Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

{فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ: تو تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف دعوت نہ دو۔} یہاں  آیت میں  اگرچہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے خطاب فرمایا جارہا ہے لیکن اس حکم میں  تمام مسلمان شامل ہیں  اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تمہارے سامنے بیان کر دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں  کے اعمال باطل کر دے گا اور ان کی مغفرت نہیں  فرمائے گا تو تم دشمن کے مقابلے میں  کمزوری نہ دکھاؤ اور کفار کو خود صلح کی طرف دعوت نہ دو کیونکہ اس میں  ذلّت ہے اوران سے جنگ کرو،اس میں  تم ہی ان پر غالب ہو گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مدد اور نصرت سے تمہارے ساتھ ہے تو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو وہی غالب آئے گا اور یا درکھو کہ اللہ  تعالیٰ ہرگز تمہارے اعمال میں  تمہیں  نقصان نہ دے گا بلکہ تمہیں  اعمال کا پورا پورا اجر عطا فرمائے گا ۔( خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۴ / ۱۴۲-۱۴۳ ،  روح البیان ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۸ / ۵۲۳ ،  ملتقطاً)

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْــٴَـلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ(۳۶)اِنْ یَّسْــٴَـلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِ جْ اَضْغَانَكُمْ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تم کو تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا۔اگر اُنہیں  تم سے طلب کرے اور زیادہ طلب کرے تم بخل کرو گے اور وہ بخل تمہارے دلوں  کے میل ظاہر کردے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تمہیں  تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا۔ اگر اللہ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور زیادہ طلب کرے توتم بخل کرو گے اور وہ بخل تمہارے دلوں  کے کھوٹ کوظاہر کردے گا۔

{اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ: دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے۔} اس سے پہلی آیت میں  مسلمانوں  کی ہمّت بڑھا کر انہیں  جہاد کی ترغیب دی گئی اور اب اس آیت سے دنیا کی ناپائیداری اور بے ثباتی بیان فرما کر جہاد کرنے اور راہِ خدا میں  خرچ کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو!کافروں  کے خلاف جہاد کرو جو اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں  اور تمہارے بھی دشمن ہیں  اور دنیوی زندگی کی رغبت تمہیں  جہاد چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کیونکہ دنیا کی زندگی تو کھیل کود کی طرح ہے اور یہ اتنی جلد گزر جاتی ہے کہ پتا بھی نہیں  چلتا، لہٰذا اس میں  مشغول ہونا کچھ بھی نفع مند نہیں  ہے۔اس کے بعد ارشاد فرمایا’’اے لوگو اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں  تمہارے ایمان اور پرہیزگاری کا ثواب عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے لئے تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا کیونکہ وہ غنی اوربے نیاز ہے ،البتہ تمہیں  راہِ خدا میں  کچھ مال خرچ کرنے کا حکم دے گا تاکہ تمہیں  اس کا ثواب ملے۔ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور زیادہ طلب کرے توتم میں  سے اکثر اس کی اطاعت کرنے کی بجائے بخل کرنے لگیں  گے اور وہ بخل تمہارے دلوں  کے کھوٹ کوظاہر کردے گا کیونکہ انسان فطری طور پر مال سے محبت کرتا ہے اور جس سے اس کی محبوب چیز لے لی جائے تو اس کے دل میں  موجود باتیں  ظاہر ہوجاتی ہیں  تو یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں  پر رحمت ہے کہ وہ ان پر ایسے احکام نافذ نہیں  فرماتا جنہیں  پورا کرناانتہائی دشوار ہو۔( تفسیر طبری ،  محمد ، تحت الآیۃ:۳۶-۳۷ ، ۱۱ / ۳۲۸ ،  خازن ، محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۶-۳۷ ،  ۴ / ۱۴۳ ،  مدارک ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۶-۳۷ ،  ص۱۱۳۸ ،  صاوی ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۶-۳۷ ،  ۵ / ۱۹۶۳-۱۹۶۴ ،  ملتقطاً)

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُۚ-وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُۚ-وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْۙ-ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: ہاں  ہاں  یہ جو تم ہو بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں  خرچ کرو تو تم میں  کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب      محتاج ا ور اگر تم منہ پھیرو تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہاں  ہاں  یہ تم ہوجو بلائے جاتے ہو تاکہ تم اللہ کی راہ میں  خرچ کرو تو تم میں  کوئی بخل کرتا ہے اورجو بخل کرے وہ اپنی ہی جان سے بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب     محتاج ہو اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل دے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں  گے۔

{هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ: ہاں  ہاں  یہ تم ہو جوبلائے جاتے ہو۔} ارشاد فرمایا کہ ہاں  ہاں ،تم لوگوں  کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں  وہاں  خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے جہاں  خرچ کرنا تم پر ضروری ہے تو تم میں  کوئی صدقہ دینے اور فرض ادا کرنے میں  بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان سے بخل کرتا ہے کیونکہ وہ خرچ کرنے کے ثواب سے محروم ہو جائے گا اور بخل کرنے کا نقصان اٹھائے گا ، اللہ تعالیٰ تمہارے صدقات اور طاعات سے بالکل بے نیاز ہے اور تم سب اس کے فضل و رحمت کے     محتاج ہو تو وہ تمہیں  جو بھی حکم دیتا ہے تمہارے فائدے کے لئے ہی دیتا ہے،اگر تم اس پر عمل کرو گے تو نفع اٹھاؤ گے اور نہیں  کرو گے تو نقصان بھی تمہیں  ہی ہو گا اور یاد رکھو! اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت سے منہ پھیرو گے تو وہ تمہیں  ہلاک کر دے گا اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں  کو پیدا کر دے گا پھر وہ تم جیسے نافرمان نہ ہوں  گے بلکہ انتہائی اطاعت گزار اورفرمانبردار ہوں  گے ۔( خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۴ / ۱۴۳ ،  مدارک ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ص۱۱۳۸-۱۱۳۹ ،  روح البیان ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۸ / ۵۲۵-۵۲۷ ،  ملتقطاً)

فرض جگہ پر مال خرچ کرنے کا دینی اور دنیوی فائدہ :

            یاد رہے کہ بعض مقامات پر مال خرچ کرنا اللہ تعالیٰ نے فرض فرمایا ہے جیسے حقدار کو زکوٰۃ دینا، اور یہ اس وجہ سے ہر گز نہیں  ہے کہ اللہ  تعالیٰ کو لوگوں  کے مال کی حاجت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام حاجتوں  سے بے نیاز ہے بلکہ بندے ہی ہر طرح سے اس کے     محتاج ہیں  اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جو مال خرچ کرنا فرض فرمایا اس میں  بندوں  کا ہی دینی اور دنیوی فائدہ ہے ،دینی فائدہ تو یہ ہے کہ مال خرچ کرنے کی صور ت میں  وہ ثواب کے حقدار ٹھہریں  اور نہ خرچ کرنے کے وبال سے بچ جائیں  گے جبکہ دنیوی فائدہ یہ ہے کہ اگراپنے معاشرے کے غریب اورمَفْلُوکُ الحال لوگوں  کوزکوٰۃ ملے گی تو انہیں  معاشی سکون نصیب ہو گا،معاشرے سے غربت اور محتاجی کا خاتمہ ہو گا۔اسلام کے ابتدائی زمانے میں  ایک دور ایسا آچکا ہے جس میں  مالدار مسلمان اسلام کے احکام پر پوری طرح عمل کرتے ہوئے اپنی زکوٰۃ وغیرہ غریب مسلمانوں  پر خوب خرچ کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں  میں  غربت کا خاتمہ ہوا اورمسلمانوں  نے



Total Pages: 250

Go To