Book Name:Yateem kisay kehtay hain?

حاصل ہو سکتی ہے۔ بہرحال ایک مُحتاط مبلغِ دعوتِ اسلامی  کا واقِعہ پیش کیا جاتا ہے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو اس میں اِحتیاط کے کافی مشکبار مَدَنی پھول چننے کو ملیں گے چُنانچِہ ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی اپنے سفر میں بعض اوقات ایک ایسے گھر میں قِیام کرتے تھے جہاں تین سگے بھائی اکٹھے رہتے تھے۔ سب سے بڑا بھائی مُتَوَسِّطُ الْحال تاجِر تھا۔ اُس کی وفات ہو گئی ، ان مبلغِ دعوتِ اسلامی کو پھر سفر میں اُسی گھرمیں قِیام کرنا پڑا اور دَورانِ گفتگو یہ بات سامنے آئی کہ مرحوم کے دو نابالغ بچّے بھی ہیں اور تَرکہ بھی تقسیم نہیں ہوا۔ گھر کے سارے اَفراد مِل جُل کر اب بھی پہلے کی طرح کھاتے پیتے اور گھر کی تمام اَشیاء میں تَصَرُّف کرتے ہیں اور ان مبلغ کی بھی اِسی مال سے مہمان نوازی کی جائے گی۔ وہ گھبرا گئے اور اُنہوں نے مرحوم کے اُس بھائی کو جو اَب ان دو یتیم بچوں کا سرپرست تھا بتایا کہ میں آپ کے یہاں قیام کرسکتا ہوں اور نہ ہی کھا پی سکتا ہوں اور نہ ہی آپ کی گاڑی پر سوار ہو سکتا ہوں کیونکہ آپ کے گھر کی ہر چیز میں اب ان دو یتیم بچوں کا بھی  حصّہ شامل ہو گیا ہے اور میں ان یتیم بچوں کی چیزوں  میں کیسے تصرُّف کروں؟ بَہَرحال وہ مبلغِ دعوتِ اسلامی اُس گھر سے دوسری جگہ چلے گئے اور اُنہوں نے اپنے دِل کو مطمئن کرنے کے لیے دونوں یتیم بچوں کے لیے مُناسب رقم باصرار پیش کی اور یہ بھی نیّت شامل کی کہ میری وجہ سے جو جو اسلامی بھائی مُلاقات وغیرہ کے لیے آئے اور یہاں کھایا پیا ان کی بھی خلاصی ہو جائے ان مبلغِ دعوتِ اسلامی کے سمجھانے پر اب ان گھر والوں نے تَرکے کی ہر ہر شے کا حساب کر کے نابالغ بچوں کا حصّہ جُدا محفوظ کر لیا ہے۔ ([1])

(شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک مدنی مذاکرہ میں اپنا واقعہ یوں بیان فرمایا ہے :)میرے بڑے بھائی جب فوت ہوئے تو اس وقت تک والدِ مرحوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم کا تَرکہ تقسیم نہیں ہوا تھا۔ ان کے چھوڑے ہوئے مال ہی میں کاروبار ہوتا رہا۔ بڑے بھائی جان کا انتقال ہونے پر میں سخت آزمائش میں آ گیا کیونکہ ان کے پانچ یتیم بچے بھی تھے اور ان یتیم بچوں کی ماں بھی۔ اب بھائی کی ملکیت والی ہر چیز میں ان سب کا حق شامِل ہو گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے شریعت کے مطابق ترکہ تقسیم کیا اور ان کو زائد پیش کیا تاکہ میری طرف اُن کا کوئی حق رہ نہ جائے مگر پھر بھی خوف آتا تھا کہ کہیں ان یتیموں کے مال میں مجھ سے حق تَلفی نہ ہو گئی ہو۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اب میرے پانچوں بھتیجے بالغ ہو چکے ہیں اور میں نے اپنے پانچوں بھتیجوں اور ان کی امّی جان سے مُعافی حاصِل کر لی ہے۔ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  انہیں درازی عمر بالخیر عطا فرمائے اور ہر طرح سے اپنی حِفظ و امان میں رکھے ،

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔

یتیم مُعاف نہیں کر سکتا

سُوال : اگر یتیم بچّے بخوشی مُعاف کر دیں تو کیا معافی ہو سکتی ہے؟نیز مسائل معلوم نہ ہونے کے سبب جس نے نابالغ یا یتیم کا مال کھایا اور یہ بھی معلوم نہیں کہ کتنا کھایا اور اب وہ بچے بالغ ہو چکے ہیں اسے کیا کرنا چاہیے؟

جواب : نابالغ بچے مُعا ف نہیں کر سکتے ، اگر وہ مُعاف کر دیں تب بھی مُعاف نہیں ہو گا  لہٰذا   مسائل معلوم نہ ہونے کے سبب جس نے نابالغ یا یتیم کا مال کھایا تو وہ ظَنِ غالِب کا اِعتبار کرتے ہوئے اتنا مال اُن کو لوٹا ئے اور ساتھ میں ان سے معافی بھی مانگے۔ ہاں بالغ ہونے کے بعد وہ “ سابِقہ نابالغ یایتیم‘‘اپنی خوشی سے چاہیں تو مُعاف بھی کر سکتے ہیں لیکن معافی مانگنے کی بجائے اُن کا مال ہی لوٹانا چاہیے پھر اگر وہ مال لینے کی بجائے معاف کر دیں تو ان کی مرضی ہے  چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت ، مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمدرضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : یتیموں کا حق کسی کے معاف کئے معاف نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ خود یتیم کا دادا یا ماں کسی نابالغ کے ماں باپ اس کا حق کسی کو معاف کر دیں ہر گز معاف نہ ہو گا   فَاِنَّ الْوِلَایَۃَ لِلنَّظْرِ لَا لِلضَّرَرِ(کیونکہ ولایت وسرپرستی  نگرانی کے لئے حاصل ہوتی ہے نقصان دینے کے لئے نہیں۔ )بلکہ خود یتیم و نابالغ بھی معاف نہیں کر سکتے نہ ان کی معافی کا کچھ اعتبار ہے لِلْحِجْرِ التَّامِ عَمَّا ھُوَ ضَرَرٌ (کیونکہ نقصان دہ معاملہ میں تصرُّف کرنے سے انہیں مکمل روک دیا گیا ہے۔ )محض یتیموں کا حق ضرور دینا پڑے گا اور جو نکلوا سکتا ہے اسے چاہیے کہ ضرور دِلادے ، ہاں یتیم بالغ ہونے کے بعد معاف کرے تو اس وقت معاف ہو سکے گا۔ ([2])

 



   [1] میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!وہ محتاط  مبلغ  شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنَّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ تھے۔ (شعبہ فیضانِ  مدنی مذاکرہ)

   [2] فتاویٰ رضویہ ، ۶ / ۴۹۶ 



Total Pages: 10

Go To