Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(1)…اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں  میں  ایمان نقش کردے گا ،جس میں  اِنْ شَائَ اللہ تَعَالٰی  حسن ِخاتمہ کی بشارتِ جلیلہ ہے کہ اللہ کا لکھا نہیں  مٹتا۔

(2)…اللہ تعالیٰ رُوح القدُس سے تمہاری مددفرمائے گا۔

(3)…تمہیں  ہمیشگی کی جنتوں  میں  لے جائے گاجن کے نیچے نہریں  رواں  ہیں  ۔

(4)…تم خدا کے گروہ کہلاؤگے ، خدا والے ہوجاؤگے۔

(5)…منہ مانگی مرادیں  پاؤگے بلکہ امید و خیال و گمان سے کروڑوں  درجے افزوں ۔

(6)…سب سے زیادہ یہ کہ اللہ  تم سے راضی ہوگا۔

(7)…یہ کہ فرماتاہے’’میں  تم سے راضی تم مجھ سے راضی ‘‘بندے کیلئے اس سے زائد او رکیا نعمت ہوتی کہ اس کا رب اس سے راضی ہومگر انتہائے بندہ نوازی یہ کہ فرمایا’’ اللہ ان سے راضی وہ اللہ سے راضی ۔

            مسلمانو!خدا لگتی کہنا :اگر آدمی کروڑجانیں  رکھتا ہو اور وہ سب کی سب ان عظیم دولتوں  پر نثار کردے تو وَاللہ کہ مفت پائیں  ، پھرزیدوعَمْرْوْ سے علاقۂ تعظیم و محبت،یک لَخت قطع کردینا کتنی بڑی بات ہے؟ جس پر اللہ تعالیٰ ان بے بہا نعمتوں  کا وعدہ فرمارہاہے اور اس کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ۳۰ / ۳۰۷-۳۱۲)

            نوٹ:مذکورہ بالا کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے مشہوررسالے ’’تَمْہِیْدِ اِیْمَان بَآیَاتِ قُرْآن‘‘ سے نقل کیا ہے ،یہ رسالہ فتاویٰ رضویہ کی 30ویں  جلد میں  موجود ہے اور جداگانہ بھی چَھپا ہوا ہے،ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس رسالے کا ضرور مطالعہ کرے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ-فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں  وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں  ان کے ہاتھوں  پر اللہ کا ہاتھ ہے تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اُسے بڑا ثواب دے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جولوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں  وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ، ان کے ہاتھوں  پر اللہ کا ہاتھ ہے تو جس نے عہد توڑا تو وہ اپنی جان کے خلاف ہی عہد توڑتا ہے اور جس نے اللہ سے کئے ہوئے اپنے عہد کو پورا کیا تو بہت جلد اللہ اسے عظیم ثواب دے گا۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ: بیشک جولوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں  وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ۔} اس سے پہلی آیات میں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت اور ا س کے مَقاصِد بیان ہوئے اور اس آیت میں  یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بیعت کی اس نے اللہ تعالیٰ سے بیعت کی ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک جولوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں  وہ تو اللہ تعالیٰ ہی سے بیعت کرتے ہیں  کیونکہ رسول سے بیعت کرنا اللہ تعالیٰ ہی سے بیعت کرنا ہے جیسے کہ رسول کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور جن ہاتھوں  سے انہوں  نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بیعت کا شرف حاصل کیا ،ان پر اللہ تعالیٰ کا دستِ قدرت ہے تو جس نے عہد توڑا اور بیعت کو پورا نہ کیا وہ اپنی جان کے خلاف ہی عہد توڑتا ہے کیونکہ اس عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے اپنے عہد کو پورا کیا تو بہت جلد اللہ تعالیٰ اسے عظیم ثواب دے گا۔( تفسیرکبیر ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۱۰ / ۷۳ ،  جلالین ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ص۴۲۳-۴۲۴ ،  مدارک ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ص۱۱۴۲ ،  ملتقطاً)

          نوٹ:اس آیت میں جس بیعت کا ذکر کیا گیا ا س کے بارے میں  مفسرین فرماتے ہیں  کہ اس سے مراد وہ بیعت ہے جوحُدَیْبِیَہ کے مقام پر حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے لی تھی اور یہ بیعت ’’بیعت ِرضوان‘‘ کے نام سے مشہورہے ۔اس بیعت کاواقعہ اسی سورت کی آیت نمبر18کی تفسیر میں  مذکور ہے۔

آیت ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس سے 5 مسئلے معلوم ہوئے

(1)… حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ایسا قرب حاصل ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بیعت اللہ تعالیٰ سے بیعت ہے ۔

(2)… بیعت ِرضوان والے تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ بڑی ہی شان والے ہیں ۔

(3)… حضرت عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ بڑی شان والے ہیں  کہ یہ بیعت انہیں  کی وجہ سے ہوئی۔

(4)… بزرگوں  کے ہاتھ پر بیعت کرناصحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی سنت ہے ، خواہ بیعت ِاسلام ہو یا بیعتِ تقویٰ،یا بیعت ِتوبہ، یا بیعت ِاعمال وغیرہ۔

(5)… بیعت کے وقت مصافحہ بھی سنت سے ثابت ہے،البتہ عورتوں  کوکلام کے ذریعے بیعت کیاجائے کیونکہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی بھی بیعت کے لیے کسی غیر مَحرم عورت کے ساتھ مصافحہ نہیں  کیا۔

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَاۚ-یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْؕ-قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًاؕ-بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا(۱۱)بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ ۚۖ-وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا(۱۲)وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳)

 



Total Pages: 250

Go To