Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

لگائے ،کیونکہ کبھی فعل بظاہر قبیح ہوتا ہے لیکن حقیقت میں  ایسا نہیں  ہوتا اس لئے کہ ممکن ہے کرنے والا اسے بھول کر کررہا ہو یا دیکھنے والا غلطی پر ہو۔( تفسیرکبیر ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۱۰ / ۱۱۰)

            علامہ عبداللہ بن عمر بیضاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :یہاں  آیت میں  گمان کی کثرت کو مُبْہَم رکھا گیا تاکہ مسلمان ہر گمان کے بارے میں  محتاط ہو جائے اور غور و فکر کرے یہاں  تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس گمان کا تعلق کس صورت سے ہے کیونکہ بعض گمان واجب ہیں ،بعض حرام ہیں  اور بعض مُباح ہیں ۔( بیضاوی ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۵ / ۲۱۸ ،  ملخصاً)

 گمان کی اَقسام اور ان کا شرعی حکم:

            گمان کی کئی اَقسام ہیں ،ان میں  سے چار یہ ہیں : (1)واجب ،جیسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا۔ (2)مُستحَب، جیسے صالح مومن کے ساتھ نیک گمان رکھنا۔ (3)ممنوع حرام ۔جیسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ برا گمان کرنا اور یونہی مومن کے ساتھ برا گمان کرنا۔ (4)جائز ،جیسے فاسقِ مُعْلِن کے ساتھ ایسا گمان کرنا جیسے افعال اس سے ظہور میں  آتے ہوں ۔

            حضرت سفیان ثوری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : گمان دو طرح کا ہے، ایک وہ کہ دل میں  آئے اور زبان سے بھی کہہ دیا جائے ۔یہ اگر مسلمان پر برائی کے ساتھ ہے تو گناہ ہے ۔دوسرا یہ کہ دل میں  آئے اور زبان سے نہ کہا جائے، یہ اگرچہ گناہ نہیں  مگر اس سے بھی دل کو خالی کرنا ضروری ہے۔( خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۴ / ۱۷۰-۱۷۱ ،  مدارک ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ص۱۱۵۵ ،  ملتقطاً)

            یہاں  بطورِ خاص بد گمانی کے شرعی حکم کی تفصیل ملاحظہ ہو،چنانچہ

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :مسلمان پر بدگمانی خود حرام ہے جب تک ثبوتِ شرعی نہ ہو۔( فتاوی رضویہ،۶ / ۴۸۶)

            دوسرے مقام پر فرماتے ہیں :مسلمانوں  پر بدگمانی حرام اور حتّی الامکان اس کے قول وفعل کو وجہ ِصحیح پر حمل واجب (ہے)۔( فتاوی رضویہ،۲۰ / ۲۷۸)

            صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :بے شک مسلمان پر بد گمانی حرام ہے مگر جبکہ کسی قرینہ سے اس کا ایسا ہونا ثابت ہوتا ہو(جیسا اس کے بارے میں  گمان کیا) تو اب حرام نہیں  ،مثلاً کسی کو (شراب بنانے کی) بھٹی میں  آتے جاتے دیکھ کر اسے شراب خور گمان کیا تواِس کا قصور نہیں  (بلکہ بھٹی میں  آنے جانے والے کا قصور ہے کیونکہ) اُس نے موضعِ تہمت (یعنی تہمت لگنے کی جگہ) سے کیوں  اِجتناب نہ کیا۔( فتاوی امجدیہ، ۱ / ۱۲۳)

            صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :مومنِ صالح کے ساتھ برا گمان ممنوع ہے ، اسی طرح اس کا کوئی کلام سن کر فاسد معنی مراد لینا باوجود یکہ اس کے دوسرے صحیح معنی موجود ہوں  اور مسلمان کا حال ان کے موافق ہو ، یہ بھی گمانِ بد میں  داخل ہے ۔( خزائن العرفان، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۹۵۰)

 بد گمانی کی مذمت اور اچھا گمان رکھنے کی ترغیب

            دین ِاسلا م وہ عظیم دین ہے جس میں  انسانوں  کے باہمی حقوق اور معاشرتی آداب کو خاص اہمیت دی گئی اور ان چیزوں  کا خصوصی لحاظ رکھا گیاہے اسی لئے جو چیز انسانی حقوق کو ضائع کرنے کا سبب بنتی ہے اور جو چیز معاشرتی آداب کے بر خلاف ہے اس سے دینِ اسلام نے منع فرمایا اور اس سے بچنے کا تاکید کے ساتھ حکم دیاہے ،جیسے ان اَشیاء میں  سے ایک چیز ’’بد گمانی‘‘ ہے جو کہ انسانی حقوق کی پامالی کا بہت بڑا سبب اور معاشرتی آداب کے انتہائی بر خلاف ہے، اس سے دین ِاسلام میں  خاص طور پر منع کیا گیا ہے ،چنانچہ قرآنِ مجید میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا‘‘(بنی اسرائیل:۳۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں  بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں  سوال کیا جائے گا۔

            اور حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اپنے آپ کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے،ایک دوسرے کے ظاہری اور باطنی عیب مت تلاش کرو، حرص نہ کرو،حسد نہ کرو،بغض نہ کرو،ایک دوسرے سے رُوگَردانی نہ کرو اور اے اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ۔( مسلم ،  کتاب البرّ والصّلۃ والآداب ،  باب تحریم الظّنّ والتّجسّس... الخ ،  ص۱۳۸۶ ،  الحدیث: ۲۸(۲۵۶۳))

            اللہ تعالیٰ ہمیں  ایک دوسرے کے بارے میں  بد گمانی کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

بد گمانی کے دینی اور دُنْیَوی نقصانات:

            یہاں  بدگمانی کے دینی اور دُنْیَوی نقصانات بھی ملاحظہ ہوں  تاکہ بد گمانی سے بچنے کی ترغیب ملے،چنانچہ اس کے 4دینی نقصانات یہ ہیں

(1)…جس کے بارے میں  بد گمانی کی ،اگر اُس کے سامنے اِس کا اظہار کر دیا تو اُس کی دل آزاری ہو سکتی ہے اور شرعی اجازت کے بغیر مسلمان کی دل آزاری حرام ہے ۔

(2)…اگر ا س کی غیر موجودگی میں  دوسرے کے سامنے اپنے برے گمان کا اظہار کیاتو یہ غیبت ہو جائے گی اور مسلمان کی غیبت کرنا حرام ہے ۔

(3)…بد گمانی کرنے والا محض اپنے گمان پر صبر نہیں  کرتا بلکہ وہ اس کے عیب تلاش کرنے میں  لگ جاتا ہے اور کسی مسلمان کے عیبوں  کوتلاش کرناناجائز و گناہ ہے ۔

(4)…بد گمانی کرنے سے بغض اور حسد جیسے خطرناک اَمراض پیدا ہوتے ہیں  ۔

            اور اس کے دو بڑے دُنْیَوی نقصانات یہ ہیں ،

(1)… بد گمانی کرنے سے دو بھائیوں  میں  دشمنی پیدا ہو جاتی ہے،ساس اور بہو ایک دوسرے کے خلاف ہو جاتے ہیں ، شوہر اور بیوی میں  ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہوجاتا اور بات بات پر



Total Pages: 250

Go To