Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں  تو اپنے دو بھائیوں  میں  صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں  تو اپنے دو بھائیوں  میں  صلح کرادو اور اللہ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو۔

{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ: صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں ۔} ارشاد فرمایا :مسلمان توآپس میں بھائی بھائی ہی ہیں  کیونکہ یہ آپس میں  دینی تعلق اورا سلامی محبت کے ساتھ مَربوط ہیں  اوریہ رشتہ تمام دُنْیَوی رشتوں  سے مضبوط تر ہے ،لہٰذاجب کبھی دو بھائیوں  میں  جھگڑا واقع ہو تو ان میں  صلح کرادو اور اللہ تعالیٰ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا ایمان والوں  کی باہمی محبت اور اُلفت کا سبب ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ا س پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے۔( خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۴ / ۱۶۸ ،  مدارک ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ص۱۱۵۳ ،  ملتقطاً)

مسلمانوں  کے باہمی تعلق کے بارے میں 3 اَحادیث :

            یہاں  آیت کی مناسبت سے مسلمانوں  کے باہمی تعلق کے بارے میں  3اَحادیث ملاحظہ ہوں ،

(1)…حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مسلمان ،مسلمان کابھائی ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسواکرے ،جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں  مشغول رہتاہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرتاہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کودورکرتاہے تواللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مَصائب میں  سے کوئی مصیبت دُورفرمادے گااورجوشخص کسی مسلمان کاپردہ رکھتاہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کاپردہ رکھے گا۔( بخاری ،  کتاب المظالم والغصب ،  باب لا یظلم المسلم... الخ ،  ۲ / ۱۲۶ ،  الحدیث: ۲۴۴۲)

(2)…حضر ت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’سارے مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں  ،جب اس کی آنکھ میں  تکلیف ہوگی توسارے جسم میں  تکلیف ہوگی اور اگراس کے سرمیں  دردہوتوسارے جسم میں  دردہوگا۔( مسلم ،  کتاب البرّ والصّلۃ والآداب ،  باب تراحم المؤمنین... الخ ،  ص۱۳۹۶ ،  الحدیث: ۶۷(۲۵۸۶))

(3)…حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔(مسلم ،  کتاب البرّ والصّلۃ والآداب ،  باب تراحم المؤمنین... الخ ،  ص۱۳۹۶ ،  الحدیث: ۶۵(۲۵۸۵))

            اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو اپنے باہمی تعلقات سمجھنے اور ا س کے تقاضوں  کے مطابق عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں  سے ہنسیں  عجب نہیں  کہ وہ ان ہنسنے والوں  سے بہتر ہوں  اور نہ عورتیں  عورتوں  سے دُور نہیں  کہ وہ ان ہنسنے والیوں  سے بہتر ہوں  اور آپس میں  طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں  تو وہی ظالم ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں  پر نہ ہنسیں  ،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں  سے بہتر ہوں  اور نہ عورتیں  دوسری عورتوں  پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں  سے بہتر ہوں  اور آپس میں  کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں  تو وہی ظالم ہیں ۔

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ: اے ایمان والو !مرد دوسرے مَردوں  پر نہ ہنسیں ۔} شانِ نزول: اس آیت ِمبارکہ کے مختلف حصوں  کا نزول مختلف واقعات میں  ہوا ہے اورآیت کے زیرِ تفسیر حصے کے نزول سے متعلق دو واقعات درج ذیل ہیں  

(1)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  : حضرت ثابت بن قیس بن شماس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ اونچا سنتے تھے ، جب وہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مجلس شریف میں  حاضر ہوتے تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ انہیں  آگے بٹھاتے اور اُن کے لئے جگہ خالی کردیتے تاکہ وہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قریب حاضر رہ کر کلام مبارک سن سکیں  ۔ایک روز انہیں  حاضری میں  دیر ہوگئی اور جب مجلس شریف خوب بھر گئی اس وقت آپ تشریف لائے اور قاعدہ یہ تھا کہ جو شخص ایسے وقت آتا اور مجلس میں  جگہ نہ پاتا تو جہاں  ہوتا وہیں کھڑا رہتا۔لیکن حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ آئے تو وہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قریب بیٹھنے کے لئے لوگوں  کو ہٹاتے ہوئے یہ کہتے چلے کہ’’ جگہ دو جگہ‘‘ یہاں  تک کہ حضورِ اَنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اتنے قریب پہنچ گئے کہ اُن کے اور حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے درمیان میں  صرف ایک شخص رہ گیا، انہوں نے اس سے بھی کہا کہ جگہ دو، اس نے کہا: تمہیں  جگہ مل گئی ہے ا س لئے بیٹھ جاؤ ۔حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ غصّہ میں  آکر اس کے پیچھے بیٹھ گئے ۔ جب دن خوب روشن ہوا توحضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس کا جسم دبا کر کہا: کون؟ اس نے کہا: میں  فلاں  شخص ہوں ۔حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس کی ماں  کا نام لے کر کہا: فلانی کا لڑکا۔ اس پر اس شخص نے شرم سے سرجھکالیا کیونکہ اس زمانے میں  ایسا کلمہ عار دلانے کے لئے کہا جاتا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

(2)… حضر ت ضحاک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : یہ آیت بنی تمیم کے ان افراد کے بارے میں  نازل ہوئی جو حضرت عمار،حضرت خباب ،حضرت بلا ل ،حضرت صہیب،حضرت سلمان اور حضرت سالم وغیرہ غریب صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی غُربَت دیکھ کر ان کا مذاق اُڑایاکرتے تھے ۔ ان کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد     مَردوں  سے نہ ہنسیں  ،یعنی مال دار غریبوں  کا ، بلند نسب والے دوسرے نسب والوں کا،تندرست اپاہج کا اور آنکھ والے اس کا مذاق نہ اُڑائیں  جس کی آنکھ میں  عیب ہو،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں  سے صدق اور اخلاص میں  بہتر ہوں ۔( خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۴ / ۱۶۹)

 



Total Pages: 250

Go To