Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ لوگ جو اللہ کے (دین کے)بارے میں جھگڑتے ہیں  اس کے بعد کہ اس (دین) کو قبول کیا جاچکا ہے، ان جھگڑنے والوں  کی دلیل ان کے رب کے نزدیک بے بنیاد ہے اور ان پر غضب ہے اور ان کیلئے سخت عذاب ہے۔

{وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ: اور وہ لوگ جو اللہ کے بارے میں  جھگڑتے ہیں ۔} اِن جھگڑنے والوں  سے مراد یہودی ہیں ، وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں  کو پھر کفر کی طرف لوٹادیں ، اس لئے وہ مسلمانوں  سے جھگڑاکرتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ ہمارا دین پرانا، ہماری کتاب پرانی اور ہمارے نبی پہلے آئے ،اِ س لئے ہم تم سے بہتر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں  ارشاد فرمایا کہ ان جھگڑنے والوں  کی اپنے دین کے حق ہونے پر ہردلیل ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بے بنیاد ہے اور ان پر ان کے کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب ہے اور ان کے لیے آخرت میں  ایسا سخت عذاب ہے جس کی حقیقت انہیں  معلوم نہیں ۔( مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ص۱۰۸۵ ،  روح البیان ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۸ / ۳۰۱ ،  ملتقطاً)

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَؕ-وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری اور انصاف کی ترازو اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب کو اتارا اور میزان کو اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔

{اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ: اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری۔} یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ قرآنِ پاک نازل کیاجو طرح طرح کے دلائل اور اَحکام پر مشتمل ہے نیز اس نے اپنی نازل کردہ کتابوں  میں  عدل کا حکم دیا ہے ۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ میزان سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی ذاتِ گرامی مرادہے۔( مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ص۱۰۸۵ ،  روح البیان ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۸ / ۳۰۲ ،  ملتقطاًکیونکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حق و باطل کو جانچنے کا معیار ہیں ۔

{وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ: اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قیامت کا ذکر فرمایا تو مشرکین نے جھٹلانے کے طور پر کہا کہ قیامت کب قائم ہوگی ؟اس کے جواب میں  یہ آیت نازل ہوئی اور گویا کہ فرمایا گیا ’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں  عدل کرنے اور شریعت پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تم قرآن پر عمل کرو اور عدل کرو ا س سے پہلے کہ تم پر تمہارے حساب اور اعمال کا وزن ہونے کا دن اچانک آ جائے۔( خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۴ / ۹۳ ،  مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ص۱۰۸۵ ،  ملتقطاً)

دنیا کا باقی رہ جانے والا عرصہ بہت کم ہے:

            یاد رہے کہ اس دنیا کا جو عرصہ کچھ گزر چکا ہے اس کے مقابلے میں  وہ عرصہ بہت کم ہے جو ا س دنیا کا باقی رہ گیا ہے، جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا کے بارے میں  مروی ہے کہ آپ عرفات کے مقام میں  ٹھہرے ہوئے تھے، جب سورج غروب ہونے لگا تو آپ نے ا س کی طرف دیکھا کہ وہ ڈھال کی مانند ہے، یہ دیکھ کر آپ بہت شدید روئے اور ’’اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ‘‘ سے لے کر ’’اَلْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ‘‘ تک آیات تلاوت فرمائیں ۔ آپ کے غلام نے عرض کی’’اے ابو عبد الرحمٰن!میں  آپ کے ساتھ کئی مرتبہ کھڑا ہو اہوں  لیکن کبھی آپ نے اس طرح نہیں  کیا (آج آپ اتنا کیوں  رو رہے ہیں )آپ نے فرمایا’’مجھے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یاد آگئے ،وہ اسی جگہ کھڑے تھے اور ارشاد فرمایا’’اے لوگو! تمہاری اس دنیا میں  سے جو گزر چکا ہے ا س کے مقابلے میں  جو باقی ہے وہ اس طرح ہے کہ جو وقت آج کے دن گزر چکا ہے اور جو باقی ہے۔( مستدرک ، کتاب التفسیر ،  تفسیر سورۃ حم عسق ،  اسباب نزول ہاروت وماروت۔۔۔ الخ ،  ۳ / ۲۳۳ ،  الحدیث: ۳۷۰۸)

            اورحضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’دنیا (کے جانے)اور آخرت(کے آنے) کی مثال اس کپڑے کی طرح ہے جو شروع سے آخر تک پھٹ گیا ہو اور آخر میں  ایک دھاگے سے لٹک کر رہ گیا ہو ،عنقریب وہ دھاگہ بھی ٹوٹ جائے گا۔( حلیۃ الاولیاء ،  ذکر تابعی التابعین ،  الفضیل بن عیاض ،  ۸ / ۱۳۸ ،  الحدیث: ۱۱۶۳۰)

            اورحضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے (ابتداء سے لے کر انتہاء تک) پوری دنیا کو تھوڑا بنایا اور اب اس میں  سے جو باقی بچا ہے وہ تھوڑے سے بھی تھوڑا ہے اور باقی رہ جانے والے کی مثال اس حوض کی طرح ہے جس کا صاف پانی پی لیا گیا ہو اور(اس کی تہ میں  موجود) گدلاپانی باقی رہ گیا ہو۔( مستدرک ،  کتاب الرقاق ،  تمثیل آخر للدنیا ،  ۵ / ۴۵۶ ،  الحدیث: ۷۹۷۴)

            علامہ عبد الرؤف مناوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ اس کی شرح میں  فرماتے ہیں  :یعنی دنیا کی مثال ا س بڑے تالاب کی طرح ہے جو پانی سے بھرا ہو ا ہو اور اسے انسانوں  اور جانوروں  کے پانی پینے کے لئے بنایا گیا ہو،پھرپانی پینے والوں  کی کثرت کی وجہ سے ا س کا پانی کم ہونا شروع ہو جائے یہاں  تک کہ ا س کی تہ میں  کیچڑ ہی باقی بچے جس میں  جانور لوٹ پوٹ ہوتے ہوں ،تو عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ دنیا پر مُطمَئن نہ ہو اور نہ ہی یہ بات واضح ہو جانے کے بعد دنیا سے دھوکہ کھائے کہ یہ بہت جلد زائل ہو جانے والی ہے اور ا س کا اچھا حصہ گزر چکا ہے اور موت ضرور آنے والی ہے۔( فیض القدیر ،  حرف الہمزۃ ،  ۲ / ۲۷۹ ،  تحت الحدیث: ۱۷۱۰ ،  ملخصاً)

             اورحضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جن چیزوں  (میں  مبتلا ہونے)کا میں  اپنی امت پر خوف کرتا ہوں  ان میں  سے زیادہ خوفناک نفسانی خواہش اور لمبی امید ہے۔ نفسانی خواہش بندے کو حق سے روک دیتی ہے اورلمبی امید آخرت کوبھلا دیتی ہے اور یہ دنیا کوچ کرکے جارہی ہے اور یہ آخرت کوچ کرکے آرہی ہے۔ ان دونوں  میں  سے ہر ایک کے طلبگار ہیں  ، اگر تم یہ کرسکو کہ دنیا کے طلبگار نہ بنو تو ایساہی کرو، کیونکہ تم آج عمل کرنے کی جگہ میں  ہو جہاں  حساب نہیں (اس لئے جو چاہو عمل کر لو) جبکہ کل تم آخرت کے گھر میں  ہو گے جہاں  عمل نہ ہوگا(بلکہ اعمال کا حساب دینا ہو گا)۔( شعب الایمان ،  الحادی والسبعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۷ / ۳۷۰ ،  الحدیث: ۱۰۶۱۶)

             حضرت شداد بن اوس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : ایک دن نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا’’ آگاہ رہو کہ دنیا موجودہ سامان ہے جس سے



Total Pages: 250

Go To