Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

          میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فتاویٰ رضویہ جلد16صفحہ311تا313 پرمسجد میں دنیا کی باتیں کرنے کے حوالے سے مختلف روایات نقل کی ہیں ، ان میں سے منتخب روایات پڑھئے اور عبرت حاصل کیجئے ، چنانچہ

          ٭امام ابو عبداﷲنسفی (علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی)نے مدارک شریف میں حدیث نقل کی کہ : اَلْحَدِیْثُ فِی الْمَسْجِدِ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ الْبَھِیْمَۃُ الْحَشِیْشَمسجد میں دنیا کی بات نیکیوں کو اس طرح کھاجاتی ہے جیسے چوپایہ گھاس کو۔

 (تفسیرنسفی،سورۂ لقمان،تحت الآیۃ : ۷ ، ص ۹۱۶)

          ٭غمزالعیون میں خزانۃ الفقہ سے ہے : مَنْ تَکَلَّمَ فِی الْمَسَاجِدِ بِکَلاَمِ الدُّنْیَا اَحْبَطَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہُ عَمَلَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً جو مسجد میں دنیا کی بات کرے اﷲتعالٰی اس کے چالیس برس کے عمل اکارت فرمادے۔ ( غمزعیون البصائر ، ۳ / ۱۹۰)

          یہ روایات نقل کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں : اَقُوْلُ:وَمِثْلُہُ لَایُقَالُ بِالرَّایِٔ (یعنی میں کہتا ہوں کہ اس قسم کی بات رائے اور اٹکل سے نہیں کہی جاسکتی۔ ت)

          ٭رسولُاللّٰہصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : سَیَکُوْنُ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ یَکُوْنُ حَدِیْثُھُمْ فِیْ مَسَاجِدِ ھِمْ لَیْسَ لِلّٰہِ فِیْہِمْ حَاجَۃٌ  یعنی آخر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے کہ مسجد میں دنیا کی باتیں کریں گے اﷲعَزَّوَجَلَّ  کو ان لوگوں سے کچھ کام نہیں۔ (مواردالظمآن الی زوائدابن حبان،کتاب المواقیت،باب الجلوس فی المسجد لغیر الطاعۃ ، ص۹۹ ، حدیث : ۳۱۱)

          ٭حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے : دنیا کی بات جبکہ فی نفسہٖ مباح اور سچی ہو مسجد میں بلاضرورت کرنی حرام ہے ضرورت ایسی جیسے معتکف اپنے حوائج ضروریہ کے لئے بات کرے ، پھر حدیث مذکور ذکر کرکے فرمایا : معنی حدیث یہ ہیں کہ اﷲتعالیٰ ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہ کریگا اور وہ نامُرادو محروم وزِیاں کار اور اِہانت وذِلّت کے سزاوار ہیں۔  (حدیقہ ندیہ ، ۲ / ۳۱۶ )

          ٭اسی میں ہے : وَرُوِیَ اَنَّ مَسْجِدًا مِّنَ الْمَسَاجِدِ اِرْتَفَعَ اِلَی السَّمَائِ شَاکِیًا مِّنْ اَھْلِہٖ یَتَکَلَّمُوْنَ فِیْہِ بِکَلَامِ الدُّنْیَا فَاسْتَقْبَلَتْہُ الْمَلٰئِکَۃُ وَقَالُوْابُعِثْنَا بِھَلَاکِھِمْ یعنی مروی ہوا کہ ایک مسجد اپنے رب کے حضور شکایت کرنے چلی کہ لوگ مجھ میں دنیا کی باتیں کرتے ہیں ملائکہ اسے آتے ملے اور بولے ہم ان کے ہلاک کرنے کو بھیجے گئے ہیں۔  (حدیقہ ندیہ ، ۲ / ۳۱۸ )

          ٭اسی میں ہے : وَرُوِیَ اَنَّ الْمَلٰئِکَۃَ یَشْکُوْنَ اِلَی اﷲِتَعَالٰی مِنْ نَتْنِ فَمِ الْمُغْتَابِیْنَ وَالْقَائِلِیْنَ فِی الْمَسَاجِدِ بِکَلَامِ الدُّنْیَا یعنی روایت کیا گیا کہ جو لوگ غیبت کرتے ہیں(جو سخت حرام اور زنا سے بھی اشد ہے)اور جو لوگ مسجد میں دنیا کی باتیں کرتے ہیں ان کے منہ سے وہ گندی بدبو نکلتی ہے جس سے فرشتے  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے حضور ان کی شکایت کرتے ہیں۔  (حدیقہ ندیہ ، ۲ / ۳۱۸ )

          سبحٰن اﷲ!جب مباح وجائز بات بلا ضرورت شرعیہ کرنے کو مسجد میں بیٹھنے پر یہ آفتیں ہیں توحرام و ناجائز کام کرنے کا کیا حال ہوگا۔ (فتاوی رضویہ ، ۱۶ / ۳۱۲)

مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے والوں کو نصیحت(حکایت:27)

          نَاصِحُ الْاُمَّۃِ علامہ عبدالغنی نابلسیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں ملک شام کے شہر دِمشق کی



Total Pages: 42

Go To