Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت کے لیے زیادہ مَصلحت آمیز اور مسلمانوں  کے اَحوال سے مناسب ترمعلوم ہوئی،اس نے اسے اختیار کیا، اگرچہ اجتہاد میں  خطا ہوئی اور ٹھیک بات ذہن میں  نہ آئی لیکن وہ سب حق پر ہیں اور سب واجبُ الاحترام ہیں  ، ان کا حال بالکل ایسا ہے جیسا دین کے فروعی مسائل میں  خود علماءِ اہلسنت بلکہ ان کے مُجتہدین مثلاً امامِ اعظم ابوحنیفہ اور امامِ شافعی وغیرہما رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے اختلافات ہیں  ۔

(6)…مسلمانوں  پر لازم ہے کہ وہ ان جھگڑوں  کے سبب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ میں  ایک دوسرے کو نہ گمراہ فاسق جانیں  اور نہ ہی ان میں  سے کسی کے دشمن ہوں  بلکہ مسلمانوں  کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ سب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ آقائے دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے جاں  نثار اور سچے غلام ہیں ، اللہ تعالیٰ او ر رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی بارگاہوں  میں  مُعَظَّم و مُعَزَّز اور آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے ہیں  ۔

(7)… صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے بارے میں  یاد رکھنا چاہئے کہ وہ انبیاء اورفرشتے نہ تھے کہ گناہ سے معصوم ہوں ، ان میں  سے بعض حضرات سے لغزشیں  صادر ہوئیں  مگر ان کی کسی بات پر گرفت اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے اَحکام کے خلاف ہے۔

(8)…اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سورۂ حدید میں  سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی دو قِسمیں  بیان فرمائی ہیں ،(1) مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ۔(2) اَلَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا۔

            یعنی صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی ایک قسم وہ ہے کہ فتح ِمکہ سے پہلے مُشَرَّف بایمان ہوئے ،اس وقت راہِ خدا میں  مال خرچ کیا اور جہاد کیا جب ان کی تعداد بھی بہت کم تھی اور وہ ہر طرح کمزور بھی تھے، انہوں  نے اپنے اوپر شدید مجاہدے گوارا کرکے اور اپنی جانوں  کو خطروں  میں  ڈال ڈال کر بے دریغ اپنا سرمایہ اسلام کی خدمت کی نذر کردیا، یہ حضرات مہاجرین و اَنصار میں  سے سابقین اَوّلین ہیں ۔دوسری قسم وہ ہے کہ فتحِ مکہ کے بعدایمان لائے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں  خرچ کیا اور جہا دمیں  حصہ لیا۔ ان ایمان والوں  نے اس وقت اِس اخلاص کا ثبوت مالی اور جنگی جہاد سے دیا جب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرتِ تعداد اور جاہ و مال، ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھے۔ اجر اِن کا بھی عظیم ہے لیکن ظاہر ہے کہ اُن سابقون اَوّلون والوں  کے درجہ کا نہیں ،اسی لیے قرآنِ عظیم نے اُن پہلوں  کو اِن بعد والوں  پرفضیلت دی اور پھر فرمایا:

’’كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى‘‘

ان سب سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا،

            کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے سب ہی کو اجر ملے گا، محروم کوئی نہ رہے گا۔اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ان کے حق میں  فرماتا ہے:

’’اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰۱)

وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں ۔

’’لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا‘‘(انبیاء:۱۰۲)

وہ جہنم کی بھنک تک نہ سنیں  گے۔

’’وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰۲)

وہ ہمیشہ اپنی من مانتی جی بھاتی مرادوں  میں  رہیں  گے۔

’’لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ‘‘(انبیاء:۱۰۳)

قیامت کی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں  غمگین نہ کرے گی۔

’’وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ‘‘(انبیاء:۱۰۳)

فرشتے ان کا استقبال کریں  گے۔

’’هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰۳)

یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔

             رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے ہر صحابی کی یہ شان اللہ عَزَّوَجَلَّ بتاتا ہے ،تو جو کسی صحابی پر اعتراض کرے وہ اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے،اور ان کے بعض معاملات کوجن میں  اکثر جھوٹی حکایات ہیں ،اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مقابل پیش کرنا اہلِ اسلام کا کام نہیں ۔اللہ تعالیٰ نے سورہ ِحدید کی اسی آیت میں  اس کا منہ بھی بند کردیا کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے دونوں  گروہوں  سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمادیا:

’’ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ‘‘(حدید:۱۰)

اور اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرو گے۔

            اس کے باوجود اس نے تمہارے اعمال جان کر حکم فرمادیا کہ وہ تم سب سے بے عذاب جنت اور بے حساب کرامت و ثواب کا وعدہ فرماچکا ہے، تو اب دوسرے کو کیا حق رہا کہ ان کی کسی بات پر اعتراض کرے، کیا اعتراض کرنے والا ، اللہ تعالیٰ سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے، اس بیان کے بعد جو کوئی کچھ بکے وہ اپنا سر کھائے اور خود جہنم میں  جائے۔( فتاوی رضویہ، ۲۹ / ۳۵۷-۳۶۳، ملخصاً)

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰)

 



Total Pages: 250

Go To