Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

{وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ: اورآپس میں  کسی کوطعنہ نہ دو۔} یعنی قول یا اشارے کے ذریعے ایک دوسرے پر عیب نہ لگاؤ کیونکہ مومن ایک جان کی طرح ہے جب کسی دوسرے مومن پرعیب لگایاجائے گاتوگویااپنے پرہی عیب لگایاجائے گا۔(روح المعانی ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۱۳ / ۴۲۴)

طعنہ دینے کی مذمت:

            اَحادیث میں  طعنہ دینے کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ،یہاں اس سے متعلق 2اَحادیث ملاحظہ ہوں ،

(1)… حضرت ابودرداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بہت لعن طعن کرنے والے قیامت کے دن نہ گواہ ہوں  گے نہ شفیع۔( مسلم ،  کتاب البرّ والصّلۃ والآداب ،  باب النّہی عن لعن الدّواب وغیرہا ،  ص۱۴۰۰ ،  الحدیث: ۸۵(۲۵۹۸))

(2)… حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مومن نہ طعن کرنے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش بکنے والا بے ہودہ ہوتا ہے۔( ترمذی ،  کتاب البرّ والصّلۃ ،  باب ما جاء فی اللّعنۃ ،  ۳ / ۳۹۳ ،  الحدیث: ۱۹۸۴)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  طعنہ دینے سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔

{وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ: اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔} برے نام رکھنے سے کیا مراد ہے ا س کے بارے میں  مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں  ،ان میں  سے تین قول درج ذیل ہیں  

(1)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا’’ ایک دوسرے کے برے نام رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی آدمی نے کسی برائی سے توبہ کرلی ہو تو اسے توبہ کے بعد اس برائی سے عار دلا ئی جائے ۔یہاں  آیت میں  اس چیز سے منع کیا گیا ہے ۔

            حدیث ِپاک میں  اس عمل کی وعید بھی بیان کی گئی ہے ،جیسا کہ حضر ت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے اپنے بھائی کواس کے کسی گناہ پرشرمندہ کیا تووہ شخص اس وقت تک نہیں  مرے گاجب تک کہ وہ اس گناہ کا اِرتکاب نہ کرلے ۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ القیامۃ...الخ ،  ۵۳-باب ،  ۴ / ۲۲۶ ،  الحدیث: ۲۵۱۳)

(2)…بعض علماء نے فرمایا ’’برے نام رکھنے سے مراد کسی مسلمان کو کتا ،یا گدھا، یا سور کہنا ہے ۔

(3)…بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ اَلقاب مراد ہیں  جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو (لیکن تعریف کے القاب جو سچے ہوں  ممنوع نہیں ، جیسے کہ حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا لقب عتیق اور حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا فاروق اور حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا ذوالنُّورَین اور حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا ابوتُراب اور حضرت خالد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا سَیْفُ اللہ تھا) اور جو اَلقاب گویا کہ نام بن گئے اور اَلقاب والے کو ناگوار نہیں  وہ القاب بھی ممنوع نہیں  ،جیسے اَعمَش اور اَعرَج وغیرہ۔( خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۴ / ۱۷۰)

{بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ: مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے۔} ارشاد فرمایا: مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے تو اے مسلمانو، کسی مسلمان کی ہنسی بنا کر یا اس کو عیب لگا کر یا اس کا نام بگاڑ کر اپنے آپ کو فاسق نہ کہلاؤ اور جو لوگ ان تمام افعال سے توبہ نہ کریں  تو وہی ظالم ہیں ۔( خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۴ / ۱۷۰)

آیت ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے تین مسئلے معلوم ہوئے

(1)… مسلمانوں  کی کوئی قوم ذلیل نہیں ،ہر مومن عزت والا ہے ۔

(2)… عظمت کا دار و مدار محض نسب پر نہیں  تقویٰ و پرہیز گاری پر ہے ۔

(3)… مسلمان بھائی کو نسبی طعنہ دینا حرام اور مشرکوں  کا طریقہ ہے آج کل یہ بیماری مسلمانوں  میں  عام پھیلی ہوئی ہے۔ نسبی طعنہ کی بیماری عورتوں  میں  زیادہ ہے، انہیں  اس آیت سے سبق لینا چاہیے نہ معلوم بارگاہِ الہٰی میں  کون کس سے بہتر ہو۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو بہت گمانوں  سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈھو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں  کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں  گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور (پوشیدہ باتوں  کی) جستجو نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں  کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں  ناپسند ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو۔} آیت کے اس حصے میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں  کو بہت زیادہ گمان کرنے سے منع فرمایا کیونکہ بعض گمان ایسے ہیں  جو محض گناہ ہیں  لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ گمان کی کثرت سے بچا جائے۔( ابن کثیر ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۷ / ۳۵۲)

            امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : (یہاں  آیت میں  گمان کرنے سے بچنے کا حکم دیا گیا) کیونکہ گمان ایک دوسرے کو عیب لگانے کا سبب ہے ،اس پر قبیح افعال صادر ہونے کا مدار ہے اور اسی سے خفیہ دشمن ظاہر ہوتا ہے اور کہنے والا جب ان اُمور سے یقینی طور پر واقف ہو گا تو وہ ا س بات پر بہت کم یقین کرے گا کہ کسی میں  عیب ہے تاکہ اسے عیب



Total Pages: 250

Go To