Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ ہی کی مِلک ہیں  آسمانوں  اور زمین کے سب لشکر اور اللہ عزت و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آسمانوں  اور زمین کے سب لشکراللہ ہی کی ملکیت میں  ہیں  اور اللہ عزت والا، حکمت والا ہے۔

{وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: اور آسمانوں  اور زمین کے سب لشکر اللہ ہی کی مِلکیَّت میں  ہیں ۔} بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ جب صلحِ حدیبیہ ہوگئی تو عبداللہ بن اُبی نے کہا: کیا محمد (مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) یہ گمان کرتے ہیں  کہ جب انہوں  نے اہلِ مکہ سے صلح کر لی یا مکہ کوفتح کرلیا توان کاکوئی دشمن باقی نہیں  رہے گا(اگر ایسی بات ہے )تو فارس اورروم کدھرجائیں  گے ؟تب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت ِمبارکہ نازل فرمائی کہ آسمانوں  اور زمین کے تمام لشکروں  کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہ فارس و رُوم کے لشکروں  سے بہت زیادہ ہیں  اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ ان میں  سے جس لشکر کے ذریعے چاہے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ایمان والوں  کے دشمن (اور اس)کی سازش کودور فرما دے اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ غالب ہے تو اس کے عذاب کو کوئی دور نہیں  کر سکتا اور وہ اپنی تدبیر میں  حکمت والا ہے ۔( قرطبی ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۸ / ۱۹۱ ،  الجزء السادس عشر ،  مدارک ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ص۱۱۴۱ ،  ملتقطاً)

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے تمہیں  بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے تمہیں  گواہ اور خوشخبری دینے والااور ڈر سنانے والا بنا کربھیجا۔

{اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ: بیشک ہم نے تمہیں  بھیجا۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک ہم نے آپ کو اپنی امت کے اَعمال اور اَحوال کا مشاہدہ فرمانے والا بنا کر بھیجا تاکہ آپ قیامت کے دن ان کی گواہی دیں  اور دنیا میں  ایمان والوں  اور اطاعت گزاروں  کو جنت کی خوشخبری دینے والااور کافروں ، نافرمانوں  کو جہنم کے عذاب کا ڈر سنانے والا بنا کربھیجا ہے۔( خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۴ / ۱۴۶)

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں  :بیشک ہم نے تمھیں  بھیجا گواہ اور خوشی اور ڈر سناتاکہ جو تمھاری تعظیم کرے اُسے فضلِ عظیم کی بشارت دو اور جو مَعَاذَاللہ بے تعظیمی سے پیش آئے اسے عذابِ اَلیم کا ڈر سناؤ، اور جب وہ شاہد وگواہ ہوئے اور شاہد کو مشاہدہ درکار، تو بہت مناسب ہواکہ امت کے تمام افعال واقوال واعمال واحوال اُن کے سامنے ہوں  (اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ مرتبہ عطا فرمایاہے جیساکہ) طبرانی کی حدیث میں  حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے ہے،  رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  فرماتے ہیں : ’’اِنَّ اللہ رَفَعَ لِیَ الدُّنْیَا فَاَنَا اَنْظُرُاِلَیْھَا وَاِلٰی مَاھُوَکَائِنٌ فِیْھَااِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّمَا اَنْظُرُ اِلٰی کَفِّیْ ھٰذِہٖ ‘‘بیشک اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے دنیا اٹھالی تومیں  دیکھ رہاہوں  اُسے اور جو اس میں  قیامت تک ہونے والا ہے جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہاہوں ۔ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،( کنز العمال بحوالہ طبرانی  ،  کتاب الفضائل  ،  قسم الافعال  ،  الباب الاول  ،  ۶  /  ۱۸۹  ،  الجزء الحادی عشر  ،  الحدیث: ۳۱۹۶۸ ،  فتاوی رضویہ، ۱۵ / ۱۶۸)

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تاکہ (اے لوگو!) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔

{لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ: تاکہ (اے لوگو!) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شاہد،مُبَشِّر اور نذیر بنا کر بھیجنے کے گویا 3 مَقاصِد بیان فرمائے ہیں  ،پہلا مقصد یہ ہےکہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائیں ،دوسرا مقصد یہ ہے کہ لوگ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم اور توقیر کریں ،تیسرا مقصد یہ ہے کہ لوگ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کریں ۔ پہلا مقصد تو واضح ہے جبکہ دوسرے مقصد کے بارے میں  بعض مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں  کہ یہاں  آیت میں  تعظیم و توقیر کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے یعنی تم اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور توقیر کرو، البتہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم اور توقیر کرنا ہے۔ تیسرے مقصد کے بارے میں  مفسرین فرماتے ہیں  کہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے سے مراد اِن اوقات میں  ہر نقص و عیب سے اس کی پاکی بیان کرنا ہے، یا صبح کی تسبیح سے مراد نمازِ فجر اور شام کی تسبیح سے باقی چاروں  نمازیں  مراد ہیں ۔ (مدارک ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ص۱۱۴۱ ،  خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۴ / ۱۴۶-۱۴۷ ،  ملتقطاً)

رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم کرنے والے کامیاب ہیں:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم اور توقیر انتہائی مطلوب اور بے انتہاء اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہاں  اللہ تعالیٰ نے اپنی تسبیح پر اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم و توقیر کو مُقَدَّم فرمایا ہے اور جو لوگ ایمان لانے کے بعدآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم کرتے ہیں  ان کے کامیاب اور بامُراد ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘‘(اعراف:۱۵۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں  اور اس کی تعظیم کریں  اور اس کی مدد کریں  اور اس نور کی پیروی کریں  جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔

 



Total Pages: 250

Go To