Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

’’ لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ‘‘(حجرات:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اپنی آوازیں  نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔

            اور میں  کہہ رہاہوں  کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا جبکہ تم کلام کر رہے ہو (یعنی آواز اگرچہ میری ہے لیکن کلام تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہے،پھر تم اس کلام کو سنتے ہوئے کیوں  گفتگوکر رہے ہو) ۔( شعب الایمان ،  الخامس عشر من شعب الایمان... الخ ،  ۲ / ۲۰۶ ،  روایت نمبر: ۱۵۴۶)

آیت ’’لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ‘‘ سے متعلق 3 اَہم باتیں :

            یہاں  اس آیت سے متعلق 3اَہم باتیں  ملاحظہ ہوں :

(1)… بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا جو ادب و احترام اس آیت میں  بیان ہوا، یہ آپ کی ظاہری حیاتِ مبارکہ کے ساتھ ہی خاص نہیں  ہے بلکہ آپ کی وفات ِظاہری سے لے کر تا قیامت بھی یہی ادب و احترام باقی ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :اب بھی حاجیوں  کو حکم ہے کہ جب روضۂ پاک پر حاضری نصیب ہو تو سلام بہت آہستہ کریں  اور کچھ دور کھڑے ہوں  بلکہ بعض فُقہا نے تو حکم دیاہے کہ جب حدیث ِپاک کا درس ہو رہا ہو تو وہاں  دوسرے لوگ بلند آواز سے نہ بولیں  کہ اگرچہ بولنے والا (یعنی حدیث ِپاک کا درس دینے والا) اور ہے مگر کلام تورسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا ہے ۔( شان حبیب الرحمٰن،ص۲۲۵)

(2)… بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  ایسی آواز بلند کرنا منع ہے جو آپ کی تعظیم وتوقیر کے برخلاف ہے اور بے ادبی کے زُمرے میں  داخل ہے اور اگر اس سے بے ادبی اور توہین کی نیت ہو تو یہ کفر ہے، لہٰذا جنگ کے دوران یا اَشعار کی صورت میں  کفار کی مذمت بیان کرنے کے دوران صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی جو آوازیں  بلند ہوئیں  وہ اس آیت میں  داخل نہیں  کیونکہ یہ تعظیم و توقیر کے خلاف نہ تھیں  بلکہ بعض مقامات پر نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اجازت سے تھیں  ،اسی طرح اذان کے وقت جو آواز بلند ہوئی وہ بھی اس میں  داخل نہیں  کیونکہ اذان ہوتی ہی بلند آواز سے ہے۔

(3)…علماء ِکرام کی مجالس میں  بھی آواز بلند کرنا ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں۔(قرطبی ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۸ / ۲۲۰ ،  الجزء السادس عشر)

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جو اپنی آوازیں  پست کرتے ہیں  رسولُ اللہ کے پاس وہ ہیں  جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں  یہی وہ لوگ ہیں  جن کے دلوں  کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ: بیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں ۔} شانِ نزول:جب یہ آیت ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ‘‘ نازل ہوئی تو اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ،حضرت عمر فاروق اورکچھ دیگر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے بہت احتیاط لازم کر لی اورسرکارِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت ِاَقدس میں  بہت ہی پَست آواز سے عرض معروض کرتے (جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے)، ان حضرات کے حق میں  یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے عمل کو سراہتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا’’بیشک جولوگ ادب اور تعظیم کے طور پر اللہ تعالیٰ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  اپنی آوازیں  پَست رکھتے ہیں  ،یہی وہ لوگ ہیں  جن کے دلوں  کو اللہ تعالیٰ نے پرہیز گاری کے لئے پَرَکھ لیا (اور ان میں  موجود پرہیز گاری کو ظاہر فرما دیا) ہے، ان کے لیے آخرت میں  بخشش اور بڑا ثواب ہے۔( جلالین مع صاوی ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۵ / ۱۹۸۷-۱۹۸۸)

آیت ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ‘‘ سے حاصل ہونے و الی معلومات:

            اس آیت سے 5 باتیں  معلوم ہوئیں

(1)… تمام عبادات بدن کا تقویٰ ہیں  اور حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب دل کا تقویٰ ہے۔

(2)…اللہ تعالیٰ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے دل تقویٰ کے لئے پَرَکھ لئے ہیں  تو جو انہیں  مَعَاذَاللہ فاسق مانے وہ اس آیت کا مُنکر ہے۔

(3)…صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ انتہائی پرہیز گار اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے کیونکہ جس نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ تعالیٰ کا رسول مان لیا اور آپ کی اس قدر تعظیم کی کہ آپ کے سامنے اس ڈر سے اپنی آواز تک بلند نہ کی کہ کہیں  بلند آواز سے بولنے کی بنا پر اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں  تو ا س کے دل میں  اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کا خوف کتنا زیادہ ہو گا۔

(4)… حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا کی بخشش یقینی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بخشش کا اعلان فرمادیا ہے ۔

(5)… ان دونوں  بزرگوں  کا اجر وثواب ہمارے وہم وخیال سے بالا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عظیم فرمایا ہے۔

حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی شان:

            حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے اپنی معذوری کے باوجود اپنے اوپر یہ لازم کر لیا تھا کہ وہ کبھی نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آواز پر اپنی آواز بلند نہیں  کریں  گے ،ان کے بارے میں  حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم اہلِ جنت میں  سے ایک شخص کو اپنے سامنے چلتا ہوا دیکھتے تھے اور جب یمامہ کے مقام پر مُسیلمہ سے جنگ ہوئی تو حضرت ثابت



Total Pages: 250

Go To