Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

تمہارا داخل ہونا اگلے سال ہے اور تم اسی سال سمجھے تھے اور تمہارے لئے تاخیر بہتر تھی کہ اس کے باعث وہاں  کے ضعیف مسلمان پامال ہونے سے بچ گئے تو اس نے مکے میں  داخلے سے پہلے ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی ہے کہ جس فتح کا وعدہ کیا گیا اس کے حاصل ہونے تک مسلمانوں  کے دل اس سے راحت پائیں ۔ نزدیک آنے والی فتح سے مراد خیبر کی فتح ہے۔( خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۴ / ۱۶۱ ،  مدارک ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ص۱۱۴۶-۱۱۴۷ ،  ملتقطاً)

 آیت ’’ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            آیت کے اس حصے اور ا س کے بعد والے حصے سے دو مسئلے معلوم ہوئے:

(1)… کبھی سارے حرم شریف کو مسجد ِحرام کہہ دیتے ہیں ،یہاں  ایساہی ہے کیونکہ خاص مسجد حرام شریف میں  حاجی بال نہیں  منڈاتے ۔

(2)… حج وغیرہ میں  بال منڈانا کتروانے سے افضل ہے کیونکہ یہاں  اللہ تعالیٰ نے پہلے بال منڈانے کا ذکر فرمایا ہے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اُسے سب دینوں  پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہی (اللہ) ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے سب دینوں  پر غالب کردے اور اللہ کافی گواہ ہے۔

{هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔} جب اگلا سال آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خواب کا جلوہ دکھلایا اور واقعات اس کے مطابق رونُما ہوئے، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے :وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے سب دینوں  پر غالب کردے خواہ وہ مشرکین کے دین ہوں  یا اہل ِکتاب کے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتعطا فرمائی اور اسلام کو تمام اَدیان پر غالب فرمادیا۔آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایاکہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے حبیب محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت پر گواہ کافی ہے۔( خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ۴ / ۱۶۱ ،  مدارک ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ص۱۱۴۷ ،  ملتقطاً)

             اس سے معلوم ہوا کہ اللہ  تعالیٰ کی وحدانیَّت کی گواہی دینا رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت ہے اور حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کی گواہی دینا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے ، کلمہ طیبہ میں  دونوں  سنتیں  جمع ہیں  ۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ-ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ ﳝ- وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ ﱠ كَزَرْعٍ اَخْرَ جَ شَطْــٴَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَؕ-وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: محمد اللہ کے رسول ہیں  اور ان کے ساتھ والے کافروں  پر سخت ہیں  ا ور آپس میں  نرم دل تو انہیں  دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں  گرتے اللہ کا فضل و رضا چاہتے ان کی علامت اُن کے چہروں  میں  ہے سجدوں  کے نشان سے یہ ان کی صفت توریت میں  ہے اور ان کی صفت انجیل میں  جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اُسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں  کو بھلی لگتی ہے تاکہ اُن سے کافروں  کے دل جلیں  اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں  ایمان اور اچھے کاموں  والے ہیں  بخشش اور بڑے ثواب کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں  پر سخت ، آپس میں  نرم دل ہیں ۔ تُو انہیں  رکوع کرتے ہوئے، سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا ،اللہ کا فضل و رضا چاہتے ہیں ، ان کی علامت ان کے چہروں  میں  سجدوں  کے نشان سے ہے ۔یہ ان کی صفت تورات میں  (مذکور) ہے اور ان کی صفت انجیل میں  (مذکور) ہے۔ (ان کی صفت ایسے ہے) جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی باریک سی کونپل نکالی پھر اسے طاقت دی پھر وہ موٹی ہوگئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی، کسانوں  کو اچھی لگتی ہے (اللہ نے مسلمانوں  کی یہ شان اس لئے بڑھائی) تاکہ ان سے کافروں  کے دل جلائے۔ اللہ نے ان میں  سے ایمان والوں اور اچھے کام کرنے والوں  سے بخشش اور بڑے ثواب کاوعدہ فرمایا ہے۔

{مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ: محمد اللہ کے رسول ہیں ۔} اس سے پہلی آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنی پہچان کروائی کہ’’ اللہ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ‘‘ اور اس آیت میں  اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پہچان کروا رہا ہے کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔

            مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :اگرچہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صفات بہت ہیں ، لیکن رب تعالیٰ نے انہیں  یہاں  رسالت کی صفت سے یاد فرمایا اور کلمہ میں  بھی یہ ہی وصف رکھا،دو وجہ سے ، ایک یہ کہ حضور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا تعلق رب (عَزَّوَجَلَّ) سے بھی ہے اور مخلوق سے بھی۔رسول میں  ان دونوں  تعلقوں  کا ذکر ہے یعنی خدا کے بھیجے ہوئے اور مخلوق کی طرف بھیجے ہوئے ۔اگرچہ نبی میں  بھی یہ بات حاصل ہے لیکن نبی میں  صرف خبر لاناہے اور رسول میں  (شریعت و کتاب) خبر،ہدایات اور انعامات سب لانے کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرے اس لئے کہ و ہ بچھڑوں  کو ملانے والے رسول ہی ہوتے ہیں ، جیسے ڈاک کا محکمہ کہ اگر یہ نہ ہوں  تو وہ ملک اور وہ شہر کٹ جاویں ، اسی طرح خالق و مخلوق میں  تعلق پیدا کرنے والے رسول ہی ہیں  کہ اگر ان کا واسطہ درمیان میں  نہ ہو تو خالق و مخلوق میں  کوئی تعلق نہ رہے، حضور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے رسول ہیں  کہ اُس کی نعمتیں  ہم تک پہنچاتے ہیں  اور ہمارے رسول ہیں  کہ ہماری درخواستیں  بارگاہِ رب میں  پیش فرماتے ہیں  اور ہمارے گناہ وہاں  پیش کر کے معاف کراتے ہیں ،جو کہے کہ ہم خود رب (عَزَّوَجَلَّ) تک پہنچ جائیں  گے وہ درپردہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی رسالت کا منکر ہے ،اگر ہم وہاں  خود پہنچ جاتے تو رسول کی کیا ضرورت تھی، رب (عَزَّوَجَلَّ) غنی ہو کر بغیر واسطہ ہم سے تعلق نہیں  رکھتاتو ہم محتاج اور ضعیف ہو کر (واسطے کے بغیر) رب تعالیٰ سے تعلق کیسے رکھ سکتے ہیں ۔( شان حبیب الرحمٰن، ص ۲۱۸)

{وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ: اور ان کے ساتھ والے کافروں  پر سخت ، آپس میں  نرم دل ہیں ۔} آیت کے اس حصے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ



Total Pages: 250

Go To