Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(1)… تمام مخلوق پر حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت واجب ہے۔

(2)… ہمارا ایمان حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بشارت و شہادت پر مَوقوف ہے نہ کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ایمان۔

(3)… اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :معلوم ہوا کہ دین و ایمان مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم کا نام ہے،جو ان کی تعظیم میں  کلام کرے اصلِ رسالت کو باطل وبیکار کیا چاہتا ہے۔(فتاوی رضویہ،۱۵ / ۱۶۸)

(4)… سرکارِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہروہ تعظیم جوخلاف ِشرع نہ ہو،کی جائے گی کیونکہ یہاں  تعظیم و توقیر کے لئے کسی قسم کی کوئی قید بیان نہیں  کی گئی،اب وہ چاہے کھڑے ہوکرصلوٰۃ و سلام پڑھناہویاکوئی دوسرا طریقہ۔

مسلمانوں  سے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی ایک درخواست:

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے اپنی ایک مشہور و معروف کتاب’’تمہید ِایمان‘‘ میں سورۂ فتح کی مذکورہ بالا دو آیات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مسلمانوں  سے ایک درخواست کی ہے ،اس کی اہمیت کے پیش ِنظر یہاں  ا س کا کچھ حصہ ملاحظہ ہو،چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں :

            پیارے بھائیو!السّلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،اللہ تعالیٰ آپ سب حضرات کو اور آپ کے صدقے میں  اس ناچیز،کَثِیْرُ السَّیِّئآت کو دین ِحق پر قائم رکھے اور اپنے حبیب مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی سچی محبت ،دل میں  سچی عظمت دے اور اسی پر ہم سب کا خاتمہ کرے ۔ اٰمِیْنْ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن۔

            تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:

’’اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا‘‘(فتح:۸ ، ۹)

اے نبی! بے شک ہم نے تمہیں  بھیجا گواہ او رخوشخبری دیتا اور ڈر سناتا، تاکہ اے لوگو!تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤاور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی پاکی بولو۔

            مسلمانو! دیکھو دین ِاسلام بھیجنے ، قرآنِ مجید اتارنے کامقصود ہی تمہارے مولیٰ تبارک و تعالیٰ کاتین باتیں  بتانا ہے:

            اول یہ کہ لوگ اللہ و رسول پر ایمان لائیں  ۔

            دوم یہ کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم کریں  ۔

            سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں  رہیں ۔

            مسلمانو!ان تینوں  جلیل باتوں  کی جمیل ترتیب تو دیکھو،سب میں  پہلے ایمان کوفرمایا اور سب میں  پیچھے اپنی عبادت کو اور بیچ میں  اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم کو، اس لئے کہ بغیر ایمان، تعظیم بکار آمد نہیں ، بہتیر ے نصاری (یعنی بہت سے عیسائی ایسے) ہیں  کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم و تکریم اور حضور پر سے دفعِ اعتراضاتِ کا فرانِ لئیم (یعنی کمینے کافروں  کے اعتراضات دور کرنے) میں  تصنیفیں  کرچکے ،لکچر دے چکے مگر جبکہ ایمان نہ لائے کچھ مفید نہیں  کہ یہ ظاہری تعظیم ہوئی ،دل میں  حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی سچی عظمت ہوتی تو ضرو ر ایمان لاتے، پھر جب تک نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی سچی تعظیم نہ ہو عمر بھرعبادتِ الہٰی میں  گزارے سب بیکارو مردود ہے، بہتیرے (یعنی بہت سے) جوگی اور ر اہب ترکِ دنیا کرکے، اپنے طور پر ذکرو عبادتِ الہٰی میں  عمرکاٹ دیتے ہیں  بلکہ ان میں  بہت وہ ہیں  کہ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہ  کا ذکر سیکھتے اورضربیں  لگاتے ہیں  مگر اَزانجاکہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم نہیں ،کیا فائدہ؟ اصلاً قابل ِقبول بارگاہِ الہٰی نہیں  ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسوں  ہی کو فرماتا ہے:

’’وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا‘‘(فرقان:۲۳)

جوکچھ اعمال انہوں  نے کئے ، ہم نے سب برباد کر دیے۔

            ایسوں  ہی کو فرماتا ہے:

’’عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ(۳) تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةً‘‘(غاشیہ:۳ ، ۴)

عمل کریں ، مشقتیں  بھریں  اوربدلہ کیاہوگایہ کہ بھڑکتی آگ میں  پیٹھیں  گے۔

            وَالْعِیَاذُ بِاللہ تَعَالٰی ۔

            مسلمانو!کہو مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تعظیم مدارِ ایمان ، مدارِنجات ،مدارِقبولِ اعمال ہوئی یا نہیں  ، کہو ہوئے اور ضرورہوئے۔

            تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:

’’قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ‘‘(توبہ:۲۴)

اے نبی !تم فرمادوکہ اے لوگو!اگرتمہارے باپ ، تمھارے بیٹے ،تمھارے بھائی، تمھاری بیبیاں ،تمھارا کنبہ تمھاری کمائی کے مال او ر وہ سوداگری جس کے نقصان کا تمہیں  اندیشہ ہے اور تمھاری پسند کے مکان، ان میں  کوئی چیزبھی اگر تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں  کوشش کرنے سےزیادہ محبوب ہے تو انتظار رکھویہاں  تک کہ اللہ اپناعذاباتارے اور اللہ تعالیٰ بے حکموں  کو راہ نہیں  دیتا۔

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ جسے دنیا جہان میں  کوئی معزز،کوئی عزیز،کوئی مال،کوئی چیز، اللہ و رسول سے زیادہ محبوب ہو وہ بارگاہِ الہٰی سے مردود ہے ، اُسے اللہ اپنی طرف راہ نہ دے گا ،اُسے عذابِ الہٰی کے انتظار میں  رہنا چاہئے۔ وَالْعِیَاذُ بِاللہ تَعَالٰی ۔

 



Total Pages: 250

Go To