Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْؕ-وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْؕ-وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اُنھوں  نے پھوٹ نہ ڈالی مگر بعد اس کے کہ اُنھیں  علم آچکا تھا آپس کے حسد سے اور اگر تمہارے رب کی ایک بات گزر نہ چکی ہوتی ایک مقرر میعاد تک تو کب کا ان میں  فیصلہ کردیا ہوتا اور بے شک وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں  ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں  نے پھوٹ نہ ڈالی مگر اپنے پاس علم آجانے کے بعد اپنے باہمی حسد کی وجہ سے اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک مقررہ مدت تک کی بات نہ گزر چکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا اور بیشک وہ لوگ جو ان کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس (قرآن)کے متعلق ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں  ہیں ۔

{وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ: اور انہوں  نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد ہی پھوٹ ڈالی۔} اس آیت میں  اہلِ کتاب کا حال بیان کیا جارہا ہے کہ انہوں  نے اپنے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد جو دین میں  اختلاف ڈالا کہ کسی نے توحید اختیار کی اور کوئی کافر ہوگیا ،وہ اس سے پہلے جان چکے تھے کہ اس طرح اختلاف کرنا اور فرقہ فرقہ ہوجانا گمراہی ہے لیکن اِس کے باوجود اُنہوں  نے آپس کے حسد کی وجہ سے ، ریاست وناحق کی حکومت کے شوق میں  اور نفسانی حَمِیَّت کے ابھارنے پر یہ سب کچھ کیا، اور اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ اپنے اس عمل کی وجہ سے عذاب کے مستحق ہو چکے تھے لیکن اگر تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے قیامت کے دن تک ان سے عذاب مُؤخّر فرمانے کی بات نہ گزر چکی ہوتی تو ان کافروں  پر دنیا میں  عذاب نازل فرما کر ان کے اور ایمان والوں  کے درمیان کب کا فیصلہ ہو چکا ہوتا۔

            اس آیت کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیاہے کہ اہلِ کتاب کو جب سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بِعثَت کی خبر ملی تو اس وقت انہوں  نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے حسد کی وجہ سے آپس میں  پھوٹ ڈالی۔( مدارک  ،  الشوریٰ  ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ص۱۰۸۴ ،  جلالین ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ص۴۰۲ ،  تفسیرکبیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۹ / ۵۸۸ ،  ملتقطاً)

{لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ: اس کے متعلق ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں  ہیں ۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے کے یہود ی اور عیسائی اپنی کتاب پر مضبوط ایمان نہیں  رکھتے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ یہود ی اور عیسائی اس قرآن کے متعلق شک میں  مبتلا ہیں  جس شک نے انہیں  دھوکے میں  ڈالا ہوا ہے۔(مدارک ، الشوریٰ ، تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ص۱۰۸۴ ،  بیضاوی ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۵ / ۱۲۵ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۴ / ۹۳ ،  ملتقطاً)

فَلِذٰلِكَ فَادْعُۚ-وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَۚ-وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَهُمْۚ-وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍۚ-وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْؕ-اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْؕ-لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْؕ-لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْؕ-اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَاۚ-وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اسی لیے بلاؤ اور ثابت قدم رہو جیسا تمہیں  حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں  پر نہ چلو اور کہو کہ میں  ایمان لایا اس پر جو کوئی کتاب اللہ نے اتاری اور مجھے حکم ہے کہ میں  تم میں  انصاف کروں  اللہ ہمارا تمہارا سب کا رب ہے ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا کیا کوئی حجت نہیں  ہم میں  اور تم میں  اللہ ہم سب کو جمع کرے گااور اسی کی طرف پھرنا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اسی لیے بلاؤاور ثابت قدم رہوجیسا تمہیں  حکم دیا گیاہے اور ان کی خواہشوں  کے پیچھے نہ چلو اور کہو کہ میں  اس کتاب پر ایمان لایا جو اللہ نے اتاری ہے اور مجھے حکم دیا گیاہے کہ میں  تمہارے درمیان انصاف کروں ۔ اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے۔ہمارے لیے ہمارا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑانہیں ۔ اللہ ہم سب کو جمع کرے گااور اسی کی طرف پھرنا ہے۔

{فَلِذٰلِكَ فَادْعُ: تو اسی لیے (انہیں )بلاؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اُن کفار کے اس اختلاف اور پَراگندگی کی وجہ سے انہیں  توحید اور سچے دین پر متفق ہونے کی دعوت دیں  اور آپ(ان کے انکار کی وجہ سے دل تنگ نہ ہوں  بلکہ) اس دین پر اور اس دین کی دعوت دینے پر ثابت قدم رہیں  جیسا آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا گیاہے اور ان کی باطل خواہشوں  کے پیچھے نہ چلیں  اور کہیں  کہ میں  اُس کتاب پر ایمان لایا جو اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ میں  اللہ تعالیٰ کی تمام کتابوں  پر ایمان لایاکیونکہ پھوٹ ڈالنے والے بعض کتابوں  پر ایمان لاتے تھے اور بعض سے کفر کرتے تھے، جیسا کہ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍۙ-وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًاۙ(۱۵۰) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّ‘‘(النساء:۱۵۰  ،  ۱۵۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں  کو نہیں  مانتے اور چاہتے ہیں  کہ اللہ اور اس کے رسولوں  میں  فرق کریں  اور کہتے ہیں  ہم کسی پرتو ایمان لاتے ہیں  اور کسی کا  انکار کرتے ہیں  اور چاہتے ہیں  کہ ایمان و کفر کے بیچ میں  کوئی  راہ نکال لیں ۔ تو یہی لوگ پکے کافر ہیں۔    مزید ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرما دیں  کہ مجھے حکم دیا گیاہے کہ میں  تمہارے درمیان تمام چیزوں  میں  ،تمام اَحوال میں  اور ہر فیصلہ میں انصاف کروں ۔اللہ تعالیٰ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے اور ہم سب اس کے بندے ہیں ۔ہم سے تمہارے اعمال کے بارے میں  نہیں  پوچھا جائے گا اورنہ تم سے ہمارے اعمال کے بارے میں  باز پُرس ہو گی بلکہ ہر ایک اپنے اپنے عمل کی جزا پائے گا۔ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑانہیں  کیونکہ حق ظاہر ہو چکا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گااور فیصلے کے لئے سب کو اسی کی طرف پھرنا ہے۔(مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ص۱۰۸۴-۱۰۸۵ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۴ / ۹۳ ،  ملتقطاً)

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو اللہ کے بارے میں  جھگڑتے ہیں  بعد اس کے کہ مسلمان اس کی دعوت قبول کرچکے اُن کی دلیل محض بے ثبات ہے ان کے رب کے پاس اور اُن پر غضب ہے اور اُن کے لیے سخت عذاب ہے۔

 



Total Pages: 250

Go To