Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے دیکھا کہ مسلمانوں  کا ایک گروہ شکست کھا گیا ہے ،یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: ان لوگوں  پر افسوس ہے ،پھر حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے غلام حضرت سالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے فرمایا:ہم رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں  سے اس طرح جنگ نہیں  کیا کرتے تھے۔پھر یہ دونوں  ڈٹ گئے اور لڑائی کرتے رہے یہاں  تک کہ شہید ہو گئے۔حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی شہادت کے بعد ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے انہیں  خواب میں  دیکھا،انہوں  نے فرمایا:فلاں  شخص میری ذرع اتار کر لے گیا ہے اور وہ لشکر کے کونے میں  گھوڑے کے پاس پتھر کی ہنڈیا کے نیچے رکھی ہوئی ہے ،لہٰذ آپ حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے پاس جائیں  اور انہیں  اس کی خبر دیں  تاکہ وہ میری ذرع واپس لے سکیں  اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے پاس جائیں  اور ان سے عرض کریں :مجھ پر قرض ہے ، تاکہ وہ میرا قرض ادا کردیں  اور میرا فلاں  غلام آزاد ہے۔چنانچہ ان صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو اس کی خبر دی تو انہوں  نے ذرع اور گھوڑے کو اسی طرح پایاجیسے حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے بیان فرمایا تھا، انہوں  نے ذرع لے لی اور حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو اس خواب کی خبر دی۔ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی وصیت کو نافذ کر دیا۔ حضرت مالک بن انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں : مجھے اس وصیت کے علاوہ کوئی ایسی وصیت معلوم نہیں  جو کسی کی وفات کے بعد نافذ کی گئی ہو۔( صاوی ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۵ / ۱۹۸۸)

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جو تمہیں  حجروں  کے باہر سے پکارتے ہیں  ان میں  اکثر بے عقل ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں  کے باہر سے پکارتے ہیں  ان میں  اکثر بے عقل ہیں ۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں  کے باہر سے پکارتے ہیں ۔} شانِ نزول: بنو تمیم کے چند لوگ دوپہر کے وقت رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  پہنچے ،اس وقت حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آرام فرما رہے تھے، ان لوگوں  نے حُجروں  کے باہر سے حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پکارنا شروع کر دیا اور حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ باہر تشریف لے آئے، ان لوگوں  کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جلالت ِشان کو بیان فرمایا گیا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہِ اقدس میں  اس طرح پکارنا جہالت اور بے عقلی ہے۔( مدارک ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ص۱۱۵۱ ،  ملخصاً)

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں  تک کہ تم آپ اُن کے پاس تشریف لاتے تو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں  تک کہ تم ان کے پاس خود تشریف لے آتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا: اور اگر وہ صبر کرتے۔} اس آیت میں  ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی کہ انہیں  رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوپکارنے کی بجائے صبر اور انتظارکرنا چاہئے تھا یہاں  تک کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خود ہی مُقَدّس حجرے سے باہر نکل کر ان کے پاس تشریف لے آتے اوراس کے بعدیہ لوگ اپنی عرض پیش کرتے۔ اگر وہ اپنے اوپر لازم اس ادب کو بجالاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا اور جن سے یہ بے ادبی سرزَد ہوئی ہے اگر وہ توبہ کریں  تو اللہ تعالیٰ اُنہیں  بخشنے والا اور ان پر مہربانی فرمانے والا ہے۔( خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۴ / ۱۶۶ ،  روح البیان ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۹ / ۶۸ ،  ملخصاً)

علماء اوراسا تذہ کی بارگاہ میں  حاضری کا ایک ادب:

            اس آیت سے اشارۃً معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مُقَرّب بندوں  اور باعمل علماء کی بارگاہ میں  حاضر ہوں  تو ان کے آستانے کا دروازہ بجا کر جلد بازی کا مظاہرہ نہیں  کرنا چاہئے بلکہ انتظار کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنے معمول کے مطابق آستانے سے باہر تشریف لے آئیں ۔ہمارے بزرگانِ دین کا یہی طرزِ عمل ہوا کرتا تھا،چنانچہ بلند پایہ عالِم حضر ت ابو عبید رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرمایاکرتے تھے : میں  نے کبھی بھی کسی استادکے دروازہ پردستک نہیں  دی بلکہ میں  ان کاانتظارکرتارہتااورجب وہ خود تشریف لاتے تومیں  ان سے اِستفادہ حاصل کرتا۔

            اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا حضر ت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے قرآنِ مجید کی تعلیم حاصل کرنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تو دروازے کے پاس کھڑے ہو جاتے اور ان کا دروازہ نہ کھٹکھٹاتے (بلکہ خاموشی سے ان کاانتظار کرتے) یہاں  تک کہ وہ اپنے معمول کے مطابق باہر تشریف لے آتے ۔حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا کا یہ طرزِ عمل بہت برا معلوم ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا:آپ نے دروازہ کیوں  نہیں بجایا(تاکہ میں  فوراًباہرآجاتااورآپ کوانتظارکی زحمت نہ اٹھانی پڑتی؟)حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے جواب دیا:عالِم اپنی قوم میں  اس طرح ہوتاہے جس طرح نبی اپنی امت میں  ہوتاہے (یعنی عالِم نبی کا وارث ہوتا ہے) اور (چونکہ) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  ارشاد فرمایا ہے ’’ وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ‘‘(اس لئے میں  نے بھی دروازہ بجانے کی بجائے آپ کے خود ہی تشریف لے آنے کا انتظار کیا)۔

            علامہ آلوسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ اپناطرزِعمل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : میں  نے یہ واقعہ بچپن میں  پڑھا تھا، اس کے بعد میں عمربھراسی کے مطابق اپنے استادوں  کے ساتھ معاملہ کرتارہا۔( روح المعانی ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۱۳ / ۴۱۲)

آیت ’’وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے مزید دو باتیں  معلوم ہوئیں ،

(1)…اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربار شریف کے آداب اللہ تعالیٰ نے بنائے اور اسی نے سکھائے ہیں ، یاد رہے کہ یہ آداب صرف انسانوں  پر ہی



Total Pages: 250

Go To