Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

          یاربِّ مصطَفٰے عَزَّوَجَلَّ ہم تجھ سے ایمان وعافیَّت کے ساتھ مدینے میں شہادت ، جنّتُ البقیع میں مدفَن اور جنّتُ الفردوس میں مَدَنی محبوبصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے پڑوس کا سُوال کرتے ہیں۔

ایمان پہ دے موت مدینے کی گلی میں

مدفن مِرا محبوب کے قدموں میں بنا دے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(2) بارگاہِ رسالت میں بے ادبی

 اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی شان ایسی اَرْفع واعلیٰ ہے کہ جن کی زیارت کرنے والے خوش نصیب صحابی بن گئے ، جن کی تسکین سے روتے ہوئے ہنس پڑیں ، جن کے لعابِ دہن سے مریضوں کو شفا ملی ، جن کے دَرسے آج بھی حاجت مند منہ مانگی مرادیں پاتے ہیں ، صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ درخت ، جانور اورپتھربھی جن کا حکم بجالانے میں پیش پیش دکھائی دیں ، ایسے شان والے مَدَنی تاجدار ، رسولوں کے سالار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے دربار کے آداب بھی بہت اعلیٰ ہیں ، قراٰن پاک پارہ26سورۂ حجرات کی دوسری آیت میں ارشادِ ربِّ پاک ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)  (پ۲۶ ، الحجرات:۲)

ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔

        صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں : اس آیت میں حضور کا اِجلال و اِکرام و ادب واِحترام تعلیم فرمایا گیا اور حکم دیا گیا کہ نِدا کرنے(یعنی پکارنے) میں ادب کا پورا لحاظ رکھیں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہیں اس طرح نہ پکاریں بلکہ کلماتِ اَدب و تعظیم و توصیف وتکریم واَلقابِ عظمت کے ساتھ عرض کرو جو عرض کرنا ہو کہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے ۔ (خزائن العرفان)

وہ اہلِ جنت سے ہیں(حکایت:3)

          حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے مَروی ہے کہ یہ آیت ثابِت بن قَیْس بِنْ شَمَّاس ( رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)کے حق میں نازل ہوئی انہیں ثِقْلِ سماعت (یعنی اُونچا سننے کا مرض )تھا اور آواز ان کی اونچی تھی ، بات کرنے میں آواز بلند ہوجایا کرتی تھی ، جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور کہنے لگے کہ میں اہلِ نار سے ہوں ، حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے حضرت سعد ( رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)سے ان کا حال دریافت فرمایا ، انہوں نے عرض کیا کہ وہ میرے پڑوسی ہیں اور میرے علم میں انہیں کوئی بیماری تو نہیں ہوئی ، پھر آکر حضرت ثابت( رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) سے اس کا ذکر کیا ، ثابت نے کہا ، یہ آیت نازل ہوئی اور تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں تو میں جہنّمی ہوگیا ، حضرت سعد ( رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)نے یہ حال خدمتِ اقدس میں عرض کیا تو حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا کہ وہ اہلِ جنت سے ہیں ۔(خزائن العرفان)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دربارِ رسالت کے آداب ربِّ کائنات نے بیان فرمائے

 



Total Pages: 42

Go To