We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Yateem kisay kehtay hain?

زیورات وغیرہ جو لڑکے والوں کی جانب سے لڑکی کو ملے ہیں یہ سب لڑکی کی مِلکیَّت ہوں گے۔ پاک و ہند میں ایسا ہی عُرف ہے کہ شادی کے وقت لڑکی کو مالِک بنا کر زیورات وغیرہ دے دیئے جاتے ہیں نہ کہ عاریۃً (واپس لی جانے والی چیز)طلاق کے بعد اگرکسی برادری (خاندان)میں یہ عُرف ہو کہ لڑکے والے اپنے زیورات واپس لے لیتے ہیں تو اس عُرف کا اعتبار نہ ہو گا۔لڑکی جس چیز کی مالِک ہو چکی ہے، اس میں برادری(خاندان) والے اگر یہ فیصلہ کریں کہ طلاق کے بعد اس سے اس کی ملکیت سلب کر لی جائے گی تو یہ رَواج شریعت کے خلاف ہے۔ ہاں! اگر کسی برادری(خاندان)میں یہ رَواج ہو کہ دیتے وقت مالِک بنا کر نہ دیتے ہوں بلکہ عارِیت کے طور پر دیتے ہوں اور برادری(خاندان) والے اس عُرف پر شاھد ہوں تو اس عُرف کا اعتبار ہو گا اور لڑکی مالِک نہ ہو گی۔(1)

یہاں تک کہ اگر باپ نے بیٹی کے لیے جہیز تیار کیا اور اسے بیٹی کے  سپرد  کر دیا یعنی مالِکانہ طور پر دے دیا  تو اب باپ بھی واپس نہیں لے سکتا جیسا کہ دُرِّمختار میں ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیٹی کو کچھ جہیز دیا اور وہ اس کے سپرد بھی کر دیا تو اب اس سے واپس نہیں لے سکتا اور نہ ہی اس کے مرنے کے بعد اُس کے وارث واپس لے سکتے ہیں بلکہ وہ خاص عورت کی مِلکیَّت ہے اور اسی پر فتویٰ دیا

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ

1…… وقارُالفتاویٰ،۳/۲۵۶ ملخصاً


 

 



Total Pages: 28

Go To