Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

قرآن اور تعظیم ِحبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:

             دنیا کے شہنشاہوں  کا اصول یہ ہے کہ جب ان میں  سے کوئی شہنشاہ آتا ہے تو وہ اپنی تعظیم کے اصول اور اپنے دربار کے آداب خود بناتا ہے اور جب وہ چلا جاتاہے تو اپنی تعظیم و ادب کے نظام کو بھی ساتھ لے جاتا ہے لیکن کائنات میں  ایک شہنشاہ ایسا ہے جس کے دربار کا عالَم ہی نرالا ہے کہ ا س کی تعظیم اور اس کی بارگاہ میں  ادب واحترام کے اصول و قوانین نہ اس نے خود بنائے ہیں  اور نہ ہی مخلوق میں  سے کسی اور نے بنائے ہیں  بلکہ اس کی تعظیم کے احکام اوراس کے دربار کے آداب تمام شہنشاہوں  کے شہنشاہ،تما م بادشاہوں  کے بادشاہ اور ساری کائنات کو پیدا فرمانے والے رب تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں  اور بہت سے قوانین ایسے ہیں  جو کسی خاص وقت تک کیلئے نہیں  بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مقرر فرمائے ہیں  اور وہ عظیم شہنشاہ اس کائنات کے مالک و مختار محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذات ِگرامی ہے ، جن کی تعظیم و توقیر کرنے کا خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور قرآنِ مجید میں  آپ کی تعظیم اور ادب کے باقاعدہ اصول اور احکام بیان فرمائے ، یہاں  اس شہنشاہ کے ادب و تعظیم کے اَحکام پر مشتمل قرآنِ مجید کی 9آیات ملاحظہ ہوں  جن میں  اللہ تعالیٰ نے متعدد اَحکام دئیے ہیں ،

(1)…حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب بھی بلائیں  فورا ًان کی بارگاہ میں  حاضر ہو جاؤ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ‘‘(انفال:۲۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں  حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں  اس چیز کے لئے بلائیں  جو تمہیں  زندگی دیتی ہے۔

(2)…بارگاہِ رسالت میں  کوئی بات عرض کرنے سے پہلے صدقہ دے لو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةًؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُؕ-فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘(مجادلہ:۱۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جب تم رسول سے تنہائی میں  کوئی بات عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو، یہ تمہارے لیے بہت بہتر اور بہت ستھرا ہے پھر اگر تم (اس پر قدرت)نہ پاؤ تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

            بعد میں  وجوب کا حکم منسوخ ہوگیا تھا۔

(3)…ایک دوسرے کو پکارنے کی طرح نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نہ پکارو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا‘‘(نور:۶۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں  ایسا نہ بنالو جیسے تم میں  سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔

(4)…حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بات کرتے وقت ان کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کرو اور ان کی بارگاہ میں  زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کرو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘(حجرات:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں  نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں  تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں  اور تمہیں  خبر نہ ہو۔

(5)…جس کلمہ میں ادب ترک ہونے کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے ،جیسا کہ لفظِ ’’ رَاعِنَا ‘‘ کو تبدیل کرنے کا حکم دینے سے یہ بات واضح ہے ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ‘‘(بقرہ:۱۰۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں  اور پہلے ہی سے بغور سنو اور  کافروں  کے لئے دردناک عذاب ہے۔

(6)…کسی قول اور فعل میں  ان سے آگے نہ بڑھو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ‘‘(حجرات:۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔

(7)…حُجروں  کے باہر سے پکارنے والوں  کو اللہ تعالیٰ نے بے عقل فرمایا اور انہیں  تعظیم کی تعلیم دی،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴)وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘(حجرات:۴ ، ۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ آپ کو حجروں  کے باہر سے پکارتے ہیں  ان میں  اکثر بے عقل ہیں ۔اور اگر وہ صبر کرتے یہاں  تک کہ تم ان کے پاس خود تشریف لے آتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھااور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

(8)…رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے گھر میں  اجازت کے بغیر نہ جاؤ اور وہاں  زیادہ دیر نہ بیٹھو،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُۙ-وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّؕ- وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ-ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّؕ-وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًاؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا‘‘(احزاب:۵۳)

 



Total Pages: 250

Go To