Book Name:Yateem kisay kehtay hain?

لڑکے اور لڑکی کےبالغ ہونے کی عمر

سُوال : لڑکا اور لڑکی  کب بالغ ہو تے  ہیں؟

جواب : ہِجری سِن کے حساب سے 12سے 15سال کی عمر کے دَوران جب بھی   لڑکے کو اِنزال ہو یا سوتے میں اِحتِلام ہو یا اُس کے جماع سے عورت حاملہ ہو گئی ہو تو اُسی وَقت با لغ ہو گیا اور اُس پرغسل فرض ہو گیا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہِجری سِن کے مطابِق 15برس کا ہوتے ہی بالغ ہو جائے گا۔ اسی طرح ہِجری سِن کے حساب سے 9 سے 15سال کی عمر کے دَوران لڑکی کو جب بھی  اِحتِلام ہو یاحَیض آجائے یا حَمل ٹھہر جائے تو با لِغہ ہو گئی ورنہ ہجری سِن کے مطابِق15سال کی ہوتے ہی بالِغہ ہے۔([1])

قبر پر بیٹھنا حرام ہے

سُوال : قبر پر بیٹھنا کیسا ہے؟

جواب : قبر پر بیٹھنا حرام ہے۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250صَفحات پرمشتمل کتاب ، ’’ بہارِ شریعت ‘‘ جلداوّل صَفْحَہ 847 پر ہے : “ قبر پر بیٹھنا ، سونا ، چلنا ، پاخانہ ، پیشاب کرنا  حرام ہے۔ قبرِستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا اُس سے گزرنا  ناجائز ہے ۔ خواہ نیا ہونا اسے معلوم ہو یا اس کا گمان ہو۔ “ نبی ٔ پاک ، صاحِبِ لَولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : تم میں سے کسی کا اَنگاروں پر بیٹھنا اور ان کا اس کے کپڑے جلا کر جلد  تک پہنچ جانا اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ کسی قبر پر  بیٹھے۔ ([2])

حضرتِ سیِّدُنا عُمارَہ بن حَزْمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مجھے ایک قبرکے اُوپر بیٹھے دیکھا تو اِرشاد فرمایا : اے قبر والے! قبر کے اُوپربیٹھنے والے شخص !نیچے اُتر جا ، نہ تو قبر والے کو اِیذا  دے نہ وہ تجھے اِیذا دے۔([3])

مسلمانوں کی قبروں کو روندنا جائز نہیں

سُوال : قبرستان میں جا بجا قبریں ہوں تو کیا اپنے اَعِزہ واَقرِبا کو اِیصالِ ثواب کرنے کے لیے ان کی قبور تک  جا  سکتے ہیں؟

جواب : ایصالِ ثواب کرنے کے لیے اپنے عزیز و اَقارِب کی قبور پر جا سکتے ہیں لیکن وہاں تک پہنچنے کے لیے دوسرے مسلمانوں کی قبروں کو روندنا جائز نہیں۔ حَدِیْقَۂ نَدِیّۃ میں ہے : پَیر کی آفتوں میں سے قبروں پر چلنا بھی ہے۔([4]) اگر دوسری قبر وں پر پاؤں رکھے بِغیر اپنے اَعِزہ  و اَقرِبا  کی قبروں تک جانا ممکن نہ  ہو تو دُور ہی سے فاتِحہ پڑھ لیجیے کیونکہ قبروں پر جانا مستحب کام ہے اور مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھنا حرام ، مستحب کام کے لیے حرام کام کی شریعت میں اجازت نہیں۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت ، مجدِّدِ دین وملّت مولانا  شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : اِس کا لحاظ لازِم ہے کہ جس قبرکے پاس بالخصوص جانا چاہتا ہے اُس تک(ایسا) قدیم (یعنی پُرانا)راستہ ہو (جو کہ قبریں مٹا کر نہ بنایا گیا ہو) ، ا گر قبروں پر سے ہو کر جانا پڑے تو اجازت نہیں ، سرِراہ  دُور کھڑے ہو کر ایک قَبْر کی طرف مُتَوَجِّہ ہو  کر ایصالِ ثواب کر دے ۔ ([5])

حدیثِ پاک میں ہے کہ مجھے تلوار پر چلنا مسلمان کی قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے۔([6])بَحْرُالرَّائِق میں ہے : قبروں کی زیارت اورمسلمان مُردوں کے حق میں دُعا کرنے میں حَرَج نہیں بشرطیکہ قبریں روندی نہ جائیں۔([7]) فتح القدیر میں ہے : قبر پر بیٹھنا اور اس کو  روندنا مَکروہ ہے تو وہ لوگ جن کے رِشتہ داروں کے گِرد دوسروں کی قبریں ہوں اُن کا قبروں کو روندنا اپنے قریبی رشتہ دار کی قبر تک پہنچنے کے لیے مَکروہ ہے ۔([8])

 



   [1] اَلدُّرُّالْمُخْتار و رَدُّالْمُحْتار ، کتاب الحجر  ،  فصل: بلوغ الغلام بالاحتلام ، ۹ / ۲۵۹-۲۶۰ مُلَخَّصاً

   [2] مُسلِم ، کتاب الجنائز ، النھی عن الجلوس علی القبر...الخ ،  ص۴۸۳ ، حدیث : ۹۷۱

   [3] مَجْمَعُ الزَّوائِد ، کتاب الجنائز ، باب البناء علی القبور...الخ  ، ۳ / ۱۹۱ ، حدیث : ۴۳۲۱

   [4] حَدِیْقَة نَدِیّة  ، ۲ / ۵۰۴

   [5] فتاویٰ رضویہ ، ۹ / ۵۲۴

   [6] ابنِ  ماجہ  ، کتاب الجنائز ، باب  ما جاء  فی  النھی  عن  المشی...الخ  ، ۲ / ۲۴۹-۲۵۰ ، حدیث: ۱۵۶۷ ملتقطاً

   [7] بَحْرُالرّائِق  ، کتاب الجنائز ، فصل السلطان احق بصلاتہ ، ۲ / ۳۴۲

   [8] فتْحُ الْقَدِیر ، کتاب الصلاة ، باب الشھید  ، ۲ / ۱۰۲



Total Pages: 10

Go To