Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اورسیّدتنا آمنہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے لے کر نسب ِکریم کی انتہاء تک تمام آبائے کرام اور اُمّہاتِ طیّبات مراد ہیں  ،البتہ ان میں  سے جو انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں  جیسے حضرت آدم ،شیث،نوح،خلیل اور اسماعیل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، وہ اس سے مُستَثنیٰ ہیں  ،اور ’’مَا تَاَخَّرَ‘‘ سے مراد’’تمہارے پچھلے‘‘ یعنی ’’قیامت تک تمہارے اہلِ بیت اور امتِ مرحومہ ‘‘مراد ہے،تو آیت ِکریمہ کا حاصل یہ ہوا کہ ہم نے تمہارے لیے فتح ِمبین فرمائی تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے سبب سے بخش دے تم سے تعلق رکھنے والے سب اگلوں  پچھلوں  کے گناہ۔( فتاوی رضویہ، ۲۹ / ۴۰۱، ملخصاً)

            نوٹ:اس آیت ِمبارکہ سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاویٰ رضویہ، جلد29، صفحہ 394 تا 401 کا مطالعہ فرمائیں ۔

{وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ: اور اپنا انعام تم پر تمام کردے۔} آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے فتح کا جو فیصلہ فرمایا اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی دُنْیَوی اور دینی نعمتیں  آپ پر تمام کردے اور تیسری وجہ یہ ہے کہ آپ کو رسالت کی تبلیغ اور ریاست میں  اصول و قوانین قائم کرنے میں سیدھی راہ دکھادے اور چوتھی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی زبردست مدد فرمائے اور دشمنوں  پر کامل غلبہ عطا فرمائے۔( بیضاوی ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲-۳ ،  ۵ / ۲۰۰ ،  خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲-۳ ،  ۴ / ۱۴۵ ،  ملتقطاً)

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْؕ-وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: وہی ہے جس نے ایمان والوں  کے دلوں  میں  اطمینان اُتارا تاکہ اُنہیں  یقین پر یقین بڑھے اور اللہ ہی کی مِلک ہیں  تمام لشکر آسمانوں  اور زمین کے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے ایمان والوں  کے دلوں  میں  اطمینان اتارا تاکہ ان کے یقین پر یقین میں  اضافہ ہو اورآسمانوں  اور زمین کے تمام لشکراللہ ہی کی ملک ہیں  اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔

{هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ: وہی ہے جس نے ایمان والوں  کے دلوں  میں  اطمینان اتارا۔} اس سے پہلی آیت میں  مدد فرمانے کا ذکر ہوا اور اس آیت میں  مدد کی صورت بیان کی جارہی ہیں  ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی صلح اور امن کے ذریعے ایمان والوں  کے دلوں  میں  اطمینان اتارا تاکہ ان کے یقین میں  مزید اضافہ ہو جائے اور عقیدہ راسخ ہونے کے باوجود نفس کو اطمینان حاصل ہو اور یہ وہ چیز ہے جس کے ذریعے جنگ وغیرہ کے دوران ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے اور یاد رکھو کہ آسمانوں  اور زمین کے تمام لشکر جیسے فرشتے اور ساری مخلوقات اللہ تعالیٰ ہی کی مِلک ہیں  اور وہ اس پر قادر ہے کہ جس سے چاہے اپنے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مدد فرمائےلیکن اس نے کسی اور کو مدد کرنے پر مُقرر نہیں  فرمایا بلکہ اے ایمان والو! تمہارے دلوں  میں  اطمینان اتارا تاکہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مدد کرنا اور ان کے دشمنوں  کو ہلاک کرنا تمہارے ہاتھوں  سے ہو اور اس کی وجہ سے تمہیں  ثواب اور دشمنوں  کو عذاب ملے اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ آسمانوں  اور زمینوں  کے تمام لشکروں  کا علم رکھنے والا اور ان کا انتظام فرمانے میں  حکمت والا ہے۔( خازن ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ۴ / ۱۴۵-۱۴۶ ،  مدارک ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ص۱۱۴۱ ،  ملتقطاً)

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ(۵) وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِؕ-عَلَیْهِمْ دَآىٕرَةُ السَّوْءِۚ-وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تاکہ ایمان والے مردوں  اور ایمان والی عورتوں  کو باغوں  میں  لے جائے جن کے نیچے نہریں  رواں  ہمیشہ اُن میں  رہیں  اور ان کی بُرائیاں  اُن سے اُتار دے اور یہ اللہ کے یہاں  بڑی کامیابی ہے۔ اور عذاب دے منافق مَردوں  اور منافق عورتوں  اور مشرک مَردوں  اور مشرک عورتوں  کو جو اللہ پر بُراگمان رکھتے ہیں  انہیں  پر ہے بُری گردش اور اللہ نے ان پر غضب فرمایا اور اُنہیں  لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار فرمایا اور وہ کیا ہی بُرا انجام ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  تاکہ وہ ایمان والے مردوں  اور ایمان والی عورتوں  کو ان باغوں  میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں  ،ہمیشہ ان میں  رہیں  گے اورتاکہ اللہ ان کی برائیاں  ان سے مٹادے، اور یہ اللہ کے یہاں  بڑی کامیابی ہے۔ اور تاکہ وہ منافق مردوں  اور منافق عورتوں  اور مشرک مردوں  اور مشرک عورتوں  کو عذاب دے جو اللہ پر براگمان کرتے ہیں  بری گردش انہیں  پر ہے اور اللہ نے اُن پر غضب فرمایا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار فرمائی اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔

{لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ: تاکہ وہ ایمان والے مردوں  اور ایمان والی عورتوں  کو باغوں  میں داخل فرمادے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فتح و نصرت کا وعدہ فرمایا اور ایمان والوں  کے دلوں  کو تسکین دی،اس کی ایک حکمت یہ ہے کہ ایمان والے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں  پر اس کا شکر ادا کریں  جس پر اللہ تعالیٰ انہیں  ثواب عطا فرمائے اورایمان والے مَردوں  اور عورتوں  کو ان باغوں  میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں  بہتی ہیں ، وہ ہمیشہ ان میں  رہیں  گے ۔دوسری حکمت یہ ہے کہ جنت میں  داخل ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایمان والوں  کے ان گناہوں  کو مٹادے جو ان سے سرزَد ہوئے تاکہ وہ گناہوں  سے پاک اور صاف ہو کر جنت میں  داخل ہوں ، اور یہ جنت میں  داخل کیا جانا اور برائیوں  کا مٹا دیا جانا اللہ تعالیٰ کے یہاں  بڑی کامیابی ہے۔تیسری حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مدینہ منورہ کے منافق مَردوں  اورمنافقہ عورتوں  کو اور مکہ مکرمہ کے مُشرک مردوں  اور مشرکہ عورتوں  کو ان کے باطنی اور ظاہری کفر کی وجہ سے عذاب دے جو اللہ تعالیٰ پر بُراگمان کرتے ہیں  کہ وہ اپنے رسول، دو عالَم کے سردار محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان پر ایمان لانے والوں  کی مدد نہ فرمائے گا ۔ان کے بُرے گمان کا وبال عذاب اور ہلاکت کی صورت میں  انہیں  پر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اُن پر غضب فرمایا اور ان پر لعنت کی اور آخرت میں  ان کے لیے جہنم تیار فرمائی اور جہنم کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔( خازن  ،  الفتح  ،  تحت الآیۃ : ۵ - ۶  ،  ۴ / ۱۴۶ ،  مدارک ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۵-۶ ،  ص۱۱۴۱ ،  روح البیان ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۵-۶ ،  ۹ / ۱۴-۱۶ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 250

Go To