Book Name:Yateem kisay kehtay hain?

وہ کر گئیں اور دَین نکال کر۔

کیا کبوتر سیِّد ہوتے ہیں ؟

سُوال : عوام میں یہ مشہور ہے کہ کبوتر سَیِّد ہیں یہ کہاں تک دُرُست ہے؟

جواب : عوام میں یہ غَلَط  مشہور ہے کوئی بھی  جانور سیِّدنہیں ہوتا۔ اَلبتہ حرم شریف کے کبوتر ان کبوتروں کی نسل میں سے ہیں جنہوں نے غارِ ثور کے دروازے پر گھونسلہ بنا کر انڈے  دیئے تھے ، چنانچہ جب کفّارِ ناہنجار سرکارِ عالی وقار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ڈھونڈ رہے تھے اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  غارِ ثور میں تشریف لے گئے تو “ اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے ایک  درخت کو غار کے دروازے پر اُگنے کا حکم دیا ، مَکڑی کو غار کے دروازے پر جالا تَننے کا حکم  دیا اور دو جنگلی کبوتر بھیجے وہ غار کے دروازے پر ٹھہر گئے اور گھونسلہ بنا دیا۔ مُشْرِکین یہ دیکھ کر واپس لوٹ گئے کہ غار میں کوئی بھی نہیں تو سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان کبوتروں پر اپنا دستِ شفقت پھیرا اور انہیں دُعائے خیر سے نوازا  تو حرم شریف کے کبوتر انہی کبوتروں کی نسل سے ہیں۔ “ ([1])  

مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : اس غار کے دروازے پر پہنچ کر بعض کافر بولے کہ اس کے اندر جا کے دیکھ لو تو دوسرے بولے کہ اگر اس میں کوئی گھسا ہوتا تو جالا اور کبوتری کے انڈے ٹوٹ جاتے ایک بولا کہ یہ جالاتیری پیدائش سے پہلے کا ہےحالانکہ حضور ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) کے اندر پہنچ جانے کے بعد وہ جالا مکڑی نے تنا تھا کبوتری نے انڈے دیئے تھے اگر رب(عَزَّ وَجَلَّ) چاہے تو اپنے محبوب(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)کو مکڑی کے جالے کے ذریعہ بچائے ، غضب کرے تو فرعون کو اس کے قلعہ کی دیواریں نہ بچا سکیں۔ بزرگانِ دِین(رَحِمَہُمُ اللّٰہُ  الْمُبِیْن) فرماتے ہیں کہ حرم کے کبوتر اسی کبوتری کی نسل ہیں جس نے وہاں انڈے دیئے تھے ان کا اب تک احترام ہے۔ ([2]) امام بوصیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :

ظَنُّوا الْحَمَامَ وَظَنُّوا الْعَنْکَبُوْتَ عَلٰی

                                                                                 خَیْرِ الْبَرِیَّةِ لَمْ تَنْسُجْ وَلَمْ تَحُمٖ        (قصیدۂ بردہ )

یعنی مشرکین نے کبوتری اور مکڑی کے بارے میں گمان کیا کہ یہ خیرُالْبَرِیّہ ، سَیِّدُ الْوریٰ ، جنابِ محمدِمُصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  پر(ان کی حفاظت کے لیے)جالا تَنْنے والی اور انڈے دینے  والی نہیں ہیں ۔   

کبُوترکے پاؤں سُرخ ہونے کا واقعہ

سُوال : کہتے ہیں کہ امامِ عالی مقام حضرتِ سیِّدُنا امامِ حُسینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے بعد کبوتر نے اپنے پاؤں خونِ امام سے تَرکیے اور کربلائے مُعلّٰی سے پرواز کرتا ہوا مدینۂ منوّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْماً میں سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں فریاد کے لیے حاضِر ہوا اُس وقت سے کبوتر کے پاؤں سُرخ ہو گئے۔ یہ بات کہاں تک دُرُست ہے؟

جواب : امامِ عالی مقام حضرتِ سیِّدُنا امامِ حُسینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی شہادت کے بعد کبوتر کا اپنے پاؤں خونِ امام سے تَر کرنے اور پھر کربلائے مُعلّٰی سے پرواز کرتے ہوئے راحتِ قلبِ ناشاد ، محبوبِ ربّ العباد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں فریاد کے لیے حاضِر ہونے کا واقعہ میری نظر سے نہیں گُزرا ، اَلبتہ تفسیرِ صاوی میں کبوتر کے پاؤں سُرخ ہونے کا اِیمان افروز واقِعہ کچھ یوں ہے : (طوفانِ نوح  گزرجانے کے بعد جب نوح عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کشتی کوہِ جُودی پر ٹھہر گئی تو) حضرتِ سیِّدُنا نُوح عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے زمین کی خبر لانے کے لیے کسی کو بھیجنے کا اِرادہ فرمایا تو سب سے پہلے مرغی نے عرض کی : میں زمین کی خبر لاؤں گی۔ آپ  عَلٰی  نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کے بازوؤں پر مہر لگا کر فرمایا : تجھ پر میری مہر لگ چکی ہے کہ تو ہمیشہ لمبی پرواز نہیں کر سکے گی اور میری اُمَّت تجھ سے فائدہ حاصل کرے گی۔ پھر ا ٓپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے کوّے کو بھیجا مگر وہ ایک مُردار کو دیکھ کر اُس پر اُتر پڑا اور واپس نہیں آیا۔ آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے اُس پر لعنت فرما دی اور اس کے لیے خوف میں مبتلا رہنے کی دُعا کر دی چُنانچہ کوّے کو حِلّ و حَرم میں کہیں بھی پناہ نہیں۔ پھر آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبوتر  کو بھیجا تو وہ زمین پر نہیں اُترا بلکہ مُلکِ سبا سے زیتون کی ایک پتّی چونچ میں لیکر آگیا۔ آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس سے فرمایا : تم زمین پر نہیں اُترے اِس لیے پھر جاؤ اور زمین کی خبر لاؤ چُنانچِہ کبوتر دوبارہ  روانہ ہوا اور مکۂ مکرّمہ زَادَہَا اللّٰہُ   شَرَفًا وَّ تَعْظِیْماً    میں حرمِ کعبۂ مُشرَّ فہ کی زمین پر اُترا اور دیکھ لیا



   [1] مُسندِ بزار ، مسند زید بن ارقم  ، ۱۰ / ۲۴۶ ، حدیث : ۴۳۴۴ مُلخصاً 

   [2] مرآۃ المناجیح ، ۸ / ۲۵۵



Total Pages: 10

Go To