Book Name:Yateem kisay kehtay hain?

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قبورِ مسلمین کا ادب واحترام کیجیے اور ان کو روندنے سے بچیے بالخصوص مکۂ مکرمہ ومدینۂ منورہ زَادَہُمَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً جانے والے عاشقانِ رسول جنَّتُ الْمَعْلیٰ اور جنَّتُ البقیع کے مَدْفُونین کی خدمت میں قبرستان کے  باہر ہی  سے کھڑ ے ہو کر سلام عرض کریں اور دُعا مانگیں کیونکہ اب صَحابۂ کرام ، اہلِ بیتِ اَطہار اور اَولیائےکرامرِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے مزارات اور عام مسلمین کی قبور کو  شہید کر دیا گیا ہے۔ اگرآپ اندر گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کا پاؤں کسی کے مزارشریف پر پڑ جائے اور بےاَدَبی ہو جائے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بےاَدَبی سے بچائے ،  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔

جو ہے باادب وہ بڑا بانصیب اور

                جو ہے بےادب وہ نہایت بُرا ہے  (وسائلِ بخشش)

بچّے کو سُلانے کیلئے اَفْیُون کھِلانا

سُوال : بچّے کو سُلانے کے لیے اَفیون کھِلانا کیسا ہے؟

جواب : فتاویٰ رضویہ جلد24صفحہ 198پر ہے : اَفیون حرام ہے ، (لیکن)نَجس نہیں ، (لہٰذا) خارجِ بدن پر اِس کا اِستعمال جائز ہے۔ بچے کو سُلانے یا رونے سے باز رکھنے کے لئے اَفیون دینا حرام ہے اور اس کا گناہ اس دینے والے پر ہے بچّے پر نہیں۔  

اَفیون ، بھنگ وغیرہ کو بطورِدَوا اِستعمال کرنا کیسا؟

سُوال : اَفیون ، بھنگ اور چَرس کو بطورِ دَوااِستِعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب : میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : اگر دوا کیلئے کسی مُرکّب میں اَفیون ، یا بھنگ یا  چرس کا اِتنا جُز ڈالا جائے کہ جس کا عقل پر اَصلاً اَثر نہ ہو(یعنی نَشہ نہ چڑھے تو)حَرَج نہیں بلکہ اَفیون میں اِس سے بھی بچنا چاہئے کہ اس خبیث کا اثر ہے کہ مِعدے میں سُوراخ کر دیتی ہے۔([1])

حامِلہ عورت کو طلاق دینے کا حکم

سُوال : کیا حامِلہ عورت  کو طلاق دینے سے طَلاق واقع  ہوجاتی ہے؟

جواب : حَمَل میں طَلاق نہ دی جائے لیکن پھر بھی  اگر کسی نے اپنی حامِلہ بیوی کو طلاق دی تو طلاق  وا قع ہو جائے گی۔ پارہ 28 سورۃُ الطّلاق کی آیت نمبر 4 میں خدائے رحمٰن  عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے :

وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّؕ-

ترجَمۂ کنزُالایمان : اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔

ایک اور جگہ اِرشاد ہوتا ہے :

وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّۚ- ۲۸ ، اَلطَّلاق : ۶)

ترجَمۂ کنزُ الایمان : اور اگرحمل والیاں ہوں تو انہیں نان و نفقہ دو یہاں تک کہ ان کے بچّہ پیدا  ہو ۔

قرآنِ پاک کا حامِلہ عورت کی عِدَّت اور اس کے نان نفقے کا  بیان کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حالتِ حَمَل میں طلاق واقِع ہو جا تی ہے۔ یاد رکھیے! حامِلہ عورتوں کی عِدَّت وَضْعِ حمل(یعنی بچّہ جننے تک ) ہے خواہ وہ عِدَّت طلاق کی ہو یا وفات کی۔ جیسے ہی بچہ پیدا ہوا عِدَّت ختم ہو جائے گی  مثَلاً ایک دِن میں بچّہ پیدا ہو گیا تو ایک ہی دن میں عِدَّت ختم اور اگر مثلاً چھ ماہ میں بچہ پیدا ہوا تو چھ ماہ تک عِدَّت رہے گی۔

جہیز کا مالِک کون؟

سُوال : جہیز مَرد یا عورت میں سے کس کی مِلک ہوتا ہے؟

 



   [1] فتاویٰ رضویہ ، ۲۵ / ۲۱۳



Total Pages: 10

Go To