Book Name:Yateem kisay kehtay hain?

ناجائز ہے کہ اُس پانی کا وہ بچہ مالک ہو جاتا ہے اور ہبہ نہیں کر سکتا پھر دوسرے کو اُس کا استعمال کیوں کر جائز ہو گا۔ اگر والدین بچہ کو اس لیے چیز دیں کہ یہ لوگوں کو ہبہ کر دے یا فقیروں کو صدقہ کر دے تاکہ دینے اور صدقہ کرنے کی عادت ہو اور مال و دُنیا کی محبت کم ہو تو یہ ہبہ وصدقہ جائز ہے کہ یہاں نابالغ کے مال کا ہبہ وصدقہ نہیں بلکہ باپ کا مال ہے اور بچہ دینے کے لیے وکیل ہے جس طرح عموماً دروازوں پر سائل جب سوال کرتے ہیں تو بچوں ہی سے بھیک دِلواتے ہیں۔ ([1]) - ([2])  

یتیم کے مال کا غیر محتاط اِستعمال

سُوال : جب گھر کا کوئی فرد فوت ہو جاتا ہے تو بعض اَوقات وہ یتیم بچّے اور مال چھوڑ جاتاہے اور اس کا ترکہ بھی  تقسیم نہیں کیا جاتا ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

جواب : علمِ دین سے دُوری اور جہالت کے سبب عموماً خاندانوں میں تَرکہ تقسیم نہیں کیا جاتا اکثر وُرَثاء  میں یتیم بچے بچیاں بھی شامل ہوتے ہیں اور لوگ بِلا جِھجک ان یتیموں کا مال کھاتے پیتے اور ہر طرح سے استِعمال کرتے ہیں حالانکہ یہ سب ناجائز ہے اور اس کی طرف کسی کی  توجُّہ ہی نہیں ہوتی۔ یاد رکھیے ! میت کے  وُرَثاء میں سے اگر کوئی یتیم ہو تو جب تک  ترکہ تقسیم کر  کے یتیم کا حصَّہ الگ نہ کیا جائے تب تک اس میں سے میت کے ایصالِ ثواب کے لیے صدقہ و خیرات وغیرہ بھی نہیں کر سکتے۔ پارہ 4 سورۃُ النسآء کی آیت نمبر10  میں خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :

اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْكُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰى  ظُلْمًا  اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-وَ  سَیَصْلَوْنَ  سَعِیْرًا۠(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان : وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دام جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے میں جائیں گے۔

اِس آیتِ مُبارکہ کے تحت مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : “ جب یتیم کا مال اپنے مال سے ملا کر کھانا (متعدد صورتوں میں )حرام ہوا تو علیٰحدہ طور پر کھانا بھی ضرور حرام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یتیم کو ہبہ دے سکتے ہیں مگر اس کا ہبہ لے نہیں سکتے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وارثوں میں جس کے یتیم بھی ہوں اس کے ترکہ سے نیاز ، فاتحہ خیرات کرنا حرام ہے اور اس کھانے کا استعمال حرام۔ اوّلاً مال تقسیم کرو پھر بالغ وارث اپنے مال سے خیرات کرے۔ “ مزید فرماتے ہیں : “ جب میت کے یتیم یا غائب وارث ہوں تو مالِ مشترک میں سے اس کی فاتحہ تیجہ وغیرہ حرام ہے کہ اس میں یتیم کا حق شامل ہے بلکہ پہلے تقسیم کرو  پھر کوئی بالغ وارث اپنے حصّہ سے یہ سارے کام کرے ورنہ جو بھی وہ کھائے گا دوزخ کی آگ کھائے گا۔ قیامت میں اس کے مُنہ سے دُھواں نکلے گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ یتیم کا مال ظلماً کھانے والے قیامت میں اس طرح اُٹھیں گے کہ ان کے مُنہ ، کان اور ناک سے بلکہ ان کی قبروں سے دُھواں اُ ٹھتا ہو گا جس سے وہ پہچانے جائیں گے کہ یہ یتیموں کا مال ناحق کھانے والے ہیں۔ “ ([3])

میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!آج کل حالات اِنتہائی ناگُفْتَہ بہ ہیں یتیموں کا مال کھانے سے بچنے کا ذہن ہی نہیں ہوتا۔ گھر میں کسی کے فوت ہو جانے پر اگر سارے وُرَثاء بالغ ہوں وہاں تو ایک دوسرے سے حُقُوق معاف بھی کروائے جا سکتے ہیں اور اگر ایک بھی نابالغ بچہ وارِثوں میں شامل ہو تو پھر جو لوگ شریعت کے پابند ہیں وہ سخت امتِحان میں پڑجاتے ہیں کیونکہ فی زمانہ خاندان والوں کا ذِہن بنانا ہر ایک کے بس کا کام بھی نہیں ہے۔ اگر کہیں صراحتاً یا دلالۃً معلوم ہو  کہ میت کے گھر والوں نے ابھی تک  ترکہ تقسیم نہیں کیا اور میت کے وُرَثاء میں نابالغ بھی ہیں تو وہاں کھانے پینے وغیرہ سے اِجتناب کیا جائے۔ ([4])

یتیم کا مال کھانے سے بچنے کا جذبہ

سُوال : یتیم کا مال کھانے سے بچنے کے حوالے سے ایک دو واقعات بیان فرما دیجیے تاکہ یتیم کا مال کھانے سے بچنے کاجذبہ پیدا ہو ۔  

جواب : یتیم کا مال ناحق  کھانے کی قرآن وحدیث میں جو وعیدات ہیں ان پر غو ر کر کے اپنے آپ کو ڈ رایا جائے تو  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے بچنے میں کامیابی



   [1] بہارِ شریعت ، ۳ / ۸۱ ، حصہ : ۱۴

   [2] نابالغ سے پانی بھروانے اور پانی شرعاً اس کی مِلک ہونے یا نہ ہونے کی تفصیلات جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے “ پانی کے بارے میں اہم معلومات “ کے صفحہ 20 تا 25  کا مطالعہ کیجیے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ) 

   [3] دُرِّمنثور ، پ۴ ، النسآء ، تحت الآیة : ۱۰ ، ۲ / ۴۴۳  باختلاف بعض الالفاظ

   [4] میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر کسی کے  گھر میں فوتگی ہو جائے اور میت  ترکہ چھوڑے  تو جلد از جلد دارالافتاء اہلسنَّت سے شرعی رہنمائی لے کر اس ترکے کو وُرَثاء میں تقسیم کر لیا جائے اسی میں بچت اور عافیت ہے ۔



Total Pages: 10

Go To