Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(2)… مرتد ہو نا:چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ‘‘(بقرہ:۲۱۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم میں  جو کوئی اپنے دین سے مرتدہوجائے پھر کافر ہی مرجائے تو ان لوگوں  کے تمام اعمال دنیا و آخرت میں  برباد ہوگئے اور وہ دوزخ والے ہیں  وہ اس میں  ہمیشہ رہیں  گے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ٘-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ‘‘(مائدہ:۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو ایمان سے پھرکر کافر ہوجائے تو اس کا ہر عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں  خسارہ پانے والوں  میں  ہوگا۔

(3)…منافقت :چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآىٕلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَاۚ-وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۱۸) اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ ۚۖ-فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِۚ-فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا‘‘(احزاب:۱۸ ، ۱۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ تم میں  سے ان لوگوں  کو جانتا ہے جو دوسروں  کو جہاد سے روکتے ہیں  اور اپنے بھائیوں  سے کہتے ہیں : ہماری طرف چلے آؤ اور وہ لڑائی میں  تھوڑے ہی آتے ہیں ۔ تمہارے اوپر بخل کرتے ہوئے آتے ہیں پھر جب ڈر کا وقت آتا ہے توتم انہیں  دیکھو گے کہ تمہاری طرف یوں  نظر کرتے ہیں  کہ ان کی آنکھیں  گھوم رہی ہیں  جیسے کسی پر موت چھائی ہوئی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جاتا ہے تومال غنیمت کی لالچ میں تیز زبانوں  کے ساتھ تمہیں  طعنے دینے لگتے ہیں  ۔یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں  ہیں  تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کردئیے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

(4)…نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  آواز بلند کرنا:چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘(حجرات:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں  نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں  تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں  اور تمہیں  خبر نہ ہو۔

(5)…صدقہ دے کر احسان جتانا اور تکلیف پہنچانا:چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى‘‘(بقرہ:۲۶۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر اپنے صدقے برباد نہ کردو۔

(6)…نیک اعمال کے ذریعے دنیا طلب کرنا:چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ﳲ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘‘(ہود:۱۵ ، ۱۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو دنیا کی زندگی اوراس کی زینت چاہتا ہو توہم دنیا میں  انہیں  ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیں  گے اورانہیں  دنیا میں  کچھ کم نہ دیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں  جن کے لیے آخرت میں  آگ کے سوا کچھ نہیں  اور دنیا میں  جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب برباد ہوگیا اور ان کے اعمال باطل ہیں ۔

            اللہ تعالیٰ ہمیں  ان تمام اعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو نیک اعمال کی بربادی کا سبب بنتے ہیں ، اٰمین۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک جنہوں  نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر کافر ہی مرگئے تو اللہ ہر گز اُنہیں  نہ بخشے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں  نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر کافر ہی مرگئے تو اللہ انہیں  ہرگزنہیں  بخشے گا۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ: بیشک جنہوں  نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک وہ لوگ جنہوں  نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ کفر کیا اور لوگوں  کو اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچانے والے راستے سے روکا،پھر وہ کفر کی حالت میں  ہی مر گئے تو اللہ تعالیٰ آخرت میں  ہر گز ان کی مغفرت نہیں  فرمائے گا کیونکہ وہ کفر پر مرے ہیں  تو اسی کے مطابق ان کا حَشْر ہو گا۔

            مفسّرین کا ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت قُلَیب والوں  کے بارے میں  نازل ہوئی ۔ قلیب بدر میں  ایک کنواں  ہے جس میں  ابو جہل اور اس کے ساتھ دیگر مقتول کفار ڈالے گئے تھے،البتہ اس آیت کا حکم ہراس کافر کے لئے عام ہے جو کفر پر مرا ہو ، اللہ تعالیٰ اس کی ہر گز مغفرت نہ فرمائے گا۔( روح البیان ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ۸ / ۵۲۳ ،  خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ۴ / ۱۴۲ ،  ملتقطاً)

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ ﳓ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ﳓ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم سُستی نہ کرو اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم ہی غالب آؤ گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں  تمہیں  نقصان نہ دے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف دعوت نہ دو اور تم ہی غالب ہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں  تمہیں  نقصان نہ دے گا۔

 



Total Pages: 250

Go To