Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب بات کرو تو عدل کرو اگرچہ تمہارے رشتے دار کا معاملہ ہو اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔

            اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے زیادہ رشتے داروں  کو ترجیح دیتے ہیں ، ان کے بارے میں  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ‘‘(سورہِ توبہ:۲۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں  اور تمہاراخاندان اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے پسندیدہ مکانات تمہیں  اللہ اور اس  کے رسول اور اس کی راہ میں  جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں  تو انتظار کرو یہاں  تک کہ اللہ  اپنا حکم لائے اور اللہ نافرمان لوگوں  کو ہدایت نہیں  دیتا۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳)اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہیں  وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور اُنہیں  حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں  پھوڑ دیں ۔ تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں  یا بعضے دلوں  پر اُن کے قفل لگے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ وہ لوگ ہیں  جن پر اللہ نے لعنت کی تو اللہ نے انہیں  بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں  اندھی کردیں ۔ تو کیا وہ قرآن میں  غور وفکر نہیں  کرتے؟ بلکہ دلوں  پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں ۔

{اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ: یہ وہ لوگ ہیں ۔} یعنی یہ فساد پھیلانے والے وہ لوگ ہیں  جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور انہیں  اپنی رحمت سے دور کر دیا تو اس کااثر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں  وعظ و نصیحت سننے سے بہرا کردیا اور حق کی راہ دیکھنے سے ان کی آنکھیں  اندھی کردیں  اس لئے اب وہ حق راستے کی طرف ہدایت حاصل نہیں  کر سکتے۔( روح البیان ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۸ / ۵۱۷ ،  صاوی ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲۳-۲۴ ،  ۵ / ۱۹۵۹-۱۹۶۰ ،  ملتقطاً)

{اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ: تو کیا وہ قرآن میں  غور وفکر نہیں  کرتے؟} یعنی جن کے دلوں  میں  نفاق کے قفل لگے ہیں  وہ نہ تو قرآنِ کریم میں  غوروفکر کر سکتے ہیں اورنہ ہی وہ ہدایت حاصل کرسکتے ہیں  کیونکہ ان کے دلوں  پرتالے لگے ہوئے ہیں  جس کی وجہ سے حق کی بات ان میں  پہنچ ہی نہیں  پاتی۔ تدبُّر قرآنِ پاک میں  گہرے غور و خوض کو کہتے ہیں  جو تعصبات اور جانبداری سے پاک اورعقل و نقل کے حقیقی تقاضو ں کے مطابق ہو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَىۙ-الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْؕ-وَ اَمْلٰى لَهُمْ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی شیطان نے اُنہیں  فریب دیا اور انہیں  دنیا میں  مدتوں  رہنے کی امید دلائی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے اس کے بعد کہ ان کیلئے ہدایت بالکل واضح ہوچکی تھی شیطان نے انہیں  فریب دیا اور انہیں  (لمبی لمبی) امیدیں  دلائیں ۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ: بیشک وہ لوگ جو اپنے پشت پیچھے پلٹ گئے۔} یعنی جو لوگ ہدایت کا راستہ واضح ہو جانے کے بعد ایمان سے کفر کی طرف پلٹ گئے انہیں  شیطان نے دھوکہ دیا اور ان کی نظر میں  برائیوں  کو ایسا مزین کیا کہ وہ انہیں  اچھا سمجھنے لگے اور انہیں  دنیا میں  مدتوں  رہنے کی امید دلائی کہ ابھی بہت عمر پڑی ہے ، خوب دنیا کے مزے اٹھا لو اور ان پر شیطان کا فریب چل گیا ۔

            حضرت قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  اس آیت میں  اہلِ کتاب کے ان کفار کا حال بیان کیا گیا ہے جنہوں  نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پہچانا اور آپ کی نعت و صفت اپنی کتاب میں  دیکھی ، پھر جاننے پہچاننے کے باوجود کفر اختیار کیا ۔

             حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا، ضَحَّاک اور مُفسِّرسُدِی کا قول ہے کہ ان لوگوں  سے مراد منافق ہیں  جو ایمان لا کر کفر کی طرف پھر گئے ۔( خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ۴ / ۱۴۱)

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِۚۖ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ اس لیے کہ اُنہوں  نے کہا ان لوگوں  سے جنہیں  اللہ کا اتارا ہوا ناگوار ہے ایک کام میں  ہم تمہاری مانیں  گے اور اللہ ان کی چھپی ہوئی جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اس لیے ہے کہ انہوں  نے اللہ کے نازل کردہ کو ناپسند کرنے والوں  سے کہا: کسی کام میں  ہم تمہاری اطاعت کریں  گے اور اللہ ان کی چھپی ہوئی باتوں  کو جانتا ہے۔

{ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا: یہ اس لیے ہے کہ انہوں  نے کہا۔} یعنی ایمان سے کفر کی طرف پھر جانا اس لیے ہے کہ منافقوں  نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قرآن اور دین کے احکام کو ناپسند کرنے والے یہودیوں  سے پوشیدہ طور پر یہ کہا:بعض کاموں  جیسے محمد ِمصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عداوت اور حضور کے خلاف ان کے دشمنوں  کی امداد کرنے اور لوگوں  کو جہاد سے روکنے میں  ہم تمہاری اطاعت کریں  گے ۔انہوں  نے یہ بات اگرچہ خفیہ طور پر کہی لیکن اللہ تعالیٰ ان کی چھپی ہوئی ان سب باتوں  کو جانتا ہے جو وہ یہودیوں  سے کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کی خبر بھی دے دی ہے۔( روح البیان  ،  محمد  ،  تحت الآیۃ : ۲۶  ،  ۸  /  ۵۱۹  ،  خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ۴ / ۱۴۱ ،  مدارک ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۱۱۳۷ ،  ملتقطاً)

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ(۲۷)ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیسا ہوگا جب فرشتے اُن کی روح قبض کریں  گے اُن کے منہ اور اُن کی پیٹھیں  مارتے ہوئے۔یہ اس لیے کہ وہ ایسی بات کے تابع ہوئے جس میں  اللہ کی ناراضی ہے اور اس کی خوشی انہیں  گوارا نہ ہوئی تو اس نے ان کے اعمال اَکارت کردئیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ان کاکیسا حال ہوگا جب فرشتے ان کے منہ اور ان کی پیٹھوں  پر ضربیں  مارتے ہوئے ان کی روح قبض کریں  گے۔ یہ اس لیے ہے کہ انہوں  نے اللہ کو ناراض کرنے



Total Pages: 250

Go To