Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

          منقول ہے کہ سرکارِنامدار ، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن کچھ لوگوں کو پیش کیا جائے گا جن کے پاس تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں ہوں گی لیکن جب انہیں لایا جائے گا تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّان کی تمام نیکیوں کو باطل قرار دے گا اور پھر انہیں دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ عرض کی گئی : یا رسولَ اللّٰہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ارشاد فرمایا : وہ لوگ نماز پڑھتے ، روزہ رکھتے ، زکوٰۃ دیتے اور حج کرتے تھے لیکن جب ان کے سامنے کوئی حرام چیزآتی تھی تو اسے لے لیتے تھے چنانچہاللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے ان کے اعمال کو باطل کردیا۔ (کتاب الکبائر ، ص۱۳۶)

حلال کھانا اصلاح کے لئے ضروری ہے

          حضرتِ سیِّدُنا علّامہ مُلّا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِینقل فرماتے ہیں : حنَفیوں کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُنا اِمامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے شاگرد رشید حضرتِ سیِّدُنا اِمام ابو عبد اللّٰہ محمد بن حسن شَیْبانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّ بَّانِیسے کسی نے عرض کی : آپ نے علم تصوف سے متعلق کوئی تصنیف کیوں نہیں فرمائی ؟ فرمایا : میں نے اس علم میں ایک کتاب تصنیف کی ہے ، پوچھا : وہ کونسی ؟ فرمایا : ’’کِتَابُ الْبَیْع‘‘ (وہ کتاب جس میں خرید و فروخت کے متعلق مسائل موجود ہوں)کیونکہ جسے اپنی خرید و فروخت کے جائز و ناجائز ہونے کا علم نہیں ہوگا وہ حرام مال کھائے گا ، اور جو حرام کھائے اس کی اصلاح کبھی نہیں ہوسکتی ۔  (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق  ، ۹ / ۱۳۳ ،  تحت الحدیث : ۵۲۸۳)

حرام کے ایک درہم کا اثر

          حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہما   فرماتے ہیں : جس نے 10 درہم کا کپڑا خریدا اور اس میں ایک درہم حرام کا تھا تو جب تک وہ لباس اس کے بدن پر رہے گا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کی کوئی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ پھر آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر ارشاد فرمایا : اگر میں نے یہ بات تاجدارِ رسالت ، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے نہ سنی ہو تو میرے کان بہرے ہو جائیں۔ (مسند احمد ، ۲ / ۴۱۶ ، حدیث : ۵۷۳۶)

دُعاقبول نہ ہونے کاسبب(حکایت:32)

          ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کسی مقام سے گزرے تودیکھاکہ ایک شخص ہاتھ اٹھائے رو رو کر بڑے رِقَّت انگیز انداز میں مصروفِ دعا تھا۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اسے دیکھتے رہے پھربارگاہِ خداوندی میں عَرْض گزار ہوئے : اے میرے رحیم وکریم پروردگار! عَزَّوَجَلَّ تُو اپنے اس بندے کی دعا کیوں نہیں قبول کررہا؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی طرف وحی نازل فرمائی : اے موسیٰ!   اگر یہ شخص اتنا روئے ، اتنا روئے کہ اس کا دَم نکل جائے اور اپنے ہاتھ اتنے بلند کرلے کہ آسمان کو چھولیں تب بھی میں اس کی دُعا قبول نہ کرو ں گا۔ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے عرض کی : میرے مولیٰ! عَزَّوَجَلَّ اس کی کیا وجہ ہے ؟ارشاد ہوا : یہ حرام کھاتا اور حرام پہنتا ہے اور اس کے گھر میں  حرام مال ہے۔ (عیون الحکایات،الحکایۃ الثانیۃ والخمسون بعد الثلاثمائۃ  ، ص۳۱۲)

مالِ حرام سے جان چھڑا لیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کوئی شخص جتنا بھی مالِ حرام جمع کرلے ، ایک دن ایسا آئے گا کہ اسے یہ سارا مال دنیا میں ہی چھوڑ کر خالی ہاتھ دُنیا سے جانا ہوگا کیونکہ کفن میں تھیلی ہوتی ہے نہ قبر میں تجوری ، پھر قبر کو نیکیوں کا نُور روشن کرے گا نہ کہ سونے چاندی کی چمک دمک !الغرض یہ دولت فانی ہے اور ہِرتی پھرتی چھاؤں ہے کہ آج ایک کے پاس تو کل کسی دوسرے کے پاس اور پرسوں کسی تیسرے کے پاس



Total Pages: 42

Go To