Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

             تمہارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں: ’’ لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَ وُلْدِہٖ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنْ ‘‘ تم میں  کوئی مسلمان نہ ہوگا جب تک میں  اُسے اس کے ماں  باپ، او لاد اور سب آدمیوں  سے زیادہ پیارانہ ہوں ۔ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

            یہ حدیث صحیح بخاری وصحیح مسلم میں  انس بن مالک انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے ہے۔( بخاری ، کتاب الایمان ، باب حبّ الرّسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم من الایمان ، ۱ / ۱۷ ، الحدیث: ۱۵ ،  مسلم ،  کتاب الایمان ،  باب وجوب محبّۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم... الخ ،  ص۴۲ ،  الحدیث: ۷۰(۴۴)) اِس نے تو یہ بات صاف فرمادی کہ جو حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے زیادہ کسی کو عزیز رکھے، ہرگزمسلمان نہیں ۔

            مسلمانوکہو! مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تمام جہان سے زیادہ محبوب رکھنا مدارِ ایمان و مدارِنجات ہوایانہیں ۔ کہو ہوااور ضرور ہوا۔ یہاں  تک توسارے کلمہ گو خوشی خوشی قبول کرلیں  گے کہ ہاں  ہمارے دل میں  مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِٖ وَسَلَّمَ کی عظیم عظمت ہے ۔ ہاں  ہاں  ماں  باپ اولاد سارے جہان سے زیادہ ہمیں  حضو ر کی محبت ہے۔ بھائیو!خدا ایسا ہی کرے مگرذرا کان لگا کر اپنے رب کا ارشادسنو۔

            تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:

’’الٓمّٓۚ(۱) اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ‘‘(عنکبوت:۱ ، ۲)

کیا لوگ اس گھمنڈ میں  ہیں  کہ اتناکہہ لینے پر چھوڑدیئے جائیں  گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔

            یہ آیت مسلمانوں  کو ہوشیار کررہی ہے کہ دیکھوکلمہ گوئی اور زبانی اِدِّعائے مسلمانی پرتمھارا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ہاں  ہاں  سنتے ہو!آزمائے جاؤگے، آزمائش میں  پورے نکلے تو مسلمان ٹھہروگے ۔ہر شے کی آزمائش میں  یہی دیکھا جاتا ہے کہ جو باتیں  اس کے حقیقی واقعی ہونے کو درکار ہیں  وہ ا س میں  ہیں  یانہیں  ؟ ا بھی قرآن و حدیث ارشاد فرماچکے کہ ایمان کے حقیقی و واقعی ہونے کودوباتیں  ضرورہیں :

(1)… مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم ۔

(2)…اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی محبت کو تمام جہان پر تقدیم۔

             تو اس کی آزمائش کا یہ صریح طریقہ ہے کہ تم کو جن لوگوں  سے کیسی ہی تعظیم، کتنی ہی عقیدت ، کتنی ہی دوستی، کیسی ہی محبت کا علاقہ ہو، جیسے تمھارے باپ ،تمھارے استاد،تمہارے پیر ،تمھارے بھائی ، تمھارے اَحباب، تمھارے اَصحاب،تمھارے مولوی ،تمھارے حافظ،تمھارے مفتی ،تمھارے واعظ وغیر ہ وغیرہ کَسے باشَد ،جب وہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی شانِ اقدس میں  گستاخی کریں ، اصلاً تمہارے قلب میں  ان کی عظمت ان کی محبت کا نام ونشان نہ رہے فوراً ان سے الگ ہوجاؤ ،دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو، اُن کی صورت اُن کے نام سے نفرت کھاؤ، پھرنہ تم اپنے رشتے، علاقے، دوستی، اُلفت کا پاس کرو، نہ اس کی مَولَوِیَّت،شَیْخِیَّت، بزرگی ، فضیلت کو خطرے میں  لاؤ کہ آخر میں  یہ جو کچھ تھا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہی کی غلامی کی بنا ء پر تھا جب یہ شخص اُنھیں  کی شان میں  گستاخ ہوا پھرہمیں  اس سے کیا علاقہ رہا، اس کے جُبّے عمامے پر کیا جائیں  ، کیا بہتیرے (یعنی بہت سے) یہودی جبے نہیں  پہنتے؟ عمامے نہیں  باندھتے ؟ اس کے نام علم و ظاہری فضل کولے کر کیا کریں ، کیا بہتیر ے پادری ، بکثرت فلسفی بڑے بڑے علوم وفنون نہیں  جانتے اوراگر یہ نہیں  بلکہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے مقابل تم نے اس کی بات بنانی چاہی، اُس نے حضور سے گستاخی کی اور تم نے اس سے دوستی نباہی، یا اسے ہربرے سے بدتر برانہ جانا، یااسے براکہنے پر برامانا،یا اسی قد ر کہ تم نے اس امر میں  بے پرواہی منائی، یا تمہارے دل میں  اُس کی طرف سے سخت نفرت نہ آئی تو لِلّٰہ! اب تمھیں  انصاف کرلو کہ تم ایمان کے امتحان میں  کہاں  پاس ہوئے ،قرآن و حدیث نے جس پر حصولِ ایمان کا مدار رکھا تھا اس سے کتنی دورنکل گئے۔

            مسلمانو!کیا جس کے دل میں  مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم ہوگی وہ ان کے بدگو کی وقعت کرسکے گا اگر چہ اُس کا پیر یا استادیا پدرہی کیوں  نہ ہو ، کیا جسے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تمام جہان سے زیادہ پیارے ہوں  وہ ان کے گستاخ سے فوراًسخت شدید نفرت نہ کرے گااگر چہ اس کا دوست ،یابرادر، یا پِسر ہی کیوں  نہ ہو ، لِلّٰہ! اپنے حال پر رحم کرو اپنے رب کی بات سنو، دیکھو وہ کیوں  کر تمہیں  اپنی رحمت کی طرف بلاتا ہے، دیکھو رب عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے:

’’لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ- اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ-وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘‘(مجادلہ:۲۲)

تُو نہ پائے گا اُنہیں  جو ایمان لاتے ہیں  اللہ اورقیامت پر کہ اُن کے دل میں  ایسوں  کی محبت آنے پائے جنہوں  نے خداو رسول سے مخالفت کی، چاہے وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یاعزیزہی کیوں  نہ ہوں ، یہ ہیں  وہ لوگ جن کے دلوں  میں  اللہ نے ایمان نقش کردیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مددفرمائی اور انہیں  باغوں  میں  لے جائیگا ،جن کے نیچے نہریں  بہہ رہی ہیں ، ہمیشہ رہیں  گے ان میں ، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہی لوگ اللہ والے ہیں  ۔ سنتا ہے اللہ والے ہی مراد کو پہنچے۔

            اس آیت ِکریمہ میں  صاف فرمادیا کہ جو اللہ یا رسول کی جناب میں  گستاخی کرے،مسلمان اُس سے دوستی نہ کرے گا ، جس کا صریح مفاد ہوا کہ جو اس سے دوستی کرے گا وہ مسلمان نہ ہوگا۔ پھر اس حکم کا قطعاً عام ہونا بِالتَّصریح ارشاد فرمایا کہ باپ ،بیٹے ،بھائی ،عزیز سب کوگِنا یا یعنی کوئی کیسا ہی تمہارے زعم میں  مُعَظَّم یا کیسا ہی تمھیں  بِالطَّبع محبوب ہو، ایمان ہے تو گستاخی کے بعد اُس سے محبت نہیں  رکھ سکتے، اس کی وقعت نہیں  مان سکتے ورنہ مسلمان نہ رہوگے۔ مَولٰی سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالٰی  کا اتنا فرمانا ہی مسلمان کے لئے بس تھامگردیکھو وہ تمہیں  اپنی رحمت کی طرف بلاتا،اپنی عظیم نعمتوں  کا لالچ دلاتا ہے کہ اگر اللہ ورسول کی عظمت کے آگے تم نے کسی کا پاس نہ کیا، کسی سے علاقہ نہ رکھا تو تمہیں  کیا کیا فائدے حاصل ہوں  گے۔

 



Total Pages: 250

Go To