Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اور دنیا ہی میں  جھٹلانے والوں  کو عذاب میں  گرفتار کردیا جاتا اور بیشک آخرت میں  ظالموں  کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یاد رہے کہ اس آیت میں  ظالموں  سے مراد کافر ہیں  ۔( تفسیر کبیر  ،  الشوریٰ  ،  تحت الآیۃ : ۲۱  ،  ۹ / ۵۹۲  ،  جلالین ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ص۴۰۳ ،  مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ص۱۰۸۶ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۴ / ۹۴ ،  ملتقطاً)

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِۚ- لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ- ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تم ظالموں  کو دیکھو گے کہ اپنی کمائیوں  سے سہمے ہوئے ہوں  گے اور وہ ان پر پڑ کر رہیں  گی اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ جنت کی پھلواریوں  میں  ہیں  ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہیں  جو چاہیں  یہی بڑا فضل ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم ظالموں  کو دیکھو گے کہ اپنے کمائے ہوئے اعمال سے ڈر رہے ہوں  گے اوران کی کمائیاں  ان پر پڑ کر رہیں  گی اور ایمان لانے والے اور اچھے اعمال کرنے والے جنتوں  کے پھولوں  سے بھرے ہوئے باغات میں  ہوں  گے۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ تمام چیزیں  ہوں  گی جو وہ چاہیں گے، یہی بڑا فضل ہے۔

{تَرَى الظّٰلِمِیْنَ: تم ظالموں  کو دیکھو گے۔} اس آیت میں  قیامت کے دن عذاب کے حق داروں  اور ثواب پانے والوں  کا حال بیان کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ تم قیامت کے دن ظالموں  کو اس حال میں  دیکھو گے کہ وہ اس اندیشے سے اپنے کفر اور خبیث اعمال سے ڈر رہے ہوں  گے کہ اب انہیں  ان اعمال کی سزا ملنے والی ہے۔یہ چاہے ڈریں  یا نہ ڈریں  ، ان کے اعمال کا وبال ان پر ضرور پڑ کر رہے گا اور یہ اس سے کسی طرح بچ نہیں  سکتے اور ایمان لانے والوں  اور اچھے اعمال کرنے والوں  کا حال یہ ہو گا کہ وہ جنتوں  کے نعمتوں  سے بھرے ہوئے باغات میں  ہوں  گے کیونکہ وہ جنت کے سب سے زیادہ پاکیزہ مقام ہیں ۔ ان کے لیے ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس وہ تمام چیزیں  ہوں  گی جو وہ چاہیں  گے اورتھوڑے عمل پریہی بڑا فضل ہے۔

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ فاسق و فاجر مسلمان بھی(اپنے اعمال کی سزا پانے کے بعد یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کے بغیر ہی بخش دئیے جانے کے بعد ) جنت میں  جائیں  گے البتہ وہاں  ان کے مقام میں  فرق ہو گا کہ اچھے اعمال کرنے والے مسلمان پھولوں  سے بھرے ہوئے باغات میں  ہوں  گے اور ان کے علاوہ مسلمان جنت کے دیگر حصوں  میں  ہوں  گے۔(تفسیرکبیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۹ / ۵۹۳ ،  مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ص۱۰۸۶ ،  ملتقطاً)

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ- قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ-وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہے وہ جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں  کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے تم فرماؤ میں  اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں  مانگتا مگر قرابت کی محبت اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں  اور خوبی بڑھائیں  بے شک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہی ہے وہ جس کی اللہ اپنے ایمان والے اور اچھے اعمال کرنے والے بندوں  کو خوشخبری دیتا ہے۔ تم فرماؤ: میں  اس پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں  کرتامگر قرابت کی محبت اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں  اور خوبی بڑھادیں  گے ، بیشک اللہ بخشنے والا، قدر فرمانے والا ہے۔

{قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا: تم فرماؤمیں  اس پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں  کرتا۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرما دیں  کہ اے لوگو،میں  رسالت کی تبلیغ پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں  کرتا ، (جیسے دوسرے کسی نبی نے تبلیغِ دین پر کوئی معاوضہ نہیں  مانگا۔)اس کے بعد جداگانہ طور پر نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کفار کو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ظلم و ستم کرنے سے باز رکھنے کیلئے فرمایا کہ تمہیں  کم از کم میرے ساتھ اپنی قرابَتداری یعنی رشتے داری کا خیال کرنا چاہیے ، یعنی چونکہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے ہیں  اور کفارِ مکہ بھی اپنی مختلف شاخوں  کے اعتبار سے قریش سے تعلق رکھتے تھے تو انہیں  کہا گیا کہ اگر تم ایمان قبول نہیں  بھی کرتے تو کم از کم رشتے داری کا لحاظ کرتے ہوئے ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔

{وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً: اور جو نیک کام کرے۔} آیت کے اس حصے میں  نیک کام کرنے والوں  کو بشارت دی جا رہی ہے کہ جو نیک کام کرے گا تو ہم اسے اس جیسے مزید نیک کام کرنے اور ان میں  اخلاص کی توفیق عطا کر کے اس کے لیے نیک کام میں  مزید خوبی بڑھادیں  گے ، بیشک اللہ تعالیٰ گناہگاروں  کو بخشنے والا اور اپنے اطاعت گزاروں  کی قدر فرمانےوالا ہے۔( روح البیان ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۸ / ۳۱۲)

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۚ-فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَؕ-وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: یا یہ کہتے ہیں  کہ انھوں  نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا اور اللہچاہے تو تمہارے دل پر اپنی رحمت و حفاظت کی مہر فرمادے اور مٹا تا ہے باطل کو اور حق کو ثابت فرماتا ہے اپنی باتوں  سے بے شک وہ دلوں  کی باتیں  جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ یہ کافر کہتے ہیں : اس نے اللہ پر جھوٹ گھڑ لیاہے اور اگراللہ چاہے تو تمہارے دل پر (صبر کی) مہر لگا دے اور اللہ باطل کومٹا تا ہے اوراپنی باتوں  کے ذریعے حق کو ثابت فرماتا ہے ۔بیشک وہ دلوں  کی باتیں  جانتا ہے۔

{اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا: بلکہ یہ کافر کہتے ہیں : اس نے اللہ پر جھوٹ گھڑ لیاہے۔} اس سے پہلے آیت نمبر3میں  بیان ہوا کہ قرآنِ مجید وہ کلام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف وحی فرمایا ہے اور اب یہاں  سے قرآنِ مجید کے بارے میں  کافروں  کا ایک اعتراض ذکر کیا جا رہا ہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  کفارِ مکہ یہ کہتے ہیں  کہ انہوں  نے نبوت کا دعویٰ کرکے اور قرآنِ کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب بتا کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑ لیاہے؟ اس کے جواب میں  فرمایا گیا کہ کافروں  کا یہ قول بہتان ہے کیونکہ اے نبی! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر وہ چاہتا تو آپ کے دل پر مہر لگا دیتا یعنی اگر بالفرض آپ جھوٹی بات گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف



Total Pages: 250

Go To