Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

          خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمان ہے :  احسان جتانے والا ، والدین کا نافرمان اور شراب کا عادی جنت میں نہیں جائے گا ۔    (نسائی، کتاب الاشربۃ،الروایۃ فی۔۔۔الخ،ص۸۹۵ ، حدیث : ۵۶۸۳)

           مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یعنی یہ لوگ اَوَّلًا جنت میں جانے کے مستحق نہ ہوں گے ۔ خیال رہے کہ گناہِ صغیرہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ بن جاتا ہے ۔ شراب خوری خود ہی سخت جرم ہے پھر اس پر ہمیشگی ڈبل (Double)جرم ۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۶ / ۵۳۰)

اِحسان کا بدلہ چکایا(حکایت:5)

          حضرت سیدنا عُبَید اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہمابہت بڑے سخی تھے۔ ایک دن آپ اپنے گھر کے صحن میں موجود تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی : اے ابن عباس!میرا آپ پر ایک احسان ہے اور مجھے اس کے بدلے کی حاجت ہے۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے اسے غور سے دیکھا لیکن پہچان نہ سکے ، دریافت فرمایا : تمہارا مجھ پر کیا احسان ہے؟اس نے عرض کیا : ایک دفعہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ زمزم شریف کے کنویں کے پاس موجودتھے ، آپ کا غلام آپ کے لئے کنویں سے آبِ زمزم نکال رہا تھا اور سورج کی تَمازَت (یعنی گرمی)آپ کو  جھلسا رہی تھی ، یہ دیکھ کر میں نے اپنی چادر سے آپ پر سایہ کردیا یہاں تک کہ آپ آبِ زم زم پی کر فارغ ہوگئے۔ حضرت سیدنا عُبَید اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہمانے ارشاد فرمایا : ہاں! مجھے یہ بات یاد آگئی ، پھر آپ نے غلام سے فرمایا : تمہارے پاس کتنا مال موجود ہے؟ اس نے عرض کی : دو سو دینار اور دس ہزار درہم۔ ارشاد فرمایا : یہ سب اِسے دیدو اور میں نہیں سمجھتا کہ اِن سے اِس کے احسان کا بدلہ پورا ہوا ہے۔ (المستطرف  ، ۱ / ۲۷۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(4) حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے

           نبیِّ اکرم ، نورِ مجسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا : اِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَاِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَیعنی   حَسَد سے بچو وہ نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے جیسے آگ خشک لکڑ ی کو۔  (ابوداوٗد،کتاب الادب،باب فی الحسد،۴ / ۳۶۰ ، حدیث : ۴۹۰۳)

          حضرت علامہ علی قاری علیہ رحمۃ اللّٰہ الباری فرماتے ہیں : یعنی تم مال اور دُنیوی عزت وشہرت میں کسی سے حَسَد کرنے سے بچو کیونکہ حاسِد حسد کی وجہ سے ایسے ایسے گناہ کربیٹھتا ہے جو اس کی نیکیوں کو اسی طرح مٹا دیتے ہیں جیسے آگ لکڑی کو ، مثلاً حاسِد مَحسُود کی غیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی نیکیاں محسود کے حوالے کردی جاتی ہیں ، یوں مَحسُود کی نعمتوں اور حاسِد کی حسرتوں میں اِضافہ ہوجاتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح ، ۸ / ۷۷۲ ، تحت الحدیث : ۵۰۳۹ملخصًا)

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : حسدوبُغض ذریعہ بن جاتا ہے نیکیوں کی بربادی کا یعنی حاسد ایسے کام کر بیٹھتا ہے جس سے نیکیاں ضبط ہو جائیںیاحاسد و بغض والے کی نیکیاں محسود کو دے دی جائیں گی یہ خالی ہاتھ رہ جائے گا۔ خیال رہے کہ کفر و اِرتداد کے سواء کوئی گناہ مؤمن کی نیکیاں برباد نہیں کرتا ، ہاں! نیکیوں سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ، رب تعالیٰ فرماتا ہے :  اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-

{ترجمۂ کنزالایمان : بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں ۔ ۱۲ ، ھود : ۱۱۴)}    (مراٰۃ المناجیح ، ۶ / ۶۱۵)

 



Total Pages: 42

Go To