Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

سے معصوم ہیں  ،اس کے باوجود آپ کو گناہ سے مغفرت طلب کرنے کا فرمایا گیا(یہ امت کی تعلیم کے لئے ہے) تاکہ اس معاملے میں  امت آپ کی پیروی کرے اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مغفرت طلب بھی کی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا:’’میں  روزانہ سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  استغفار کرتا ہوں ۔( جلالین ،  القتال ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ص۴۲۱)

            علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ لکھتے ہیں :یہاں  حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف ’’ذَنْبْ‘‘ کی جو نسبت کی گئی اس سے مراد آپ کے اہلِ بیت کی خطائیں ہیں  ،نیزاس آیت میں  امت کے لئے بھی بشارت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ مسلمان مردوں  اور عورتوں  کے گناہوں  کی بھی مغفرت طلب فرمائیں  اور آپ کی شان یہ ہے کہ آپ شفاعت فرمانے والے اورمَقْبُولُ الشَّفاعَت ہیں  (تو آپ جس کی مغفرت طلب فرمائیں  گے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ضرور قبول ہو گی۔)( صاوی ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۵ / ۱۹۵۸)

            نوٹ:اس مسئلے کے بارے میں  مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے پارہ24، سورہِ مومن ،آیت نمبر 55 کے تحت مذکور تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔

{وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ: اور اللہ جانتا ہے۔} یہاں ایمان والوں  اور دیگر تمام لوگوں  سے خطاب فرمایاگیا کہ اے لوگو!اللہ تعالیٰ تم لوگوں  کے دن کے وقت کی مشغولیات اور رات کے وقت تمہارے آرام کرنے کو جانتا ہے۔یعنی وہ تمہارے تمام احوال کو جاننے والا ہے ، اس سے کچھ بھی مخفی نہیں  ہے تو تم اس سے ڈرو ۔( جلالین مع صاوی ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۵ / ۱۹۵۸)

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌۚ-فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُۙ-رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِؕ-فَاَوْلٰى لَهُمْۚ(۲۰) طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ- فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ- فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور مسلمان کہتے ہیں  کوئی سورت کیوں  نہ اُتاری گئی پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی اور اس میں  جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں  جن کے دلوں  میں  بیماری ہے کہ تمہاری طرف اس کا دیکھنا دیکھتے ہیں  جس پر مُردنی چھائی ہو تو اُن کے حق میں  بہتر یہ تھا ۔کہ فرمانبرداری کرتے اور اچھی بات کہتے پھر جب حکم ناطق ہوچکا تو اگر اللہ سے سچّے رہتے تو ان کا بھلا تھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور مسلمان کہتے ہیں : کوئی سورت کیوں  نہیں  اتاری گئی؟ پھر جب کوئی واضح سورت اتاری جاتی ہے اور اس میں  جہاد کا حکم دیا جاتا ہے تو تم ان لوگوں  کو دیکھو گے جن کے دلوں  میں  بیماری ہے کہ تمہاری طرف ایسے دیکھتے ہیں  جیسے وہ دیکھتا ہے جس پر موت چھائی ہوئی ہوتو ان کے لئے بہتر تھا۔ فرمانبرداری کرنا اور اچھی بات کہنا ،پھر جب (جہاد کا)حکم قطعی ہوگیا تو اگر اللہ سے سچے رہتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا۔

{وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اور مسلمان کہتے ہیں ۔} شانِ نزول :ایمان والوں  کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں  جہاد کرنے کا بہت ہی شوق تھااور اسی شوق کی بنا پر وہ کہتے تھے کہ ایسی سورت کیوں  نہیں  اترتی جس میں  جہاد کا حکم ہو،تا کہ ہم جہاد کریں  اور یہی بات منافق بھی کہہ دیا کرتے تھے، اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اوراس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں  ارشاد فرمایاگیا کہ مسلمان کہتے ہیں : کوئی سورت کیوں  نہیں  اتاری گئی؟ پھر جب کوئی واضح سورت اتاری جاتی ہے جس کا معنیٰ واضح ہو اور اس کا کوئی حکم منسوخ ہونے والا نہ ہو اور اس میں  جہاد کا حکم دیاگیا ہو تو تم دلوں میں  مُنافَقَت کا مرض رکھنے والوں  کو دیکھو گے کہ وہ پریشان ہو کر تمہاری طرف ایسے دیکھتے ہیں  جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کے وقت غشی چھائی ہوئی ہو،حالانکہ اگر یہ اس وقت اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبرداری کرتے اور اچھی بات کہتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا۔تو جب جہاد کاحکم قطعی ہوگیا اور جہاد فرض کردیا گیا تو منافقوں  نے اس سے جان چھڑانے کیلئے کوششیں  شروع کردیں  حالانکہ اگر یہ ایمان اوراطاعت پر قائم رہ کر اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے وعدے میں سچے رہتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا۔( خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۴ / ۱۳۹ ،  مدارک ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ص۱۱۳۶ ،  ملتقطاً)

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں  کہ اگر تمہیں  حکومت ملے تو زمین میں  فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا تم اس بات کے قریب ہو کہ اگر تمہیں  حکومت ملے تو زمین میں  فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔

{فَهَلْ عَسَیْتُمْ: تو کیا تم اس بات کے قریب ہو۔} جب منافقوں  کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ مشرکین کے خلاف جہاد کریں  تو انہوں  نے جہاد میں  شرکت نہ کرنے سے متعلق یہ عذر پیش کیا کہ ہم مشرکوں  کے خلاف جہاد کیسے کریں  کیونکہ اس میں  ایک خرابی یہ ہے کہ انسانوں  کو قتل کرنا زمین میں  فساد پھیلانا ہے اور دوسری خرابی یہ ہے کہ عرب والے ہمارے رشتہ دارہیں  اور ہمارے قبیلوں  سے تعلق رکھتے ہیں  تو ان سے جنگ کرکے انہیں  قتل کرنارشتے داری کو توڑ دینا ہے اور یہ کوئی اچھا کام نہیں  ہے۔ ان کے رد میں  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اے منافقو! تم سے یہ بعید نہیں  کہ اگر تمہیں  حکومت مل جائے تو تم اپنی مرضی کے خلاف کام کرنے والے کو قتل کر کے زمین میں  فساد پھیلاؤ اور رشتے داری توڑ دو۔کیادورِ جاہلیت میں  تم آپس میں  لڑائی نہیں  کرتے تھے ؟اورکیا ا س دوران ایک دوسرے کو قتل نہیں  کرتے تھے؟ اور تم اپنی بیٹیو ں  کو زندہ دفن نہیں  کرتے تھے؟ کیا تمہاری یہ لڑائیاں  ، قتل اور بیٹیوں  کو زندہ دفن کر دینے جیسا گھناؤنا فعل زمین میں  فساد پھیلانا اور رشتے داری توڑ دینا نہیں  تھا؟ تو اب تم کس منہ سے یہ کہتے ہو کہ جہاد کرنا زمین میں  فساد پھیلانے اور رشتہ داری توڑ دینے جیسی خرابیوں  کا حامِل ہے اوران سب شواہد کے ہوتے ہوئے تمہارا جہاد میں  شریک نہ ہونے کے لئے یہ عذر پیش کرناکسی طرح بھی درست نہیں  ہے۔

اسلامی جہاد رحمت ہے یا فساد؟

            اس سے معلوم ہوا کہ منافقین اسلامی جہاد کو زمین میں  فساد اور خرابیوں  کاسبب سمجھتے تھے اس لئے جہاد سے منہ موڑتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے منافقوں  کا جو رد فرمایا اس سے معلوم ہواکہ منافقوں  کااسلامی جہاد کے بارے میں  یہ نظریہ غلط و باطل تھا اوراس سے ان کا مقصد صرف جہاد میں  جانے سے بچنا اور دوسروں  کو جہاد میں  شرکت سے روکنا تھا۔فی زمانہ بھی اسلام کے دشمن اسلامی جہاد پر اسی طرح کے اعتراض کرتے ہیں  اور ان اعتراضات کے ذریعے لوگوں  کے دلوں  سے اسلام کی محبت اور اس سے قلبی تعلق ختم کر کے اس کے خلاف نفرت



Total Pages: 250

Go To