Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            یہاں  مغفرت اور عذاب سے متعلق4 باتیں  یاد رکھیں :

(1)… گناہگار مسلمان کی مغفرت فرما دینا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اوراسے عذاب دینا اس کا عدل ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں  ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور عدل پر اعتراض کر کے ا س میں  دخل اندازی کرے ۔

(2)…اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے اور عذاب کے مقابلے میں  مغفرت زیادہ ہے لیکن ا س کی وجہ سے نیک اعمال چھوڑ دینا اور نافرمانیوں  میں  مبتلا ہو جانا بہت بڑی نادانی ہے ۔

(3)… اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر صحیح طریقے سے ایمان لانا اور ایمان کے تقاضوں  کے مطابق عمل کرنا اللہ تعالیٰ کی مغفرت حاصل ہونے کے اہم ترین ذرائع اور اسباب ہیں  ،انہیں  اختیار کرنے کے بعد اس کے فضل کی امید رکھنی چاہئے اور ا س کے عدل سے ڈرنا چاہئے ۔

(4)…جو لوگ کافر ہیں  اور کسی صورت اپنے کفر سے توبہ کر کے ایمان لانے پر تیار نہیں  اور وہ اسی حال میں  مر جاتے ہیں ، یونہی جو شخص زندگی میں  مسلمان رہا لیکن اس کا خاتمہ ایمان پر نہ ہوا ، ان کی مغفرت کی کوئی صورت ہی نہیں  ہے اور یہ لوگ ہمیشہ کے لئے جہنم میں  ہی جائیں  گے۔ لہٰذا کافرتو دین ِاسلام میں  داخل ہو جائیں  اور ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کرے۔

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْۚ-یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِؕ-قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُۚ-فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَاؕ-بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  اب کہیں  گے پیچھے بیٹھ رہنے والے جب تم غنیمتیں  لینے چلو تو ہمیں  بھی اپنے پیچھے آنے دو وہ چاہتے ہیں  اللہ کا کلام بدل دیں  تم فرماؤ ہرگز تم ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یونہی فرمادیا ہے تو اب کہیں  گے بلکہ تم ہم سے جلتے ہو بلکہ وہ بات نہ سمجھتے تھے مگر تھوڑی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  جب تم غنیمتیں  حاصل کرنے کے لیے ان کی طرف چلو گے توپیچھے رہ جانے والے کہیں  گے : ہمیں  بھی اپنے پیچھے آنے دو۔ وہ چاہتے ہیں  کہ اللہ کا کلام بدل دیں ۔ تم فرماؤ: ہرگز ہمارے پیچھے نہ آؤ۔ اللہ نے پہلے سے اسی طرح فرمادیاہے، تو اب کہیں  گے: بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو بلکہ وہ منافق بہت تھوڑی بات سمجھتے ہیں ۔

{سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ: پیچھے رہ جانے والے کہیں  گے۔} جب مسلمان حُدَیْبِیَہ کی صلح سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے خیبر کی فتح کا وعدہ فرمایا اور وہاں  سے حاصل ہونے والے غنیمت کے اَموال حدیبیہ میں  حاضر ہونے والوں  کے لئے خاص کر دئیے گئے ، جب خیبر کی طرف روانہ ہونے کا وقت آیا تو مسلمانوں  کو یہ خبر دی گئی کہ جو لوگ حدیبیہ میں  حاضر نہیں  ہوئے وہ غنیمت کے لالچ میں  تمہارے ساتھ جانا چاہیں  گے اور تم سے کہیں  گے :ہم بھی تمہارے ساتھ خیبر چلیں  اور جنگ میں شریک ہوں ۔یہ لوگ چاہتے ہیں  کہ اللہ  تعالیٰ نے حدیبیہ میں  شرکت کرنے والوں  کے ساتھ جو وعدہ فرمایا کہ خیبر کی غنیمت ان کے لئے خاص ہے ،اسے بدل دیں  ۔ آپ ان سے فرما دینا کہ تم ہمارے پیچھے ہر گز نہ آؤ ، اللہ تعالیٰ نے ہمارے مدینہ منورہ آنے سے پہلے یونہی فرمادیاہے کہ غزوۂ خیبر میں  وہی شریک ہوں  گے اور اس کی غنیمتیں  انہیں  ہی ملیں  گی جنہوں  نے حدیبیہ میں  شرکت کی تھی (اور ہم تمہیں  اپنے ساتھ آنے کی اجازت دے کر ا س حکم کی خلاف ورزی نہیں  کر سکتے) یہ جواب سن کر وہ (صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے) کہیں  گے: ایسی بات نہیں  ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ہم سے حسد کرتے ہو اور یہ گوارا نہیں  کرتے کہ ہم تمہارے ساتھ غنیمت کا مال پائیں ۔ (صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ میں  تو حسد کا شائبہ تک نہیں ) بلکہ وہ منافق دین کی بہت تھوڑی بات سمجھتے ہیں  اور ان کا حال یہ ہے کہ محض دنیا کی بات سمجھتے ہیں  ، حتّٰی کہ ان کا زبانی اِقرار بھی دنیا ہی کی غرض سے تھا اور آخرت کے اُمور کو بالکل نہیں  سمجھتے۔( بغوی ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۴ / ۱۷۴ ،  جمل ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۷ / ۲۱۶-۲۱۷ ،  ملتقطاً)

            یہاں  فتحِ خیبر اور اس سے حاصل ہونے والی غنیمت کی تقسیم سے متعلق مزید دو باتیں  ملاحظہ ہوں :

(1)… صلحِ حدیبیہ 6ہجری میں  ہوئی اور فتحِ خیبر7ہجر ی میں ، خیبر نہایت آسانی سے فتح ہو گیا اور وہاں  مسلمانوں  کو بہت غنیمتیں  ملیں  ۔

(2)…حضرت جعفر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  اپنے ساتھیوں  کے ہمراہ جنگ ِخیبر کے موقعہ پر حبشہ سے پہنچے تو حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں بھی غنیمت سے حصہ دیا، یہ عطیہ سلطانی تھا ، لہٰذا ا س عطا کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کوئی اعتراض نہیں  کیا جا سکتا۔

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَۚ-فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًاۚ-وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا(۱۶)

ترجمۂ کنزالایماناُن پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں  سے فرماؤ عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ اُن سے لڑو یا وہ مسلمان ہوجائیں  پھر اگر تم فرمان مانو گے اللہ  تمہیں  اچھا ثواب دے گاا ور اگر پھرجاؤ گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمہیں  درد ناک عذاب دے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں  سے فرماؤ: عنقریب تمہیں  ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلایا جائے گا تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں  گے پھر اگر تم فرمانبرداری کروگے تو اللہ تمہیں  اچھا ثواب دے گاا ور اگر پھر وگے جیسے تم اس سے پہلے پھر گئے تھے تو وہ تمہیں  درد ناک عذاب دے گا۔

{قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ: پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں  سے فرماؤ۔} اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ حکم دیا کہ وہ حدیبیہ میں  شریک نہ ہونے والے دیہاتیوں  کو جنگِ خیبر میں  اپنے ساتھ آنے سے منع کر دیں  اور ان دیہاتیوں  کا حال یہ تھا کہ ان کا تعلق مختلف قبائل سے تھا اور ان میں  بعض ایسے بھی تھے جن کے تائب ہونے کی امید تھی اور بعض ایسے بھی تھے جو نفاق میں  بہت پختہ اور سخت تھے، اللہ تعالیٰ کو انہیں  آزمائش میں  ڈالنا منظور ہوا تاکہ توبہ کرنے والے اور نہ کرنے والے میں  فرق ہوجائے، اس لئے حکم ہوا



Total Pages: 250

Go To