Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ہے،دینِ اسلام چونکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ اور معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کاسب سے زیادہ حامی ہے اسی لئے اس دین نے انسانی حقوق تَلف کرنے اور معاشرتی امن میں  بگاڑ پیدا کرنے والے ہر فعل سے روکا ہے اوران چیزوں  میں  ظلم کا کردار دوسرے افعال کے مقابلے میں  کہیں  زیادہ ہے اس لئے اسلام نے ظلم کے خاتمے کیلئے بھی انتہائی احسن اِقدامات کئے ہیں  تاکہ لوگوں  کے حقوق محفوظ رہیں  اور وہ امن و سکون کی زندگی بسر کریں، ان میں  سے ایک اِقدام لوگوں  کو یہ حکم دینا ہے کہ وہ ظالم کو روکیں  اور دوسرا اِقدام ظالم کو وعیدیں  سنانا ہے تاکہ وہ خوداپنے ظلم سے باز آجائے، جیسا کہ درج ذیل تین اَحادیث سے واضح ہے ،چنانچہ

(1)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے بھائی کی مدد کر وخواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے عرض کی، یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر وہ مظلوم ہو تو مدد کروں  گا لیکن ظالم ہو تو کیسے مدد کروں ؟ارشاد فرمایا ’’اس کو ظلم کرنے سے روک دے یہی (اس کی)مدد کرنا ہے۔( بخاری ،  کتاب الاکراہ ،  باب یمین الرجل لصاحبہ... الخ ،  ۴ / ۳۸۹ ،  الحدیث: ۶۹۵۲)

 (2)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ مظلوم کی بددعا سے بچو، وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حق والے کا حق اس سے نہیں  روکتا۔( شعب الایمان ، التاسع والاربعون من شعب الایمان... الخ ،  فصل فی ذکر ماورد من التشدید... الخ ،  ۶ / ۴۹ ،  الحدیث: ۷۴۶۴)

(3)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کا اپنے مسلمان بھائی پر اس کی آبرو یا کسی اور چیز کا کوئی ظلم ہو تو وہ آج ہی اس سے معافی لے لے، اس سے پہلے کہ(وہ دن آجائے جب) اس کے پاس نہ دینار ہو نہ درہم،(اس دن) اگر اس ظالم کے پاس نیک عمل ہوں  گے تو ظلم کے مطابق اس سے چھین لیے جائیں  گے اور اگر اس کے پاس نیکیاں  نہ ہوں  گی تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیں  گے ۔( بخاری  ،  کتاب المظالم و الغصب  ،  باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل... الخ ،  ۲ / ۱۲۸ ،  الحدیث: ۲۴۴۹ ،  مشکاۃ المصابیح ،  کتاب الآداب ،  باب الظّلم ،  الفصل الاول ،  ۲ / ۲۳۵ ،  الحدیث: ۵۱۲۶)

            اس سے معلوم ہوا کہ معاشرتی امن کو قائم کرنے اور اس کی راہ میں  حائل ایک بڑی رکاوٹ’’ظلم‘‘ کو ختم کرنے میں  اسلام کا کردار سب سے زیادہ ہے اور اس کی کوششیں دوسروں  کے مقابلے میں  کہیں  زیادہ کارگَر ہیں  کیونکہ جب لوگ ظالم کو ظلم کرنے سے روک دیں  گے تو وہ ظلم نہ کر سکے گا اور ظالم جب اتنی ہَولْناک وعیدیں  سنے گا تواس کے دل میں  خوف پیدا ہو گا اور یہی خوف ظلم سے باز آنے میں  اس کی مدد کرے گا، یوں  معاشرے سے ظلم کا جڑ سے خاتمہ ہو گا اور معاشرہ امن و سکون کا پُرلُطف باغ بن جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں  دینِ اسلام کے احکامات اور تعلیمات کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

 مظلوم کی حمایت اور فریاد رَسی کرنے کے دو فضائل:

            یہاں  آیت کی مناسبت سے مظلوم کی حمایت کرنے اور اس کی فریاد رسی کرنے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں ،

(1)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو کسی مظلوم کی فریاد رسی کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے 73مغفرتیں  لکھے گا، ان میں  سے ایک سے اس کے تمام کاموں  کی درستی ہوجائے گی اور 72 سے قیامت کے دن اس کے درجے بلند ہوں  گے۔( شعب الایمان ،  الثالث والخمسون من شعب الایمان... الخ ،  ۶ / ۱۲۰ ،  الحدیث: ۷۶۷۰)

(2)…اورحضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جو کسی مظلوم کے ساتھ اس کی مدد کرنے چلے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن ثابت قدمی عطا فرمائے گا جس دن قدم پھسل رہے ہوں  گے۔( حلیۃ الاولیاء ،  مالک بن انس ،  ۶ / ۳۸۳ ،  الحدیث: ۹۰۱۲)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  بھی مظلوم کی حمایت اور مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

 صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ اور ان کے باہمی اختلافات سے متعلق8اَہم باتیں  :

            اس آیت کے شانِ نزول میں  (اگرچہ جھگڑے میں  کچھ منافق بھی شریک تھے لیکن) اہلِ ایمان کے اختلاف کا بھی ذکر ہوا ،اسی مناسبت سے یہاں  صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ اور ان کے باہمی اختلافات سے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے کلام سے8اَہم باتوں  کا خلاصہ ملاحظہ ہو،

(1)… تابعین سے لے کر قیامت تک امت کا کوئی بڑے سے بڑ اولی کسی کم مرتبے والے صحابی کے رتبہ تک نہیں  پہنچ سکتا ۔

(2)… اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  جو قرب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے امتی کو مُیَسَّر نہیں  اور جو بلند درجات یہ پائیں  گے وہ کسی اور امتی کو نہ ملیں  گے۔

(3)…اہلسنّت کے خواص اور عوام پہلے سے آخری درجے تک کے تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو انتہاء درجے کا نیک اور متقی جانتے ہیں  اور ان کے اَحوال کی تفاصیل کہ کس نے کس کے ساتھ کیاکیا اور کیوں  کیا،اس پر نظر کرنا حرام مانتے ہیں ۔

(4)… اگر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ میں  سے کسی کا کوئی ایسا فعل منقول ہے جو کم نظر کی آنکھ میں  ان کی شان سے قدرے گرا ہوا ہو اور اس میں  کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش ملے تو (اس کے بارے میں  اہلسنت کے علماء اور عوام کا طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ) اس کا اچھا مَحمل بیان کرتے ہیں  ، اسے ان کے قلبی اخلاص اور اچھی نیت پر محمول کرتے ہیں  ، اللہ تعالیٰ کا سچا فرمان ’’رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ‘‘ سن کر دل کے آئینے میں  تفتیش کے زنگ کو جگہ نہیں  دیتے اور حقیقی اَحوال کی تحقیق کے نام کا میل کچیل، دل کے آئینے پر چڑھنے نہیں  دیتے۔

(5)… صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے رتبے ہماری عقل سے وراء ہیں  ،پھر ہم اُن کے معاملات میں  کیسے دخل دےسکتے ہیں  اوران میں  صورۃً جو تنازعات اور اختلافات واقع ہوئے ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون ہیں ؟ایسا ہر گز نہیں  ہوسکتا کہ ہم ایک کی طرف داری میں  دوسرے کو برا کہنے لگیں ، یا ان جھگڑوں  میں  ایک فریق کو دنیا طلب ٹھہرائیں ، بلکہ یقین سے جانتے ہیں  کہ وہ سب دین کی مَصلحتوں  کے طلبگار تھے،اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی ان کا نَصبُ العَین تھی، پھر وہ مُجتہد بھی تھے ،توجس کے اجتہاد میں  جو بات اللہ تعالیٰ کے دین اور تاجدارِ



Total Pages: 250

Go To