Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

البیان ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۹ / ۷۳-۷۶ ،  ملتقطاً)

آیت ’’وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے پانچ باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… جنگ و جِدال گناہ ہے، مگر یہاں  دونوں  فریقوں  کو مومن فرمایا گیا،اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کفر نہیں  ہے۔

(2)… مسلمانوں  میں  صلح کرانا حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت اور اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔

(3)…غلط فہمی کی وجہ سے بادشاہِ اسلام کی مخالفت یا اس سے جنگ کرنے والا کافر اور فاسق نہیں  بلکہ مومن ہے۔

(4)… سلطانِ اسلام باغیو ں  سے جنگ کرے یہاں  تک کہ وہ اپنی بغاوت سے باز آ جائیں ۔

(5)… یہ جنگ جہاد نہ ہوگی، نہ ان باغیوں  کا مال غنیمت ہو گا،نہ ان کے قیدی لونڈی غلام بنائے جائیں  گے بلکہ ان کا زور توڑ کران سے برادرانہ سلوک کیا جائے گا۔

 مسلمانوں  میں  صلح کروانے کے فضائل:

            قرآنِ مجید اور اَحادیثِ مبارکہ میں  بکثرت مقامات پر مسلمانوں  کو آپس میں  صلح صفائی رکھنے اوران کے درمیان صلح کروانے کا حکم دیا گیا اور اس کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں  ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًاؕ-وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ‘‘(النساء:۱۲۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہوتو ان پر کوئی حرج نہیں  کہ آپس میں  صلح کرلیں  اور صلح بہتر ہے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

’’ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِؕ -قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ‘‘(انفال:۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے محبوب!تم سے اموالِ غنیمت کے بارے میں  پوچھتے ہیں ۔تم فرماؤ، غنیمت کے مالوں  کے مالک اللہ اور رسول ہیں تو اللہ سے ڈرتے رہواور آ پس میں صلح صفائی رکھو۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

’’لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِؕ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا‘‘(النساء:۱۱۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اُن کے اکثرخفیہ مشوروں  میں کوئی بھلائی نہیں  ہوتی مگر ان لوگوں  (کے مشوروں ) میں  جو صدقے کا یا نیکی کا یا لوگوں  میں  باہم صلح کرانے کا مشورہ کریں اور جو اللہ کی رضامندی تلاش کرنے کے لئے یہ کام کرتا ہے تواسے عنقریب ہم بڑا ثواب عطا فرمائیں  گے۔

            حضرت ِاُمِّ کلثوم بنت عقبہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’وہ شخص جھوٹا نہیں  جو لوگوں  کے درمیان صلح کرائے کہ اچھی بات پہنچاتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔( بخاری ،  کتاب الصلح ،  باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس ،  ۲ / ۲۱۰ ،  الحدیث: ۲۶۹۲)

            حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں  تمہیں  ایسا کام نہ بتاؤں  جو درجے میں  روزے ،نماز اور زکوٰۃ سے بھی افضل ہو،صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیوں  نہیں ۔ارشاد فرمایا: ’’آپس میں  صلح کروا دینا۔( ابو داؤد ،  کتاب الادب ،  باب فی اصلاح ذات البین ،  ۴ / ۳۶۵ ،  الحدیث: ۴۹۱۹)

            البتہ یاد رہے کہ مسلمانوں  میں  وہی صلح کروانا جائز ہے جو شریعت کے دائرے میں  ہو جبکہ ایسی صلح جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دے وہ جائز نہیں  ہے، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مسلمانوں  کے مابین صلح کرواناجائز ہے مگر وہ صلح (جائز نہیں ) جو حرام کو حلال کر دے یا حلال کو حرام کر دے۔( ابو داؤد ،  کتاب الاقضیۃ ،  باب فی الصلح ،  ۳ / ۴۲۵ ،  الحدیث: ۳۵۹۴)

            اس سے ان لوگوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جوعورت کو تین طلاقیں ہو جانے کے باوجود شوہر اور بیوی سے یہ کہتے ہیں  کہ کوئی بات نہیں  ،تم سے جو غلطی ہوئی اسے اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا ا س لئے تم اب آپس میں  صلح کر لو، حالانکہ تین طلاقوں  کے بعد وہ عورت اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَحکام کے مطابق اپنے شوہر پرحرام ہو چکی ہے اور صرف صلح کر لینے سے یہ حرام حلال نہیں  ہو سکتا، تو ان کا یہ صلح کرواناحرام کو حلال کرنے کی کوشش کرنا ہے اور یہ ہر گز جائز نہیں  ہے اور ایسی صلح کروانے والے خود بھی گناہگار ہوں  گے اور اس صلح کے بعد وہ مرد و عورت شوہر اور بیوی والا جوتعلق قائم کریں  گے ا س کا گناہ انہیں  بھی ہو گا کیونکہ ان کے لئے اب وہ تعلق قائم کرنا حرام ہے اور یہ چونکہ حرام کام میں  ان کی مدد کر رہے اور اس کی ترغیب دے رہے ہیں  تواس کے گناہ میں  یہ بھی شریک ہیں ۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور شریعت کی حدود میں  رہتے ہوئے مسلمانوں  کے درمیان صلح کروانے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

معاشرے سے ظلم کا خاتمہ کرنے میں دین ِاسلام کا کردار :

            ظلم ایک ایسا بدترین فعل ہے جس سے انسان اپنے بنیادی حق سے محروم ہو کر اَذِیَّت اور کَرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے اوریہ وہ عمل ہے جس سے جھگڑے اور فسادات جنم لیتے ، لوگ بغاوت اور سرکشی پر اتر آتے اور اصول و قوانین ماننے سے انکار کر دیتے ہیں  جس کے نتیجے میں  انسانی حقوق تَلف ہوتے اور معاشرے کاا من و سکون تباہ ہو کر رہ جاتا



Total Pages: 250

Go To