Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(3)…حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ (ممنوع اَیّام کے علاوہ) مسلسل روزہ رکھا کرتے اور رات کے ابتدائی حصے میں  کچھ دیر آرام کرتے پھر ساری رات عبادت میں  بسر کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب صلاۃ التطوع... الخ ،  من کان یامر بقیام اللیل ،  ۲ / ۱۷۳ ،  الحدیث: ۶)

(4)…حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی زوجہ فرماتی ہیں :آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ ساری رات عبادت کرتے اور (بسا اوقات)ایک رکعت میں  قرآنِ مجید ختم فرمایا کرتے تھے۔( معجم الکبیر ،  سن عثمان ووفاتہ رضی اللّٰہ عنہ ،  ۱ / ۸۷ ،  الحدیث:۱۳۰)

(5)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بارے میں  مروی ہے کہ جب نماز کا وقت ہوجاتا تو آپ پر کپکپاہٹ طاری ہو جاتی اور چہرے کا رنگ بدل جاتا،آپ سے عرض کی گئی:اے امیر المومنین!آپ کو کیا ہو گیا؟ارشاد فرمایا: ’’اس امانت کی ادائیگی کا وقت آ گیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں ،زمین اور پہاڑوں  پر پیش کیا تو انہوں  نے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اسے اٹھانے سے ڈر گئے۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب اسرار الصلاۃ ومہماتہا ،  فضیلۃ الخشوع ،  ۱ / ۲۰۶)

(6)…حضرت نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا  رات میں  نماز پڑھتے، پھر فرماتے :اے نافع!کیا سحری کا وقت ہو گیا؟وہ عرض کرتے:نہیں ،تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ دوبارہ نماز پڑھنا شروع کر دیتے، پھر (جب نماز سے فارغ ہوتے تو) فرماتیـ:اے نافع!کیا سحری کا وقت ہو گیا؟میں  عرض کرتا:جی ہاں ،تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ بیٹھ کر استغفار اور دعا میں  مصروف ہو جاتے یہاں  تک کہ صبح ہو جاتی۔( معجم الکبیر ،  عبد اللّٰہ بن عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہما ،  ۱۲ / ۲۶۰ ،  الحدیث: ۱۳۰۴۳)

(7)…جب قبیلہ بنو حارث کے لوگ حضرت خبیب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو شہید کرنے کے لئے مقامِ تنعیم کی طرف لے گئے تواس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے ان سے فرمایا: مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔انہوں  نے اجازت دیدی تو آپ نے نماز ادا کرنے کے بعد ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا’’اللہ تعالیٰ کی قسم!اگرتم یہ گمان نہ کرتے کہ میں  موت سے ڈر کر لمبی نماز پڑھ رہا ہو ں  تو میں  ضرور نماز کو طویل کردیتا۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام ،  ذکر یوم الرجیع فی سنۃ ثلاث ،  ص۳۷۱ ،   ملخصاً)

            اللہ تعالیٰ ان عظیم ہستیوں  کی مقبول نمازوں  کے صدقے ہمیں  بھی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

{سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِِ: ان کی علامت ان کے چہروں  میں سجدوں  کے نشان سے ہے۔} یعنی ان کی عبادت کی علامت ان کے چہروں  میں  سجدوں  کے اثر سے ظاہر ہے ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ یہ علامت وہ نور ہے جو قیامت کے دن اُن کے چہروں  سے تاباں  ہوگا اور اس سے پہچانے جائیں  گے کہ انہوں نے دنیا میں  اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے بہت سجدے کئے ہیں ۔بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ وہ علامت یہ ہے کہ ان کے چہروں  میں  سجدے کا مقام چودھویں  رات کے چاند کی طرح چمکتا دمکتا ہوگا۔حضرت عطاء رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا قول ہے کہ رات کی لمبی نمازوں  سے اُن کے چہروں  پر نور نمایاں  ہوتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں  ہے: جو رات میں  کثرت سے نماز پڑھتا ہے تو صبح کو اس کا چہرہ خوب صورت ہوجاتا ہے۔‘‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرد کا نشان بھی سجدہ کی علامت ہے۔( خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ۴ / ۱۶۲ ،  مدارک ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ص۱۱۴۸ ،  ملتقطا)

{ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ ﳝ- وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ: یہ ان کی صفت توریت میں  ہے اور ان کی صفت انجیل میں  ہے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ توریت اور انجیل میں  صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے بیان کردہ یہ اوصاف مذکور ہیں  اور خاص طور پر وہ مثا ل مذکور ہے جو آگے بیان ہو رہی ہے۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہاں  صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے جو اَوصاف بیان ہوئے یہ توریت میں  مذکور ہیں  اور انجیل میں  مذکور ہے کہ ان کی مثال ایسے ہے جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی باریک سی کونپل نکالی، پھر اسے طاقت دی، پھر وہ موٹی ہوگئی ،پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی اوران چیزوں  کی وجہ سے وہ کسانوں  کو اچھی لگتی ہے۔

            مفسرین فرماتے ہیں  کہ یہ اسلام کی ابتداء اور اس کی ترقی کی مثال بیان فرمائی گئی ہے کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تنہا اُٹھے، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کے مخلص اَصحاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے تَقْوِیَت دی۔ حضرت قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَصحاب کی مثال انجیل میں  یہ لکھی ہے کہ ایک قوم کھیتی کی طرح پیدا ہوگی،اس کے لوگ نیکیوں  کا حکم کریں  گے اور بدیوں  سے منع کریں  گے۔ ایک قول یہ ہے کہ کھیتی سے مراد حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں  اور اس کی شاخوں  سے مراد صحابہ ٔکرام اور (ان کے علاوہ) دیگر مومنین ہیں۔( تفسیرکبیر ، الفتح ، تحت الآیۃ : ۲۹ ، ۱۰ / ۸۹ ، خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۹، ۴ / ۱۶۲، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۱۱۴۸، ملتقطاً)

            مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں :ـصحابہ ٔکرام (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ) کو کھیتی سے اس لئے تشبیہ دی کہ جیسے کھیتی پر زندگی کا دار و مدار ہے ایسے ہی ان پر مسلمانوں  کی ایمانی زندگی کا مدار ہے اور جیسے کھیتی کی ہمیشہ نگرانی کی جاتی ہے ایسے ہی اللہ تعالیٰ ہمیشہ صحابہ ٔکرام (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ) کی نگرانی فرماتا رہتا رہے گا، نیز جیسے کھیتی اولاً کمزور ہوتی ہے پھر طاقت پکڑتی ہے ایسے ہی صحابہ ٔکرام (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ) اولاً بہت کمزورمعلوم ہوتے تھے پھر طاقتور ہوئے۔( نور العرفان، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۸۲۲)

            آیت کے اس حصے سے معلوم ہوا کہ جس طرح توریت اور انجیل میں  حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت شریف مذکور تھی ایسے ہی حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے مَناقِب بھی تھے۔

{لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ: تاکہ ان سے کافروں  کے دل جلیں ۔} یعنی صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو کھیتی سے تشبیہ اسلئے دی گئی ہے تاکہ ان سے کافروں  کے دل جلیں ۔( مدارک ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ص۱۱۴۸)اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے جلنا کافروں  کا طریقہ ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کی اُلفت و محبت نصیب فرمائے، آمین۔

{وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ: اللہ نے ان میں  سے ایمان والوں اور اچھے کام کرنے والوں  سے وعدہ فرمایا ہے۔} اس آیت کے شروع میں  صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے اَوصاف و فضائل بیان کیے گئے اور آخر میں  ان کو مغفرت اوراجر ِعظیم کی بشارت دی جارہی ہے۔یاد رہے کہ تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ صاحبِ ایمان اور نیک اعمال کرنے والے ہیں  اس لئے یہ وعدہ سبھی صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے ہے۔

 



Total Pages: 250

Go To