Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اسے اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ رزق تھوڑا ملنے میں  میری ہی بھلائی ہو گی کیونکہ جس چیز میں  میری بھلائی ہے اسے میرا رب عَزَّوَجَلَّ بہتر جانتا ہے اور چونکہ رزق دینے والا بھی وہی ہے ا س لئے اس کی بارگاہ سے مجھے دوسروں  کے مقابلے میں  کم رزق ملنے میں  یقینا میری دنیا اور آخرت کا بھلا ہو گا اور اسی میں  میرے ایمان کی قیمتی ترین دولت کی حفاظت کا سامان ہو گا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ دولت ملنے کے بعد میرا دل بدل جائے اور میں  اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں  میں  مبتلا ہو کر اپنے ایمان کی دولت ضائع کر بیٹھوں  اور قیامت کے دن جہنم کے دردناک عذاب میں  ہمیشہ کے لئے مبتلا ہو جاؤں ۔ ایسا کرنے سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ پریشان دماغ کو راحت اور بے چین دل کو سکون نصیب ہو گا۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں  اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں  سے کچھ دیں  گے اور آخرت میں  اُس کا کچھ حصہ نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں  اضافہ کردیتے ہیں  اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے توہم اسے اس میں  سے کچھ دیدیتے ہیں  اور آخرت میں  اس کا کچھ حصہ نہیں ۔

{مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ: جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے۔} اس آیت میں  اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے عمل کرنے والوں  اور ان لوگوں  کا حال بیان کیا گیا ہے جو اپنے اعمال کے ذریعے دُنْیَوی وجاہت اور سا زو سامان کے خواہش مندہیں ۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جسے اپنی نماز،روزہ اور دیگر اعمال سے آخرت کا نفع مقصود ہو تو ہم اسے نیکیوں  کی توفیق دے کر ، اس کے لئے نیک اعمال اور اطاعت گزاری کی راہیں  آسان کرکے اور اس کی نیکیوں  کا ثواب دس گُنا سے لے کر سات سو گُنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ جتنا ہم چاہیں  بڑھا کر ا س کے اُخروی نفع میں  اضافہ کر دیتے ہیں  اور جس کا عمل محض دنیا حاصل کرنے کے لئے ہو اور وہ آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو ہم اسے دنیامیں  سے اُتنا دے دیتے ہیں  جتنا ہم نے دنیا میں اس کے لئے مقدّر کیا ہے اور آخرت کی نعمتوں میں  اس کا کچھ حصہ نہیں کیونکہ اس نے آخرت کے لئے عمل کیا ہی نہیں ۔(جلالین مع صاوی ، الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۵ / ۱۸۶۹-۱۸۷۰ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۴ / ۹۴ ،  مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ص۱۰۸۶ ،  ملتقطاً)

نیک اعمال سے اللہ تعالٰی کی رضاکے طلبگار اور دنیا کے طلبگار کا حال:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے عمل کرے اور ان اعمال سے صرف اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرنے کی نیت کرے تو اسے اللہ تعالیٰ دنیا میں  بھی نوازتا ہے اور آخرت میں  بھی ا س پر اپنے لطف و کرم کی بارش فرمائے گا اور وہ شخص جو اپنی نماز، روزہ،حج ،زکوٰۃ، صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال سے اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرنے کی نیت نہ کرے بلکہ ان اعمال کے ذریعے دنیا میں  مال و دولت،عزت و شہرت اور اپنی واہ واہ چاہے تو دنیا میں  اسے صرف اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے نصیب میں  لکھا ہے اور آخرت میں  ان اعمال کے ثواب سے اسے محروم کر دیا جائے گا ۔اسی سے متعلق یہاں  تین اَحادیث بھی ملاحظہ ہوں ،

(1)… حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص(صرف) دنیا کی فکر میں  رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو پَراگندہ کر دیتا ہے اور ا س کی تنگ دستی کو اس کی آنکھوں  کے سامنے کر دیتا ہے اور اسے دنیا سے صرف اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا ا س کے لئے (پہلے سے) لکھ دیا گیا ہے اور جو شخص آخرت کا قصد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ا س کے معاملے کو اکٹھا کر دیتا ہے اور ا س کی مالداری کو اس کے دل میں  رکھ دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس خاک آلود ہو کر آتی ہے۔( ابن ماجہ ،  کتاب الزہد ،  باب الہمّ بالدنیا ،  ۴ / ۴۲۴ ،  الحدیث: ۴۱۰۵)

(2)… حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اپنی تمام فکروں  کو صرف ایک فکر بنا دیا اور وہ آخرت کی فکر ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی دنیا کی فکر کے لئے کافی ہے اور جس کی فکریں  دنیا کے اَحوال میں  مشغول رہیں  تو اللہ تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں  ہو گی کہ وہ کس وادی میں  ہلاک ہو رہا ہے۔( ابن ماجہ ،  کتاب الزہد ،  باب الہمّ بالدنیا ،  ۴ / ۴۲۵ ،  الحدیث: ۴۱۰۶)

(3)…حضرت جارود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے آخرت کے عمل کے بدلے دنیا طلب کی تو اس کا چہرہ بگاڑ دیاجائے گا،اس کا ذکر مٹا دیا جائے گا اور جہنم میں  اس کا نام لکھ دیا جائے گا۔( معجم الکبیر ،  الجارود بن عمرو بن المعلی۔۔۔ الخ ،  ۲ / ۲۶۸ ،  الحدیث: ۲۱۲۸)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  اپنی رضا حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُؕ-وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْؕ-وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں  جنہوں  نے ان کے لیے وہ دین نکال دیا ہے کہ اللہ نے اس کی اجازت نہ دی اور اگر ایک فیصلہ کا وعدہ نہ ہوتا تو یہیں  ان میں  فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک ظالموں  کے لیے دردناک عذاب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ کافروں  کے کچھ ساتھی ہیں  جنہوں  نے ان کے لیے دین کا وہ راستہ مقرر کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں  دی اور اگر فیصلہ کرنے کی بات (طے)نہ ہوتی تو (یہیں ) ان میں  فیصلہ کردیا جاتااور بیشک ظالموں  کے لیے دردناک عذاب ہے۔

{اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا: یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں ۔} دنیا اور آخرت کے اعمال کے بارے میں  ایک قانون بیان کرنے کے بعد اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے وہ چیز بیان فرمائی ہے جو بد بختی اور گمراہی کی بنیاد ہے ۔اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کفارِ مکہ اُس دین کو قبول نہیں  کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر فرمایا ہے بلکہ کافروں  کے کچھ ساتھی ہیں ، شَیاطین وغیرہ جنہوں  نے ان کے لیے کُفریَّہ دینوں  میں  سے وہ دین انہیں  پیش کیا ہے جو شرک اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کے انکار پر مشتمل ہے اور یہ دین اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف ہے اور کفار اسی دین کو قبول کئے ہوئے ہیں  جس کا انجام تو یہ ہے کہ اگر فیصلہ کرنے کی بات طے نہ ہوتی اور جزا کے لئے قیامت کا دن مُعَیَّن نہ فرمادیا گیا ہوتا تو یہیں  ایمان والوں  اور کفار میں  فیصلہ کردیا جاتا



Total Pages: 250

Go To