Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

وَ الْعِصْیَانَؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ(۷) فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةًؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جان لو کہ تم میں  اللہ کے رسول ہیں  بہت معاملوں  میں  اگر یہ تمہاری خوشی کریں  تو تم ضرور مشقت میں  پڑو لیکن اللہ نے تمہیں  ایمان پیارا کردیا ہے اور اُسے تمہارے دلوں  میں  آراستہ کردیا اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں  ناگوار کر دی ایسے ہی لوگ راہ پر ہیں ۔ اللہ کا فضل اور احسان اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جان لو کہ تم میں  اللہ کے رسول تشریف فرماہیں  ،اگر بہت سے معاملات میں  وہ تمہاری بات مانیں  تو تم ضرور مشقت میں  پڑجاؤ گے لیکن اللہ نے تمہیں  ایمان محبوب بنادیا ہے اور اسے تمہارے دلوں  میں  آراستہ کردیا اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں  ناگوار کر دی، ایسے ہی لوگ رشدو ہدایت والے ہیں ۔ اللہ کا فضل اور احسان ہے اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔

{وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ: اور جان لو کہ تم میں  اللہ کے رسول تشریف فرماہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! جان لو کہ تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کے رسول تشریف فرماہیں ، اگر تم میں  سے کوئی ان سے جھوٹ بولے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں  خبردار کر دے گا اور وہ (اس کے حکم سے) تمہارا حال ظاہر کرکے تمہیں  رُسوا کردیں  گے، لہٰذا تم ان سے کوئی باطل بات نہ کہو اور یاد رکھو کہ اگر تمہارے بتائے ہوئے بہت سے معاملات میں  وہ تمہاری بات ہی مانیں  اور تمہاری رائے کے مطابق حکم دیدیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم ضرور مشقت میں  پڑجاؤ گے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم کرتے ہوئے انہیں  اس سے بچا لیا اور تمہارے دل میں  ایمان کی محبت ڈال دی اور اسے تمہارے دلوں  میں  آراستہ کردیا ہے جس کی برکت سے تم رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حکم عدولی نہیں  کرتے اور کفر، حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں  ناگوار کر دی ہے جس کے باعث تم نافرمانی سے مُتَنَفِّر ہو، ایسے ہی لوگ رشدو ہدایت والے ہیں  اور اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے حق راستے پر قائم ہیں  اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ ان کے اَحوال کا علم رکھنےوالا اور ان پر انعام فرمانے میں  حکمت والا ہے۔( مدارک ،  الحجرات  ،  تحت الآیۃ : ۷-۸  ،  ص۱۱۵۲- ۱۱۵۳ ،  خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۷-۸ ،  ۴ / ۱۶۷ ،  جلالین مع صاوی ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۷-۸ ،  ۵ / ۱۹۹۱-۱۹۹۲ ،  ملتقطاً)

آیت ’’وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے 6باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے۔

(2)… نعت لکھنے پڑھنے والوں  اور عرض و معروض کرنے والوں  کو چاہیے کہ اپنا سچا دکھ درد عرض کریں  وہاں  مبالغہ نہ کریں۔

(3)…ایمان پیارا معلوم ہونااللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے۔

(4)…ایمان کا کمال اپنی کوشش سے نہیں  بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نصیب ہوتا ہے۔

(5)… گناہ نہ کرنابھی کمال ہے لیکن گناہ سے دل میں  نفرت پیدا ہو جانا بڑ اکمال ہے کیونکہ یہ نفرت گناہوں  سے مستقل طور پر بچالیتی ہے۔

(6)… تمام صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کفروفسق اورگناہ سے دلی بیزارہیں  ،ان کے دلوں  میں  ایمان ،تقویٰ اور رُشد و ہدایت ایسی رَچ گئی ہے جیسے گلاب کے پھول میں  رنگ وبُو۔

وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ-فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِۚ-فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر مسلمانوں  کے دو گروہ آپس میں  لڑیں تو اُن میں  صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرےتو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں  تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں  اصلاح کردو اور عدل کرو بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر مسلمانوں  کے دو گروہ آپس میں  لڑپڑیں  تو تم ان میں  صلح کرادوپھر اگران میں  سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں  تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر وہ پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں  صلح کروادو اور عدل کرو، بیشک اللہ عدل کرنے والوں  سے محبت فرماتا ہے۔

{وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا: اور اگر مسلمانوں  کے دو گروہ آپس میں  لڑپڑیں  تو تم ان میں  صلح کروادو۔} شا نِ نزول: ایک مرتبہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دراز گوش پر سوار ہو کر تشریف لے جارہے تھے ،اس دوران انصار کی مجلس کے پاس سے گزرہوا تووہاں  تھوڑی دیر ٹھہرے ، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو عبداللہ بن اُبی نے ناک بند کرلی۔یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا ’’حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے۔ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تو تشریف لے گئے لیکن ان دونوں  میں  بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں  آپس میں  لڑپڑیں  اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی، صورتِ حال معلوم ہونے پر سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ واپس تشریف لائے اور ان میں  صلح کرادی، اس معاملے کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا’’ اے ایمان والو!اگر مسلمانوں  کے دو گروہ آپس میں  لڑپڑیں  تو تم سمجھا کر ان میں  صلح کرادو،پھر اگران میں  سے ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی کرے اور صلح کرنے سے انکار کر دے تو مظلوم کی حمایت میں  اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں  تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے ،پھر اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ دونوں  گروہوں  میں  صلح کروادو اور دونوں  میں  سے کسی پر زیادتی نہ کرو (کیونکہ اس جماعت کو ہلاک کرنا مقصود نہیں  بلکہ سختی کے ساتھ راہِ راست پر لانا مقصود ہے) اور صرف اس معاملے میں  ہی نہیں  بلکہ ہر چیز میں  عدل کرو، بیشک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں  سے محبت فرماتا ہے تو وہ انہیں  عدل کی اچھی جزادے گا۔( جلالین مع صاوی  ،  الحجرات  ،  تحت الآیۃ : ۹ ،  ۵ / ۱۹۹۲-۱۹۹۳ ،  مدارک ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ص۱۱۵۳ ،  روح



Total Pages: 250

Go To