Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

عَنْہُ کی وفات نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصالِ ظاہری کے بہت بعد کی ہے ۔

(4)… حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں  :میں  رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے منبر کے پاس تھا،ایک شخص نے کہا:اسلام لانے کے بعد اگر میں  صرف حاجیوں  کو پانی پلانے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کروں  تو مجھے کوئی پرواہ نہیں  ہے۔دوسرے شخص نے کہا:اسلام لانے کے بعد اگر میں  مسجد ِحرام کو آباد کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کروں  تو مجھے کوئی پرواہ نہیں  ہے۔تیسرے شخص نے کہا:اللہ تعالیٰ کی راہ میں  جہاد کرنا تمہاری کہی ہوئی باتوں  سے افضل ہے۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے انہیں  ڈانٹتے ہوئے فرمایا: ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےمنبر کے پاس اپنی آواز بلند نہ کرو۔( مسلم ،  کتاب الامارۃ ،  باب فضل الشّہادۃ فی سبیل اللّٰہ تعالی ،  ص۱۰۴۴ ،   الحدیث: ۱۱۱(۱۸۷۹))

(5)… ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے مسجد ِنَبوی میں  دو شخصوں  کی بلند آواز سنی تو آپ (ان کے پاس) تشریف لائے اور فرمایا’’کیا تم دونوں  جانتے ہو کہ کہاں  کھڑے ہو؟پھر ارشاد فرمایا:تم کس علاقے سے تعلق رکھتے ہو؟ دونوں  نے عرض کی:ہم طائف کے رہنے والے ہیں  :ارشاد فرمایا:اگر تم مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوتے تو میں  (یہاں  آواز بلند کرنے کی وجہ سے) تمہیں  ضرور سزا دیتا (کیونکہ مدینہ منورہ میں  رہنے والے دربارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آداب سے خوب واقف ہیں )۔( ابن کثیر ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۷ / ۳۴۳)

(6)… اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ لکھتے ہیں  :امیر المومنین عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے روضۂ انور کے پاس کسی کو اونچی آواز سے بولتے دیکھا، فرمایا: کیا اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند کرتاہے، اور یہی آیت (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ) تلاوت کی۔ (ہوسکتا ہے کہ واقعہ وہی ہو جو اوپر چار نمبر کے تحت بیان ہوا ہے۔)( فتاوی رضویہ، ۱۵ / ۱۶۹)

آیت ’’ لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ‘‘ میں  دئیے گئے حکم پر دیگربزرگانِ دین کاعمل:

          صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ظاہری حیات ِمبارکہ میں  بھی اور وصالِ ظاہری کے بعد بھی آپ کی بارگاہ کا بے حد ادب و احترام کیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ کے جو آداب انہیں  تعلیم فرمائے انہیں  دل و جان سے بجا لائے، اسی طرح ان کے بعد تشریف لانے والے دیگر بزرگانِ دین رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِمْ نے بھی دربارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آداب کاخوب خیال رکھا اور دوسروں  کو بھی وہ آداب بجا لانے کی تلقین کی ،چنانچہ یہاں  ان کی سیرت کے اس پہلو سے متعلق3 واقعات ملاحظہ ہوں :

(1)…ابو جعفر منصور بادشاہ مسجد ِنَبوی میں  حضرت امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے ایک مسئلے کے بارے میں  گفتگو کررہا تھا، (اس دوران ا س کی آواز کچھ بلند ہوئی تو) امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اے مسلمانوں  کے امیر! اس مسجد میں  آواز بلند نہ کر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک جماعت کو ادب سکھایا اور فرمایا:

’’ لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ‘‘(حجرات:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اپنی آوازیں  نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔

            اور ایک جماعت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ‘‘(حجرات:۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں  یہی وہ لوگ ہیں  جن کے دلوں  کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔

             اور ایک جماعت کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:

’’ اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ‘‘(حجرات:۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں  کے باہر سے پکارتے ہیں  ان میں  اکثر بے عقل ہیں ۔

            بے شک وصال کے بعد بھی حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت ایسی ہے جیسی آپ کی ظاہری حیات میں  تھی۔ (یہ سن کر) ابو جعفر نے عاجزی کا اظہار کیا اور کہا: اے ابو عبداللہ! میں  قبلہ رُو ہوکر دعا کروں  یا، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف رخ کروں ؟ امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا: تُو حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کیوں  رُخ پھیرتا ہے حالانکہ حضورِانور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  تیرے اور تیرے جد ِاَمجد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وسیلہ ہیں ، تُو حضورپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف رُخ کر اور شفاعت کی درخواست کر، اللہ تعالیٰ تیرے لئے شفاعت قبول فرمائے گا۔( الشفا ،  القسم الثانی ،  الباب الاول ،  فصل واعلم ان حرمۃ النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم... الخ ،  ص۴۱ ،  الجزء الثانی)

(2)…امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ (مسجد ِنَبوی میں  درس دیا کرتے تھے ،جب ان) کے حلقہ ٔدرس میں  لوگوں  کی تعداد زیادہ ہوئی تو ان سے عرض کی گئی : آپ ایک آدمی مقرر کر لیں  جو (آپ سے حدیث پاک سن کر) لوگوں  کو سنا دے ۔امام مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ‘‘(حجرات:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں  نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔

            اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت و حرمت زندگی اور وفات دونوں  میں  برابر ہے (اس لئے میں  یہاں  کسی شخص کوآواز بلند کرنے کے لئے ہر گز مقرر نہیں  کر سکتا) ۔( الشفا ،  القسم الثانی ،  الباب الاول ،  فصل واعلم ان حرمۃ النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم... الخ ،  ص۴۳ ،  الجزء الثانی)