Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

التفسیر ،  باب اِنّ الذین یُنادونک... الخ ،  ۳ / ۳۳۲ ،  الحدیث: ۴۸۴۷) اس صورت میں  اس شانِ نزول کا تعلق آیت نمبر 1اور2دونوں  سے ہے ۔

 (2)… دوسرا شانِ نزول یہ بیان ہوا ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  منافقین اپنی آوازیں  بلند کیا کرتے تھے تاکہ کمزور مسلمان(اس معاملے میں )ان کی پیروی کریں  ،اس پر مسلمانوں  کوبارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  آواز بلند کرنے سے منع کر دیا گیا (تاکہ منافق اپنے مقصد میں  کامیاب نہ ہوں )( قرطبی ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۸ / ۲۲۰ ،  الجزء السادس عشر)

 (3)…تیسرا شانِ نزول یہ بیان کیا گیا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے بارے میں  نازل ہوئی، وہ اونچا سنا کرتے تھے ، اُن کی آواز بھی اُونچی تھی اور بات کرنے میں  آواز بلند ہوجایا کرتی تھی اور بعض اوقات اس سے حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اَذِیَّت ہوتی تھی۔( مدارک ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ص۱۱۵۰)

             حضرت ثابت بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا بلند آوازسے بات کرنا اگرچہ اونچا سننے کی معذوری کی بنا پر تھا لیکن معذوری اونچا سننا تھا نہ کہ اونچا بولنا کیونکہ اونچا سننے والے کیلئے اونچا بولنا تو ضروری نہیں  اور اونچا سننے والے کو سمجھایا جائے کہ بھائی، تمہیں  اونچا سنتا ہے ، دوسروں  کو نہیں  لہٰذا تم اپنی آواز پَست رکھو تو اس کہنے میں  حرج نہیں  بلکہ یہ عین درست اور قابلِ عمل بات ہے اور تیسرے شانِ نزول کے اعتبار سے یہی تفہیم کی گئی ہے۔

            نوٹ: اس آیت کے شانِ نزول سے متعلق اور بھی روایات ہیں  ،ممکن ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے مختلف اسباب پیدا ہوئے ہوں  اور بعد میں  ایک ہی مرتبہ یہ آیت نازل ہو گئی ہو،جیسا کہ علامہ ابنِ حجر عسقلانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :اس بات سے کوئی چیز مانع نہیں  کہ آیت کا نزول مختلف اَسباب کی وجہ سے ہوا ہوجو آیت نازل ہونے سے پہلے وقوع پَزیر ہوئے تھے اور جب ان (روایات جن میں  یہ) اَسباب (بیان ہوئے،) کی اسناد صحیح ہیں  اور ان میں  تطبیق واضح ہے تو پھر ان میں  سے کسی کو ترجیح نہیں  دی جا سکتی۔( فتح الباری ،  کتاب التفسیر ،  باب لاترفعوا اصواتکم... الخ ،  ۹ / ۵۱۰ ،  تحت الحدیث: ۴۸۴۶)

            نیزیہ بھی ضروری نہیں  ہے کہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے کوئی بے ادبی سرزَد ہوئی ہو جس پر انہیں  تنبیہ کی گئی ہو،عین ممکن ہے کہ پیش بندی کے طور پر انہیں  یہ آداب تعلیم فرمائے گئے ہوں  اور بے ادبی کی سزا سے آگاہ کیا گیا ہو۔

آیت ’’لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ‘‘ کے نزول کے بعد صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کا حال:

            جب یہ آیت ِمبارکہ نازل ہوئی تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ بہت     محتاط ہو گئے اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے گفتگو کے دوران بہت سی احتیاطوں کو اپنے اوپر لازم کر لیا تاکہ آواز زیادہ بلند نہ ہو جائے، نیز اپنے علاوہ دوسروں  کو بھی ا س ادب کی سختی سے تلقین کرتے تھے ،اسی طرح آپ کے وصالِ ظاہری کے بعد آپ کے روضۂ انور کے پاس (خود بھی آواز بلند نہ کرتے اور) دوسروں  کو بھی آواز اونچی کرنے سے منع کرتے تھے ،یہاں  اسی سے متعلق 6 واقعات ملاحظہ ہوں :

(1)… حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :جب یہ آیت’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ‘‘ نازل ہوئی تو میں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ کی قسم! آئندہ میں  آپ سے سرگوشی کے انداز میں  بات کیا کروں  گا۔( کنزالعمال ، کتاب الاذکار ، قسم الافعال ، فصل فی التفسیر ، سورۃ الحجرات ، ۱ / ۲۱۴ ،  الجزء الثانی ،  الحدیث: ۴۶۰۴)

(2)…حضرت عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں  ـ:یہ آیت نازل ہونے کے بعد حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا حال یہ تھا کہ آپ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  بہت آہستہ آواز سے بات کرتے حتّٰی کہ بعض اوقات حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بات سمجھنے کے لئے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الحجرات ،  ۵ / ۱۷۷ ،  الحدیث: ۳۲۷۷)

(3)…حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ اپنے گھر میں  بیٹھ گئے اور (اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے) کہنے لگے: میں  اہلِ نار سے ہوں ۔ (جب یہ کچھ عرصہ بارگاہِ رسالت میں  حاضر نہ ہوئے تو) حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے اُن کا حال دریافت فرمایا، انہوں  نے عرض کی: وہ میرے پڑوسی ہیں  اور میری معلومات کے مطابق انہیں  کوئی بیماری بھی نہیں  ہے۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے کہا:یہ آیت نازل ہوئی ہے اور تم لوگ جانتے ہو کہ میں  تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں  (اور جب ایسا ہے) تو میں  جہنمی ہوگیا ۔حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے یہ صورت ِحال حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  عرض کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’(وہ جہنمی نہیں ) بلکہ وہ جنت والوں  میں سے ہیں ۔( مسلم ،  کتاب الایمان ،  باب مخافۃ المؤمن ان یحبط عملہ ،  ص۷۳ ،  الحدیث: ۱۸۷(۱۱۹))

          نوٹ:صحیح مسلم کی اس روایت میں  حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا ذکر ہے اور تفسیر ابنِ منذر میں  حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے ہی مروی یہی واقعہ مذکور ہے، اس میں  حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی بجائے حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا ذکر ہے ،اس کے بارے میں  علامہ ابنِ حجر عسقلانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے پوچھنا زیادہ درست ہے کیونکہ آپ کا تعلق حضرت ثابت بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے قبیلہ (خزرج) سے ہے اور حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے مقابلے میں  ان کا حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا پڑوسی ہونا زیادہ واضح ہے کیونکہ حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا تعلق دوسرے قبیلے (یعنی اَوس) سے تھا۔( فتح الباری ،  کتاب المناقب ،  باب علامات النّبوۃ فی الاسلام ،  ۷