Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: جب کہ کافروں  نے اپنے دلوں  میں  اَڑ رکھی وہی زمانۂ جاہلیت کی اَڑ تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں  پر اُتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ اُن پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے حبیب! یاد کریں )جب کافروں  نے اپنے دلوں  میں  زمانہ جاہلیت کی ہٹ دھرمی جیسی ضد رکھی تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں  پر اتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمادیا اورمسلمان اس کلمہ کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے۔

{اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ: جب کافروں  نے اپنے دلوں  میں  زمانۂ جاہلِیَّت کی ہٹ دھرمی جیسی ہٹ دھرمی رکھی۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ وقت یاد کریں جب کافروں  نے اپنے دلوں  میں  زمانۂ جاہلِیَّت کی ہٹ دھرمی جیسی ضد رکھی کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو مکے میں  داخل ہونے اور کعبہ مُعَظَّمہ کا طواف کرنے سے روکا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں  پر اتارا جس کی برکت سے اُنہوں نے آئندہ سال آنے پر صلح کی، اگر وہ بھی کفارِ قریش کی طرح ضد کرتے تو ضرور جنگ ہوجاتی اور پرہیزگاری کا کلمہ ایمان والوں  پر لازم فرمادیا اور کافروں  کے مقابلے میں  مسلمان اس کلمہ کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں  اپنے دین اور اپنے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صحبت سے مُشَرَّف فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ کافروں  کا حال بھی جانتا ہے اور مسلمانوں  کی بھی کوئی چیز اس سے مَخفی نہیں ۔(روح البیان  ،  الفتح  ،  تحت الآیۃ : ۲۶  ،  ۹ / ۴۹-۵۰  ،  جلالین  ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۴۲۵ ،  خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ۴ / ۱۶۰ ،  ملتقطاً)

پرہیز گاری کا کلمہ:

             اس آیت میں  بیان ہواکہ اللہ تعالیٰ نے حُدَیْبِیَہ میں  شریک صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ پر پرہیزگاری کا کلمہ لازم فرمادیا،اس کلمے سے مراد ’’لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘ ہے اور اسے ’’تقویٰ‘‘ کی طرف اس لئے منسوب کیا گیا کہ یہ تقویٰ و پرہیزگاری حاصل ہونے کا سبب ہے۔( جلالین ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۴۲۵)

            حضر ت حمران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، (حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے) فرمایا: میں  نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا’’ بے شک میں  وہ کلمہ جانتاہوں  جسے کوئی بندہ دل سے حق سمجھ کرکہتاہے تواللہ تعالیٰ اسے آگ پرحرام قرار دے دیتا ہے، تو (یہ سن کر) حضرت عمربن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا:میں  تمہیں  بتاتاہوں  کہ وہ کون ساہے ،وہ کلمہ اخلاص ہے جواللہ تعالیٰ نے نبی ٔرحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ کے اَصحاب پرلازم کیاہے اوروہی پرہیز گاری کا کلمہ ہے جس کی ترغیب اللہ تعالیٰ کے محبوب نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے چچاابوطالب کوموت کے وقت دلائی،اوروہ اس بات کی شہادت دیناہے کہ اللہ  تعالیٰ کے سواکوئی معبود نہیں۔(درمنثور ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ۷ / ۵۳۶)

آیت ’’فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

 (1)…حدیبیہ میں  شریک تمام حضرات مخلص مومن تھے، کیونکہ آیت میں  مذکور سکینہ سب پر اتر ا،تو اگر وہ بیعت ِ رضوان والے حضرات مومن نہ تھے تو پھر دنیا میں  مومن کون ہے؟

(2)… پرہیز گاری کا کلمہ یعنی ایمان اور اخلاص ان سے جدا ہو ہی نہیں  سکتا، اس میں  ان سب کے حسنِ خاتمہ کی یقینی خبر ہے کہ ان صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے دنیا میں  ،وفات کے وقت ،قبر میں  اور حشر میں  تقویٰ جدا نہ ہو سکے گا۔

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّۚ-لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَۙ-مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَۙ-لَا تَخَافُوْنَؕ-فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ نے سچ کردیا اپنے رسول کا سچا خواب بے شک تم ضرور مسجد حرام میں  داخل ہوگے اگر اللہ چاہے امن و امان سے اپنے سروں  کے بال منڈاتے یا ترشواتے بے خوف تو اس نے جانا جو تمہیں  معلوم نہیں  تو اس سے پہلے ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ نے اپنے رسول کا سچا خواب سچ کردیا ۔ اگر اللہ چاہے توتم ضرور مسجد حرام میں  امن و امان سے داخل ہوگے، کچھ اپنے سروں  کے بال منڈاتے ہوئے اور کچھ بال ترشواتے ہوئے ،تمہیں  کسی کا ڈر نہیں  ہوگا۔ تو اللہ کو وہ معلوم ہے جو تمہیں  معلوم نہیں  تو اس نے مکے میں  داخلے سے پہلے ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی ہے۔

{لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ: بیشک اللہ نے اپنے رسول کا سچا خواب سچ کردیا۔} شانِ نزول: رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حُدَیْبِیَہ کا قصد فرمانے سے پہلے مدینہ طیبہ میں  خواب دیکھا تھا کہ آپ اپنے اصحاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے ساتھ مکہ مُعَظَّمہ میں  امن سے داخل ہوئے اور اَصحاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ میں  سے بعض نے سر کے بال منڈائے اوربعض نے ترشوائے ۔یہ خواب آپ نے اپنے اصحاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے بیان فرمایا تو انہیں  خوشی ہوئی اور انہوں نے خیال کیا کہ اسی سال وہ مکہ مکرمہ میں  داخل ہوں  گے۔ جب مسلمان حدیبیہ سے صلح کے بعد واپس ہوئے اور اس سال مکہ مکرمہ میں  ان کا داخلہ نہ ہوا تو منافقین نے مذاق اڑایا، طعنے دئیے اور کہا :اس خواب کا کیا ہوا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس خواب کے مضمون کی تصدیق فرمائی کہ ضرور ایسا ہوگا، چنانچہ اگلے سال ایسا ہی ہوا اور مسلمان اگلے سال بڑی شان و شوکت کے ساتھ مکہ مکرمہ میں  فاتحانہ داخل ہوئے۔

            آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا سچا خواب سچ کردیا، اگر اللہ تعالیٰ چاہے توتم ضرور مسجد ِحرام میں  امن و امان سے داخل ہوگے، کچھ اپنے سروں  کے تمام بال منڈاتے ہوئے اور کچھ تھوڑے سے بال ترشواتے ہوئے ،تمہیں  کسی دشمن کا ڈر نہیں  ہوگا اور اللہ تعالیٰ کو وہ معلوم ہے جو تمہیں  معلوم نہیں  یعنی یہ کہ



Total Pages: 250

Go To