Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

سورۂ حُجرات

سورۂ حجرات کا تعارف

مقامِ نزول:

            سورۂ حجرات مدینہ منورہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن ،  تفسیر سورۃ الحجرات ،  ۴ / ۱۶۳)

رکوع اور آیات کی تعداد:

            ۱ س سورت میں  2 رکوع اور18آیتیں  ہیں ۔

’’حجرات ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            حجرات کا معنی’’ حجرے اور کمرے‘‘ ہیں ،اور اس سورت کی آیت نمبر4میں  حجرات کالفظ ہے اسی مناسبت سے اس سورت کانام ’’سورۃُ الْحجرات‘‘ ہے ۔

 سورۂ حجرات کے مضامین:

            اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس سورت میں  متعدد اُمور میں  مسلمانوں  کی تربیت فرمائی گئی ہے اور اس سور ت میں  یہ چیزیں  بیان کی گئی ہیں :

(1)…اس سورت کی ابتداء میں  حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ کے خصوصی آداب بیان کئے گئے ہیں  اور جو لوگ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  اپنی آوازیں  نیچی رکھتے ہیں  انہیں  بخشش اور بڑے ثواب کی بشارت دی گئی۔

(2)…مسلمانوں  کومعاشرتی آداب بتائے گئے اور ان کی اَخلاقی تربیت کی گئی کہ تحقیق کئے بغیر کوئی خبر قبول نہ کریں ، کسی مسلمان کے بارے میں  بدگمانی نہ کریں ،کسی کی غیبت نہ کریں  ،کسی کا نام نہ بگاڑیں  اور کسی کا مذاق نہ اُڑائیں  ۔

(3)… یہ حکم دیاگیا کہ اگر مسلمانوں  کے دو گروہ آپس میں  لڑ پڑیں  تو ان میں  صلح کرا دی جائے اور اگر وہ صلح نہ کریں  تو ان میں  سے جو گروہ باطل پر ہو تو اس کے ساتھ جنگ کی جائے یہاں  تک کہ وہ راہ ِراست پر گامزن ہو جائے۔

(4)…اس سورت کے آخر میں  اپنے ایمان کا احسان جتانے والوں  کی سرزَنِش کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ کسی کا اسلام قبول کرنا اللہ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کوئی احسان نہیں  ہے نیز حقیقی مسلمان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے پھر وہ دین کے کسی کام میں شک نہ کرے اور اپنی جان اور مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں  جہاد کرے۔

سورۂ فتح کے ساتھ مناسبت:

            سورۂ حجرات کی اپنے سے ما قبل سورت ’’فتح‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ فتح میں  کفار کے ساتھ جہاد کرنے کے بارے میں  بیان ہوا اور سورۂ حجرات میں  باغیوں  کے ساتھ جہاد کرنے کے بارے میں  بیان ہوا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں  سورتوں  میں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان اور مقام و مرتبہ بیان کیاگیا ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھواور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سُنتا جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والاہے۔

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اے ایمان والو!۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں  کو اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اجازت کے بغیرکسی قول اور فعل میں  اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے کیونکہ یہ آگے بڑھنارسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ادب و احترام کے خلاف ہے جبکہ بارگاہِ رسالت میں  نیاز مندی اور آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے اور تم اپنے تمام اَقوال و اَفعال میں  اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو گے تو یہ ڈرنا تمہیں  آگے بڑھنے سے روکے گا اور ویسے بھی اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ تمہارے تمام اقوال کو سنتا اور تمام افعال کو جانتا ہے اور جس کی ایسی شان ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔

            اس آیت کے شان نزول سے متعلق مختلف روایات ہیں  ،ان میں  سے دو رِوایات درجِ ذیل ہیں  ،

(1)…چند لوگوں نے عیدُالاضحی کے دِن سر کارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پہلے قربانی کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ دوبارہ قربانی کریں ۔

 (2)… حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے مروی ہے کہ بعض لوگ رمضان سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے،ان کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ روزہ رکھنے میں  اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ سے آگے نہ بڑھو۔ (خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۴ / ۱۶۳-۱۶۴ ،  جلالین ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ص۴۲۶ ،  مدارک ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ص۱۱۴۹-۱۱۵۰ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 250

Go To