Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْۚ-وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ نے تم سے وعدہ کیا ہے بہت سی غنیمتوں  کا کہ تم لو گے تو تمہیں  یہ جلد عطا فرمادی اور لوگوں  کے ہاتھ تم سے روک دئیے اور اس لیے کہ ایمان والوں  کے لیے نشانی ہو اور تمہیں  سیدھی راہ دکھادے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں  کاوعدہ کیا ہے جو تم حاصل کرو گے تو تمہیں  یہ جلد عطا فرمادی اور لوگوں  کے ہاتھ تم سے روک دئیے اور تاکہ ایمان والوں  کے لیے نشانی ہو اور تاکہ وہ تمہیں  سیدھا راستہ دکھائے۔

{وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً: اور اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں  کاوعدہ کیا ہے۔} یعنی اے حدیبیہ میں  شرکت کرنے والو!اللہ تعالیٰ نے تم سے خیبر کے علاوہ بھی بہت سے اموالِ غنیمت کاوعدہ کیا ہے جنہیں  تم آئندہ فتوحات کےذریعے حاصل کرتے رہو گے ، تو سرِ دست تمہیں  یہ خیبر کی غنیمت عطا فرمادی اور لوگوں  کے ہاتھ تم سے روک دئیے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خیبر والوں  کے ہاتھ مسلمانوں  سے روک دئیے (کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں  میں  رعب ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ کثیر تعداد اور حربی قوت ہونے کے باوجود مسلمانوں  پر فتح حاصل نہ کر سکے ،)یا یہ مراد ہے کہ مسلمانوں  کے اہل و عیال سے لوگوں  کے ہاتھ روک دئیے کہ وہ خوفزدہ ہو کرانہیں  نقصان نہ پہنچاسکے۔ اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب مسلمان جنگ ِخیبر کے لئے روانہ ہوئے تو خیبر والوں  کے حلیف بنی اسدوغطفان نے چاہا کہ مسلمانوں  کے پیچھے مدینہ طیبہ پر حملہ کرکے ان کے اہل و عیال کو لوٹ لیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں  میں  ایسارعب ڈالا کہ انہیں  ا س کی ہمت ہی نہ ہوئی۔( جلالین مع صاوی ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۵ / ۱۹۷۴-۱۹۷۵ ،  خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۴ / ۱۵۱ ،  ملتقطاً)

{وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ: اور تاکہ ایمان والوں  کے لیے نشانی ہو۔} یعنی یہ غنیمت دینااور دشمنوں کے ہاتھ روک دینا اس لئے کیا تاکہ یہ ایمان والوں  کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد کی نشانی ہو اور وہ اپنی آنکھوں  سے بھی دیکھ لیں  کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں  جو غیب کی خبر دی وہ سچی ہے اور تاکہ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں  اپنے رب پر توکُّل کرنے اور اپنے کام اس کے سپرد کردینے کاسیدھا راستہ دکھائے جس سے بصیرت اور یقین زیادہ ہو۔( روح البیان  ،  الفتح  ،  تحت الآیۃ : ۲۰  ،  ۹ / ۳۶  ،  جلالین مع صاوی ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۵ / ۱۹۷۵ ،  خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۴ / ۱۵۱ ،  ملتقطا)

            اس سے معلوم ہوا کہ صلحِ حدیبیہ میں  حاضر ہونے والے مومنین ہدایت پر تھے اور ہدایت پر رہے، ان میں  سے کوئی ہدایت سے نہ ہٹا توجو اس کا انکار کرے وہ اس آیت کا منکر ہے۔

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ایک اور جو تمہارے بل کی نہ تھی وہ اللہ کے قبضہ میں  ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور دوسری غنیمتوں  کا (بھی وعدہ فرمایا ہے) جن پر تمہیں  قدرت نہیں ، انہیں  اللہ نے گھیر رکھا ہے اور  اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

{وَ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا: اور دوسری غنیمتوں  کا جن پر تمہیں  قدرت نہیں ۔} یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک اور علاقے کی فتح اور ا س سے حاصل ہونے والے اموالِ غنیمت کا تم سے وعدہ فرمایاہے جسے فتح کرنے پر تمہیں  قدرت نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے انہیں  گھیر رکھا ہے تاکہ تم ان پر فتح و غنیمت حاصل کرو۔

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  :اس علاقے سے فارس اور رُوم مراد ہے، اہلِ عرب ان سے جنگ کرنے پر قادر نہ تھے یہاں  تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں  دین ِاسلام سے مُشَرّف فرمایا اور اس کی برکت سے عرب والوں  کو اہلِ فارس اور رُوم سے جنگ کرنے کی قدرت عطا فرما دی ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں :اس سے خیبر مراد ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے پہلے سے وعدہ فرمایا تھا اور مسلمانوں کو کامیابی کی اُمید نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے انہیں  فتح دی۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے فتحِ مکہ مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے ہر وہ فتح مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں  کو عطا فرمائی۔( خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۴ / ۱۵۴)

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر کافر تم سے لڑیں  تو ضرور تمہارے مقابلہ سے پیٹھ پھیردیں  گے پھرنہ کوئی حمایتی پائیں  گے نہ مددگار۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر کافر تم سے لڑیں  گے تو ضرور تمہارے مقابلہ سے پیٹھ پھیردیں  گے پھر وہ کوئی حمایتی اور مددگار نہ پائیں  گے۔

{وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور اگر کافر تم سے لڑیں  گے۔} یعنی اہلِ مکہ اگر صلح کرنے کی بجائے جنگ کرتے یا اہلِ خیبرکے حلیف قبیلہ اسد اورقبیلہ غطفان کے لوگ تم سے جنگ کرنے کی ہمت کریں  تویہ لوگ تمہارے مقابلے میں  ضرور پیٹھ پھیرکربھاگ جا ئیں  گے ،تم ہی ان پر غالب آؤ گے اور انہیں  شکست ہو گی،پھر وہ اپناکوئی حمایتی اور مددگارنہ پائیں  گے۔( خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۴ / ۱۵۴ ،  مدارک ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ص۱۱۴۵ ،  ملتقطاً)بعض علماء فرماتے ہیں  کہ اگر اب بھی مسلمان صحیح مسلمان ہو کر یعنی صحیح طریقے سے اسلامی احکام پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جنگ کریں تو بدروحُنَین کے نظارے نظر آسکتے ہیں ۔

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ۚۖ-وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کا دستور ہے کہ پہلے سے چلا آتا ہے اور ہرگز تم اللہ کا دستور بدلتا نہ پاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ کا دستور ہے جو پہلے لوگوں  میں  گزرچکا ہے اور تم ہرگزاللہ کے دستورمیں  تبدیلی نہ پاؤ گے۔

{سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ: اللہ کا دستور ہے جو پہلے لوگوں  میں  گزرچکا ہے۔} ارشاد فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ ایمان والوں کی مددفرماتا اورکافروں  پرقہرفرماتاہے جیسا کہ گزشتہ امتوں  کے حالات سے ظاہر ہے اور تم ہرگزاللہ تعالیٰ کے اس دستورمیں  تبدیلی نہ پاؤ گے،یعنی یہ کبھی نہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں  ایمان والوں  کی مدد بلاوجہ نہ



Total Pages: 250

Go To