Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

میں قحط پڑا توحضرت سیدنا ابوبکر صدیق  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے لوگوں سے فرمایا : تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی یہاں تک کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ   تمہیں اس قحط سے نجات دے گا۔ پھر جب اگلا دن ہوا تو ان کے پاس خوشخبری دینے والا آگیا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے پاس گندم اور سامان خوراک کے ایک ہزار اونٹ آرہے ہیں۔ (پھر جب حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے پاس گندم اور دیگر کھانے کی چیزوں کے ایک ہزار اونٹ آئے) تو اگلے روز تاجر لوگ آپ کے گھر پہنچ گئے اور ان کے دروازے پر دستک دی۔ آپ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہباہر تشریف لائے اور ان سے پوچھا : تم لوگ کیا چاہتے ہو؟انہوں نے کہا : ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کے گندم اور دیگر اشیاء کے ایک ہزار اونٹ آئے ہیں ، آپ وہ ہمیں فروخت کردیں تاکہ مدینہ منورہ کے ضرورت مندوں پر رِزْق کی وسعت ہوجائے۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے ارشاد فرمایا : اندر آجاؤ۔ وہ لوگ اندر گئے تو ایک ہزار اونٹوں کا بوجھ گندم وغیرہ کی صورت میں آپ کے گھر میں پہنچ چکا تھا۔ آپ نے ان سے پوچھا : تم لوگ ملکِ شام کے نرخوں کے مطابق کیا نفع دو گے؟انہوں نے کہا : دس روپے کے بارہ روپے دیں گے یعنی دس روپے پر دو روپے نفع ، آپ نے ارشادفرمایا : مجھے اس سے زیادہ نفع مل رہاہے۔ تاجروں نے کہا : دس روپے کے چودہ روپے لے لیں۔ آپ نے فرمایا : مجھے زیادہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا : دس کے پندرہ لے لیں۔ آپ نے فرمایا : مجھے اس سے زیادہ نفع مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا : مدینہ کے تاجر توہم ہیں ، آپ کو کون زیادہ نفع دے رہا ہے؟ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے ارشاد فرمایا : مجھے ایک روپے پر دس روپے منافع مل رہا ہے ، تم اس سے زیادہ دو گے؟انہوں نے کہا : ہم اتنا منافع نہیں دے سکتے۔ آپ نے فرمایا : اے تاجروں کی جماعت!اس بات پر گواہ ہوجاؤ کہ میں نے یہ تمام اشیاء خوردنی مدینے کے ضرورت مندوں کے لئے صدقہ کردی ہیں۔ حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما   فرماتے ہیں : میں جب رات کو سویا تو خواب میں سید عالم ، نور مجسم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی زیارت کی ، آپ نے نور کی چادر پہن رکھی تھی ، مبارک ہاتھوں میں نور کی چھڑی اور پاؤں مبارک میں جو نعلین تھے ان کے تسمے بھی نورانی تھے۔ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان یارسولَاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!آپ کی طرف میرا اشتیاق بڑھتا جاتا ہے۔ سرکار مدینہ ، راحت قلب وسینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : میں جلدی میں ہوں ، عثمان نے ایک ہزار اونٹ کا بوجھ گندم وغیرہ صدقہ کیا ہے۔  اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے عثمان کا یہ عمل قبول فرماکر جنتی حور سے ان کا نکاح فرمایا ہے۔ (الریاض النضرۃ ، ۲ / ۴۳)

چالیس دن غلہ روکنا

          حضرتِ سیِّدُنا عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے مروی ہے کہ رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جو چالیس دن غلہ روکے کہ اس کے مہنگا ہونے کا انتظار کرے تو وہ  اللّٰہعَزَّوَجَلَّسے دورہوگیا ، اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس سے بیزار ہوگیا ۔

(مشکاۃ المصابیح ، کتاب البیوع ، باب الاحتکار  ، ۱ / ۵۳۶ ، حدیث : ۲۸۹۶)

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : چالیس دن کا ذکر حد بندی کے لئے نہیں ، تاکہ اس سے کم اِحتکار (یعنی غلہ روکنا) جائز ہو ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ جو اِحتکار کا عادی ہو جائے اس کی یہ سزا ہے ۔ چالیس دن کوئی کام کرنے سے عادت پڑ جاتی ہے ، اس لئے چالیس دن نماز باجماعت کی تکبیر اولیٰ پانے کی بڑی فضیلت ہے کہ اتنی مدت میں وہ جماعت کا عادی ہوجائے گا ۔ ہر جگہ اِحتکار میں یہ ہی قید ہے کہ غلہ کی گِرانی کے لئے اس کا ذخیرہ کرنا ممنوع ہے ، وہ بھی جب کہ



Total Pages: 42

Go To