Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

کی نقل اتارنایا اس کو طعنہ مارنا یا عار دلانا یا اس پر ہنسنا یا اس کو بُرے بُرے اَلقاب سے یاد کرنا اور اس کی ہنسی اُڑانا مثلاً آج کل کے بَزَعمِ خود اپنے آپ کو عُرفی شُرفاء کہلانے والے کچھ قوموں  کو حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں  اور محض قومِیَّت کی بنا پر ان کا تَمَسْخُر اور اِستہزاء کرتے اور مذاق اڑاتے رہتے ہیں  اور قِسم قسم کے دل آزار اَلقاب سے یاد کرتے رہتے ہیں ،کبھی طعنہ زنی کرتے ہیں ، کبھی عار دلاتے ہیں ، یہ سب حرکتیں  حرام و گناہ اور جہنم میں  لے جانے والے کام ہیں ۔لہٰذا ان حرکتوں  سے توبہ لازم ہے، ورنہ یہ لوگ فاسق ٹھہریں  گے۔ اسی طرح سیٹھوں  اور مالداروں  کی عادت ہے کہ وہ غریبوں  کے ساتھ تَمَسْخُر اور اہانت آمیز القاب سے ان کو عار دلاتے اور طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں  اور طرح طرح سے ان کا مذاق اڑایا کرتے ہیں  جس سے غریبوں  کی دل آزاری ہوتی رہتی ہے، مگر وہ اپنی غُربَت اور مُفلسی کی وجہ سے مالداروں  کے سامنے دَم نہیں  مار سکتے۔ ان مالدارو ں  کو ہوش میں  آ جانا چاہیے کہ اگر وہ اپنے ان کَرتُوتوں  سے توبہ کرکے باز نہ آئے تو یقینا وہ قہرِ قَہّار و غضبِ جَبّار میں  گرفتار ہو کر جہنم کے سزاوار بنیں  گے اور دنیا میں  ان غریبوں  کے آنسو قہرِ خداوندی کا سیلاب بن کر ان مالداروں  کے محلات کو خَس و خاشاک کی طرح بہا لے جائیں  گے۔(جہنم کے خطرات،ص۱۷۵-۱۷۶)

 خوش طبعی کرنے کا حکم:

          یاد رہے کہ کسی شخص سے ایسا مذاق کرنا حرام ہے جس سے اسے اَذِیَّت پہنچے البتہ ایسا مذاق جوا سے خوش کر دے، جسے خوش طبعی اور خوش مزاجی کہتے ہیں  ،جائز ہے، بلکہ کبھی کبھی خوش طبعی کرنا سنت بھی ہے جیسا کہ مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سے کبھی کبھی خوش طبعی کرنا ثابت ہے ، اسی لیے علماءِ کرام فرماتے ہیں  کہ کبھی کبھی خوش طبعی کرنا سنتِ مُسْتحبہ ہے۔( مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۴۹۳-۴۹۴)

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ جس پر نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ قادر تھے کہ مزاح (یعنی خوش طبعی) کرتے وقت صرف حق بات کہو،کسی کے دل کو اَذِیَّت نہ پہنچاؤ،حد سے نہ بڑھو اور کبھی کبھی مزاح کرو تو تمہارے لئے بھی کوئی حرج نہیں  لیکن مزاح کو پیشہ بنا لینا بہت بڑی غلطی ہے۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب آفات اللّسان ،  الآفۃ العاشرۃ المزاح ،  ۳ / ۱۵۹)

            مزید فرماتے ہیں  :وہ مزاح ممنوع ہے جو حد سے زیادہ کیا جائے اور ہمیشہ اسی میں  مصروف رہا جائے اور جہاں  تک ہمیشہ مزاح کرنے کا تعلق ہے تو اس میں  خرابی یہ ہے کہ یہ کھیل کود اور غیر سنجیدگی ہے ،کھیل اگرچہ (بعض صورتوں  میں ) جائز ہے لیکن ہمیشہ اسی کام میں  لگ جانا مذموم ہے اور حد سے زیادہ مزاح کرنے میں  خرابی یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زیادہ ہنسی پیدا ہوتی ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مر دہ ہوجاتا ہے ، بعض اوقات دل میں  بغض پیدا ہو جاتا ہے اور ہَیبَت و وقار ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا جو مزاح ان اُمور سے خالی ہو وہ قابلِ مذمت نہیں  ، جیسا کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بے شک میں  بھی مزاح کرتا ہوں  اور میں  (خوش طبعی میں ) سچی بات ہی کہتا ہوں ۔( معجم الاوسط ،  باب الالف ،  من اسمہ: احمد ،  ۱ / ۲۸۳ ،  الحدیث: ۹۹۵)

            لیکن یہ بات تو آپ کے ساتھ خاص تھی کہ مزاح بھی فرماتے اور جھوٹ بھی نہ ہوتا لیکن جہاں  تک دوسرے لوگوں  کا تعلق ہے تو وہ مزاح اسی لئے کرتے ہیں  کہ لوگوں  کو ہنسائیں  خواہ جس طرح بھی ہو، اور (اس کی وعید بیان کرتے ہوئے) نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ایک شخص کوئی بات کہتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ہم مجلس لوگوں  کوہنساتا ہے ،اس کی وجہ سے ثُرَیّا ستارے سے بھی زیادہ دور تک جہنم میں  گرتا ہے۔( مسند امام احمد  ،  مسند ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ  ،  ۳ / ۳۶۶  ،  الحدیث: ۹۲۳۱ ،  احیاء علوم الدین ،  کتاب آفات اللسان ،  الآفۃ العاشرۃ المزاح ،  ۳ / ۱۵۸)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  جائز خوش طبعی کرنے اور ناجائز خوش طبعی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

 سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خوش طبعی:

             یہاں  موضوع کی مناسبت سے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خوش طبعی کے چار واقعات بھی ملاحظہ ہوں ۔

(1)…حضرت زید بن اسلم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں :حضرت اُمِّ ایمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہوئیں  اور عرض کیا:میرے شوہر آپ کو بلا رہے ہیں ۔ارشاد فرمایا’’کون،وہی جس کی آنکھ میں  سفیدی ہے؟عرض کی:اللہ تعالیٰ کی قسم !ان کی آنکھ میں  سفیدی نہیں  ہے ۔ارشاد فرمایا’’کیوں  نہیں ، بے شک اس کی آنکھ میں  سفیدی ہے ۔عرض کی :اللہ تعالیٰ کی قسم!ایسا نہیں  ہے۔نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’کیاکوئی ایسا ہے جس کی آنکھ میں  سفیدی نہ ہو(آپ نے اس سے وہ سفیدی مراد لی تھی جو آنکھ کے سیاہ حلقے کے ارد گرد ہوتی ہے)۔(سبل الہدی والرشاد ،  جماع ابواب صفاتہ المعنویۃ ،  الباب الثانی والعشرون فی مزاحہ... الخ ،  ۷ / ۱۱۴)

(2)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہم میں  گھلے ملے رہتے ، حتّٰی کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے’’ ابو عمیر !چڑیا کا کیا ہوا۔( بخاری ،  کتاب الادب ،  باب الانبساط الی الناس ،  ۴ / ۱۳۴ ،  الحدیث: ۶۱۲۹)

(3)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : ایک شخض نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سواری مانگی تو ارشاد فرمایا’’ ہم تمہیں  اونٹنی کے بچے پر سوار کریں  گے۔اس نے عرض کی : میں  اونٹنی کے بچے کا کیا کروں  گا؟ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’ اونٹ کو اونٹنی ہی تو جنم دیتی ہے۔ (ترمذی ،  کتاب البرّ والصّلۃ ،  باب ما جاء فی المزاح ،  ۳ / ۳۹۹ ،  الحدیث: ۱۹۹۹)

(4)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک بوڑھی عورت سے فرمایا:’’ جنت میں  کوئی بوڑھی عورت نہ جائے گی۔انہوں  نے (پریشان ہو کر) عرض کی : تو پھر ان کا کیا بنے گا؟ (حالانکہ) وہ عورت قرآن پڑھاکرتی تھی۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیا تم نے قرآن میں  یہ نہیں  پڑھا کہ

’’اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ(۳۵) فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا‘‘(واقعہ:۳۵ ، ۳۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے ان جنتی عورتوں  کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا۔توہم نے انہیں  کنواریاں  بنایا۔( مشکوٰۃ المصابیح ،  کتاب الآداب ،  باب المزاح ،  الفصل الثانی ،  ۲ / ۲۰۰ ،  الحدیث: ۴۸۸۸)

 



Total Pages: 250

Go To