی نفرت اور ملامت کا سامنا کرتا ہے جو عیب تلاش کرنے اور انہیں  ظاہر کرنے میں  لگا رہتا ہے ،یوں  عیب تلاش کرنے والے اور جس کا عیب بیان کیا جائے ، دونو ں کی عزت و حرمت چلی جاتی ہے ،اس لئے دین ِاسلام نے عیبوں  کی تلاش میں  رہنے اور انہیں  لوگوں  کے سامنے شرعی اجازت کے بغیر بیان کرنے سے منع کیا اور اس سے باز نہ آنے والوں  کو سخت وعیدیں  سنائیں  تاکہ ان وعیدوں  سے ڈر کر لوگ اس بُرے فعل سے با ز آ جائیں  اور سب کی عزت و حرمت کی حفاظت ہو۔

{وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔} اس آیت میں  تیسرا حکم یہ دیا گیا کہ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں  کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مَرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، یقینا یہ تمہیں  ناپسند ہوگا ،تو پھر مسلمان بھائی کی غیبت بھی تمہیں گوارا نہ ہونی چاہئے کیونکہ اس کو پیٹھ پیچھے برا کہنا اس کے مرنے کے بعد اس کا گوشت کھانے کی مثل ہے کیونکہ جس طرح کسی کا گوشت کاٹنے سے اس کو ایذا ہوتی ہے اسی طرح اس کی بدگوئی کرنے سے اسے قلبی تکلیف ہوتی ہے اور درحقیقت عزت وآبرُو گوشت سے زیادہ پیاری ہے۔شانِ نزول: جب سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جہاد کے لئے روانہ ہوتے اور سفر فرماتے تو ہر دو مال داروں کے ساتھ ایک غریب مسلمان کو کردیتے کہ وہ غریب اُن کی خدمت کرے اور وہ اسے کھلائیں  پلائیں ،یوں  ہر ایک کاکا م چلے،چنانچہ اسی دستور کے مطابق حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ دو آدمیوں  کے ساتھ کئے گئے تھے، ایک روز وہ سوگئے اور کھانا تیار نہ کرسکے تو اُن دونوں  نے انہیں  کھانا طلب کرنے کے لئے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  بھیجا، حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کچن کے خادم حضرتِ اُسامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ تھے، اُن کے پاس کھانے میں  سے کچھ باقی رہا نہ تھا،اس لئے انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں  ہے۔ حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے یہی آکر کہہ دیا تو اُن دونوں  رفیقوں  نے کہا : اُسامہ (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ) نے بخل کیا ۔جب وہ حضورِانور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا’’ میں  تمہارے منہ میں  گوشت کی رنگت دیکھتا ہوں ۔ اُنہوں نے عرض کی:ہم نے گوشت کھایا ہی نہیں ۔ ارشادفرمایا’’ تم نے غیبت کی اور جو مسلمان کی غیبت کرے اُس نے مسلمان کا گوشت کھایا۔( خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۴ / ۱۷۰-۱۷۱ملخصاً)

غیبت اور ا س کی مذمت سے متعلق4اَحادیث:

            اس آیت میں  غیبت کرنے سے منع کیا گیا اور ایک مثال کے ذریعے اس کی شَناعَت اور برائی کو بیان فرمایاگیا ہے ، کثیر اَحادیث میں  بھی اس کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ،یہاں  ان میں  سے 4اَحادیث ملاحظہ ہوں        

(1)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کیاتم جانتے ہوکہ غیبت کیاچیزہے ؟ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے عرض کی :اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی زیادہ جانتے ہیں  ۔ارشادفرمایا’’تم اپنے بھائی کاوہ عیب بیان کروجس کے ذکرکووہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کی گئی :اس کے بارے میں  آپ کی کیا رائے ہے کہ اگرمیرے بھائی میں  وہ عیب موجود ہوجسے میں  بیان کرتا ہوں ۔ ارشاد فرمایا:تم جوعیب بیان کررہے ہو اگروہ اس میں  موجود ہوجب ہی تووہ غیبت ہے  اوراگراس میں  وہ عیب نہیں  ہے توپھروہ بہتان ہے۔( مسلم ،  کتاب البرّ والصّلۃ والآداب ،  باب تحریم الغیبۃ ،  ص۱۳۹۷ ،  الحدیث: ۷۰(۲۵۸۹))

(2)… حضرت ابوسعید اور حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’ غیبت زِنا سے بھی زیادہ سخت چیز ہے۔ لوگوں  نے عرض کی، یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، غیبت زنا سے زیادہ سخت کیسے ہے؟ارشاد فرمایا ’’مرد زِنا کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبو ل فرماتا ہے اور غیبت کرنے والے کی تب تک مغفرت نہ ہوگی جب تک وہ معاف نہ کردے جس کی غیبت کی ہے۔( شعب الایمان ،  الرابع والاربعون من شعب الایمان... الخ ،  فصل فیما ورد... الخ ،  ۵ / ۳۰۶ ،  الحدیث: ۶۷۴۱)

(3)… حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب مجھے معراج کرائی گئی تومیں  ایسے لوگوں  کے پاس سے گزراجن کے ناخن پیتل کے تھے اوروہ ان ناخنوں  سے اپنے چہروں  اورسینوں  کونوچ رہے تھے ،میں  نے پوچھا:اے جبریل! عَلَیْہِ السَّلَام، یہ کون لوگ ہیں  ؟انہوں  نے کہا: یہ وہ افراد ہیں  جولوگوں  کاگوشت کھاتے اوران کی عزتوں  کوپامال کرتے تھے ۔ (ابوداؤد ،  کتاب الادب ،  باب فی الغیبۃ ،  ۴ / ۳۵۳ ،  الحدیث: ۴۸۷۸)

(4)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  جس نے دنیامیں  اپنے بھائی کاگوشت کھایاا س کے پاس قیامت کے دن ا س کے بھائی کاگوشت لایاجائے گااوراس سے کہا جائے گاتم جس طرح دنیامیں  اپنے مردہ بھائی کاگوشت کھاتے تھے اب زندہ کاگوشت کھاؤوہ چیخ مارتاہوااورمنہ بگاڑتا ہوا کھائے گا۔( معجم الاوسط ،  باب الالف ،  من اسمہ: احمد ،  ۱ / ۴۵۰ ،  الحدیث: ۱۶۵۶)

            سرِ دست یہ4اَحادیث ذکر کی ہیں  ،ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ انہیں  غور سے پڑھے اور غیبت سے بچنے کی بھر پور کوشش کرے، فی زمانہ اس حرام سے بچنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ آج کل مسلمانوں  میں  یہ بلا بہت پھیلی ہوئی ہے اور وہ اس سے بچنے کی طرف بالکل توجہ نہیں  کرتے اور ان کی بہت کم مجلسیں  ایسی ہوتی ہیں  جو چغلی اور غیبت سے محفوظ ہوں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں  غیبت جیسی خطرناک باطنی بیماری سے محفوظ فرمائے ،اٰمین۔

غیبت کی تعریف اور اس سے متعلق 5شرعی مسائل:

            صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :غیبت کے یہ معنی ہیں  کہ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو (جس کو وہ دوسروں  کے سامنے ظاہر ہونا پسند نہ کرتا ہو) اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا اور اگر اس میں  وہ بات ہی نہ ہو تو یہ غیبت نہیں  بلکہ بہتان ہے۔(بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ۳ / ۵۳۲)

            غیبت سے متعلق 5شرعی مسائل درج ذیل ہیں :

 



Total Pages: 250

Go To